دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کوئی مانے یا نہ مانے...
زین سہیل وارثی
زین سہیل وارثی
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ "کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارا سسٹم تباہ ہو چکا ہے" یقیناً ایک اہم اعتراف ہے۔مگر جناب وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب، اگر جان کی امان پاؤں تو ایک عرض ہے۔
س سے سوال یہ ہے کہ اس ملک میں آخر ن سے نظام کب قائم ہوا تھا؟
ت سے تعلیمِ عامہ کا معیار زبوں حال ہے۔
ص سے صحتِ عامہ کی سہولیات ناکافی ہیں۔
ا سے امن و امان مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔
م سے معیشت تنزلی کا شکار ہے۔
س سے سیاست اصولوں سے عاری دکھائی دیتی ہے۔
ا سے انتخابات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
ج سے جمہوریت کمزور ہے۔
ع سے عدل و انصاف عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔
ب سے بنیادی سہولیات، یعنی گ سے گیس، پ سے پانی اور ب سے بجلی، آج بھی ہر شہری کو یکساں میسر نہیں۔
پھر آپ کا یہ دعویٰ کہ نظام تباہ ہو چکا ہے، عرض یہ ہے کہ اس ملک میں حقیقی معنوں میں ن سے نظام نافذ کب ہوا تھا کہ ہم اس کے ٹوٹنے پر حیران ہوتے؟
آج کی ح حقیقت یہ ہے کہ:
م سے مہنگائی ہے۔
ظ سے ظلم ہے۔
ب سے بدامنی ہے۔
ع سے عدم برداشت ہے۔
ٹ سے ٹیکس چوری ہے۔
ک سے کرپشن ہے۔
ا سے ایکسٹنشن کی روایت ہے۔
ز سے زبوں حالی ہے۔
ق سے قرضوں کا بوجھ ہے۔
س سے سودی نظام ہے۔
پ سے پٹواری کلچر ہے۔
م سے مطلق العنانیت کے رجحانات ہیں۔
ق سے قطبیت ہے۔
ف سے فرقہ واریت ہے۔
ع سے عصبیت ہے۔
پ سے پولیس ہے،
ل سے لاٹھی ہے،
اور اکثر اس کا رخ ع سے عوام کی طرف ہوتا ہے۔
ا سے اشرافیہ ہے،
م سے مراعات ان کے لیے ہیں،
ر سے رعایت بھی انہی کے لیے ہے،
ا سے استثنا بھی انہیں حاصل ہے۔
پ سے پاکستان زندہ باد!
مگر
ع سے عوام پریشان حال ہیں۔
م سے مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔
ح سے حال ہے جو ب سے بدحال ہے۔
ا سے امید، جو کبھی دلوں میں زندہ تھی،
آج ن سے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔
آخر میں وزیرِ داخلہ صاحب کی نذر:
"نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔"
"اس سب میں سب کا حصہ ہے، بقدرِ جثہ سہی"
واپس کریں