محمد محسن خان ( راجپوت )
تاریخ کے افق پر بعض لمحے ایسے طلوع ہوتے ہیں جب قوموں کی تقدیر کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ایوانِ تدبیر میں ہوتا ہے۔ شمشیریں نیاموں میں رہتی ہیں، فصیلیں اپنی ہیبت برقرار رکھتی ہیں، پرچم اپنی جگہ لہراتے رہتے ہیں، مگر ریاست کی روح خاموشی سے ایک ایسے اضطراب میں مبتلا ہو جاتی ہے جسے نہ توپوں کی گھن گرج چھپا سکتی ہے اور نہ خطابت کی بلند آہنگ صدائیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب عمارتیں قائم رہتی ہیں مگر بنیادیں تھک جاتی ہیں، قوانین موجود ہوتے ہیں مگر ان میں عدل کی حرارت باقی نہیں رہتی، اور اقتدار کے ایوان آباد ہوتے ہیں مگر ان کے اندر تدبیر کی وہ روشنی بجھنے لگتی ہے جو قوموں کی کشتی کو طوفانوں سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچایا کرتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف کتابِ الٰہی نے نہایت بلیغ اسلوب میں اشارہ فرمایا کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے باطن کو بدلنے کا عزم نہ کرے۔ گویا تاریخ کا پہیہ تلوار سے پہلے کردار اور نظام کے ہاتھوں گردش کرتا ہے۔
ایسے میں اگر خود اہلِ اقتدار کی زبان سے یہ اعتراف صادر ہو کہ ریاستی مشینری کا بیشتر وقت صرف بحرانوں کی آگ بجھانے میں صرف ہو رہا ہے، تو یہ کسی ایک حکومت کی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظمِ حکمرانی کی ساختی تھکن کا اعلان ہوتا ہے۔ بحرانوں کا تعاقب حکمت نہیں، مجبوری کی علامت ہے۔ مدبر قومیں حادثات کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ ان اسباب کو ختم کرتی ہیں جن سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ جب ریاست ہر صبح ایک نئے بحران کے تعاقب میں نکلے اور ہر شام ایک نئے اضطراب کے ساتھ لوٹے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مرض افراد میں نہیں، پورے نظام کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔
ہمارا اصل المیہ یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں یا آزمائشیں زیادہ ہیں؛ المیہ یہ ہے کہ زمانہ بدل گیا مگر ہماری ریاستی فکر اپنی جگہ منجمد کھڑی ہے۔ دنیا علم، اختراع، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ ہم اب بھی ایسے انتظامی سانچوں سے وابستہ ہیں جنہیں ایک نوآبادیاتی ذہن نے رعایا پر حکمرانی کے لیے وضع کیا تھا، نہ کہ آزاد شہریوں کی خدمت کے لیے۔ زمانہ اپنے سوال بدل چکا ہے مگر ہمارے جوابات اب بھی گزشتہ صدی کی گرد آلود فائلوں میں مقید ہیں۔ یہی وہ فاصلہ ہے جہاں قومیں قافلۂ ترقی سے بچھڑ جاتی ہیں۔
معیشت بھی دراصل نظمِ اجتماعی کے اخلاقی شعور کا آئینہ ہوتی ہے۔ جس ریاست کا بجٹ مسلسل قرض کے سہارے قائم ہو، جہاں پیداوار سے زیادہ استقراض کو کامیابی سمجھا جائے اور جہاں آئندہ نسلوں کے وسائل کو موجودہ ضرورتوں کی نذر کر دیا جائے، وہاں خوشحالی کا خواب ریت پر تعمیر ہونے والے محل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔ قرض اگر صنعت، تحقیق، تعلیم اور انسانی سرمائے کی آبیاری کرے تو وہ سرمایہ بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ صرف اخراجات کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں صرف ہو تو اس کی ہر قسط آنے والے کل کی آزادی پر ایک نیا بوجھ بن جاتی ہے۔ اقتصادی خودمختاری محض خزانے کے اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ قومی وقار، سیاسی آزادی اور اجتماعی خوداعتمادی کا دوسرا نام ہے۔
اسی لیے آج اصلاح کا سوال محض حکومتوں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ حکمرانی کے فلسفے کی تجدید کا ہے۔ طاقت جب حد سے زیادہ مرکز میں جمع ہو جائے تو وہ خود اپنی رفتار کھو دیتی ہے۔ دریا بھی اس وقت زندگی بخشتا ہے جب اس کی نہریں کھیتوں تک پہنچیں۔ ریاست بھی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اختیار، وسائل اور جواب دہی عوام کی دہلیز تک منتقل ہوں۔ مؤثر مقامی حکومتیں، متوازن انتظامی تقسیم، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کسی سیاسی جماعت کا منشور نہیں بلکہ جدید ریاست کی ناگزیر بنیادیں ہیں۔ اصل سوال نئے نقشے کھینچنے کا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کا ہے جس میں شہری خود کو اقتدار کا موضوع نہیں بلکہ اس کا شریک محسوس کرے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑی امانت نوجوان نسل ہے۔ یہی وہ قوت ہے جس کے بازو مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ بے یقینی کا شکار ہے۔ نوجوان کو وقتی تحائف سے وقتی مسرت تو دی جا سکتی ہے، مگر مستقل اعتماد صرف انصاف دیتا ہے۔ اسے خیرات نہیں، کردار کی قدر چاہیے؛ سفارش نہیں، میرٹ چاہیے؛ وعدے نہیں، مواقع چاہیے۔ جب علم بے توقیر ہو، دیانت بے قیمت ہو اور محنت دروازوں پر دستک دے کر لوٹ آئے تو معاشرے کے باطن میں خاموش اضطراب جنم لیتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بڑے تغیرات ہمیشہ اسی خاموش اضطراب کی گہرائیوں سے ابھرتے ہیں، جہاں امید اور محرومی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوتی ہیں۔
آج وطن کو ایسے قومی مکالمے کی ضرورت ہے جو جماعتوں کی حدوں سے بلند اور نسلوں کے مستقبل سے وابستہ ہو۔ اختلاف اگر اصول کا ہو تو قوموں کو نکھارتا ہے، لیکن اگر انا کا اسیر ہو جائے تو تہذیبوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے، اہلِ دانش، ماہرینِ معیشت، صنعت کار، نوجوان اور سماجی قوتیں اگر ایک مشترکہ قومی میثاق پر جمع نہ ہو سکیں تو بحرانوں کا یہ سلسلہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ اب سوال صرف اقتدار کے انتقال کا نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، انصاف کی بالادستی اور ریاست کے اخلاقی جواز کی تجدید کا ہے۔
قدرت کی سنت کبھی تغیر پذیر نہیں ہوتی۔ جن قوموں نے اپنے زخموں کو پہچان کر ان کا علاج کیا، وہ ملبے سے بھی نئی تہذیبیں اٹھانے میں کامیاب ہوئیں؛ اور جنہوں نے شکستہ بنیادوں پر رنگ و روغن کر کے خود کو مطمئن رکھا، ان کی عظمت وقت کی گرد میں دفن ہو گئی۔ پاکستان بھی آج اسی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے بصیرت کو مصلحت پر، عدل کو مصلحتِ وقت پر، اور اصلاح کو سیاسی منفعت پر ترجیح دے دی تو یہی بحران ایک نئے عہد کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے حقیقت کی پکار کو بھی وقتی شور سمجھ کر ٹال دیا تو پھر تاریخ اپنی بے لاگ عدالت میں وہ فیصلہ صادر کرے گی جس کے سامنے نہ اقتدار کی شوکت کوئی دلیل بن سکے گی اور نہ خطابت کا جادو کوئی عذر، کیونکہ زمانہ ہمیشہ قوموں سے ان کے نعروں کا نہیں، ان کے نظاموں کا حساب مانگتا ہے۔
واپس کریں