منظر الحق
گھر انسان کی نجی دنیا ہے، مگر جیسے ہی وہ دروازے سے باہر قدم رکھتا ہے، وہ ایک اجتماعی معاشرے کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہاں اس کی ہر عادت، حرکت اور رویہ دوسروں کو متاثر بھی کرتا ہے اور اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اخلاق کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے،ہر شخص کو کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور اس کی ساکھ متعین ہوتی ہے۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں, اگر ہم نے کسی کو گالی نہیں دی ,اور کسی سے جھگڑا نہیں کیا تو ہم مہذب قرار پائیں گے ۔ حالانکہ تہذیب کا تعلق صرف زبانی جمع خرچ سے نہیں ہے،بلکہ روزمرہ کے معمولات سے بھی ہے اور یہی انسان کی پہچان کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سرِ بازار ناک میں کھدائ کرنا، ناک کی رطوبت ادھر اُدھر پھینکنا، جگہ جگہ بلغم تھوکنا، پان یا گٹکے کی پیک سے دیواروں اور سڑکوں پر نقش و نگار بنانا یا بالوں کی خشکی جھاڑنا۔یہ سب ایسے افعال ہیں جو نہ صرف گھناؤنے ہیں، بلکہ دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بھی بنتے ہیں۔
اسی طرح بعض حضرات ہر چند قدم چلنے کے بعد ،اپنے جسم کے حساس اعضاء کو کھجانے کی عادت ہوتی ہے اور وہ سارے بازار کو اپنی ذاتی آرام گاہ تصور کرتے ہیں۔ انھیں اگر واقعی کوئ طبی مرض لاحق ہے،پھر کسی مناسب مقام پر اس فعل کا ارتکاب کرنا چاہیئے اور وہ زیادہ مہذب اور باوقار طرزِ عمل ہے۔
عوامی جگہوں پر بلند آواز میں گفتگو، (موبائل فون) برقی باتونی آلے پر چیخ چیخ کر بات کرنا اور بلا ضرورت شور مچانا بھی دوسروں کے آرام و سکون میں دخل در معقولات کا باعث بنتا ہے۔ تہذیب کا تقاضا یہی ہے، ہماری آزادی دوسروں کے آرام میں مخل نہ ہو اور ان حرکتوں سے ہماری تعلیم و تربیت کی عکاسی ہوتی ہیں ۔
اسی طرح کچرا سڑک، باغیچے یا بازار میں پھینک دینا، گویا الاعلان صفائی کی ذمہ داری سے سبکدوشی اختیار کر لی اور اسے کسی اور کے اوپر ڈال دیا ۔ حالانکہ ایک چھوٹے سے کاغذ کے پرزے کو کچرے دان میں ڈالنا ، شہری شعور کی علامت بن جاتا ہے اور یہ فعل معاشرے و دنیا کو ایک مثبت پیغام ارسال کرتا ہے۔
اسلام ہمیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتا ہے،راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ قرار دیا گیا ہے اور پھر راستے میں تکلیف پیدا کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟
ایک مہذب معاشرہ قانون سے پہلے ضمیر کے بل پر قائم ہوتا ہے، جب انسان یہ سوچنے لگے ، "میرے اس فعل سے کسی دوسرے کو زحمت تو نہیں ہوگی؟" آپ سمجھ لیجیے اخلاق نے اس کی کردار سازی مکمل کر دی ہے۔شائستگی کا حسن بڑے کارناموں میں مضمر نہیں، انہی چھوٹی چھوٹی عادتوں میں پوشیدہ ہے اور یہی ایک بااصول معاشرے کی صحت کی علامت بن جاتی ہیں۔
باب چہارم
گفتگو، آواز اور معاشرتی شائستگی
انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، پر زبان ان میں سب سے زیادہ طاقتور نعمت ہے اوراس کا گھاو کبھی نہیں بھرتا۔ زبان دل جیتنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، رشتے استوار کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے اور اختلافات ختم بھی کرتی ہے۔پر اگر یہ بے لگام ہو جائے، پھر دلوں کو توڑتی ہے، نفرتیں پھیلاتی ہے اور معاشرے میں فساد کا باعث بنتی ہے۔
ہماری گفتگو ہمارے گھرانے، تربیت اور کردار کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ شائستہ انسان صرف اچھے الفاظ کا چناو ہی نہیں کرتا ،بلکہ وہ یہ صوابدید بھی رکھتا ہے،کہ اسے کب بولنا ہے، کتنا بولنا ہے اور کب خاموشی اختیار کرنا زیادہ احسن ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بلند آواز میں گفتگو کو پراعتمادی اور رعب اور دبدبے کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ بازار ، دفاتر، مساجد، ہسپتال اور عوامی سواری میں، بعض افراد یوں گفتگو کرتے ہیں، جیسے سارا مجمع ان کی تقریر کی سماعت کا خواہاں ہے۔ اسی طرح برقی باتونی آلے(موبائل فون) پر اونچی آواز میں طویل گفتگو، دوسروں کے سکون میں خلل ڈالتی ہے اور محض چند لمحوں کی احتیاط، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کر سکتی ہے۔
گفتگو کے آداب میں، دوسروں کی باتیں غور و خوض سے سننا اور اس کو عزت دینا بھی شامل ہے۔ ہر محفل میں اپنی رام کہانی سناتے رہنا، دوسرے کی بات کاٹ دینا یا ہر موضوع پر خود کو ماہر ثابت کرنا، خوش اخلاقی نہیں، بلکہ خود پسندی کی علامت ہے۔ اچھا سامع ہونا، کسی اچھے مقرر ہونے سے کم اہمیت کا حامل نہیں اور یہ آداب محفل کا تقاضہ بھی ہے ۔
سلام میں پہل کرنا، مسکرا کر ملنا، شکریہ ادا کرنا، معذرت کرنا اور کسی کی دل آزاری ہو جانے پر معافی مانگنے میں دیر نہ کرنا، یہ وہ چھوٹے چھوٹے اخلاقی رویے ہیں ،جو بڑے بڑے اختلافات کو جنم لینے سے پہلے ہی مٹی میں دفن کر دیتے ہیں اور انسانی رشتوں کو بقا دیتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہر معاشرے میں ہوتی ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، دانش مندی نہیں بلکہ کم عقلی کی علامت ہے اور جہلات کی نشانی ۔ دلیل کا جواب مدلل دلائل سے دیجیے، آواز بلند کر کے نہیں،ورنہ جاہل کہلائیں گے اور محفل میں نکو بن کر رہ جائیں گے۔ تہذیب کا تقاضا یہ نہیں کہ سب یکطرفہ سوچیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف آراء رکھنے والوں کا بھی احترام کیا جائے اور اختلاف رائے کی آزادی ہو ۔
یہ یاد رکھنا چاہیئے، انسان کی پہچان اس کی دولت، عہدے یا شہرت سے زیادہ، اس کے لہجے سے ہوتی ہے اور نرم گفتاری کمزوری نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کی علامت ہے۔ بہت سے دل ایسے ہیں جو طاقت سے نہیں، صرف اچھے اخلاق اور شیریں کلامی سے فتح کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ہم اپنی گفتگو میں شائستگی، تحمل اور احترام کو جگہ دے دیں، تو ہمارے گھروں، محلوں اور معاشرے میں بہت سے تنازعات خود بخود دم توڑ دیں گے۔ اخلاق کی خوشبو الفاظ سے دور تک پھیلتی ہے، ان کی مہک دیر تک قائم رہتی ہے اور ان سے فضاء مہکتی رہتی ہے۔۔۔۔ جاری ہے
واپس کریں