دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وفاقی وزیر داخلہ کا سسٹم پر چلایا ہتھوڑا اور اس کی اصلاح کے تقاضے
No image وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے مروجہ نظام کو واشگاف الفاظ میں ناکام قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ اس سسٹم کے خلاف *کاکروچ" اکٹھے ہوگئے تو ہر چیز الٹ سکتے ہیں۔ گذشتہ روز جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے دائمی حل کے لئے موجودہ نظام کو مکمل طور پر "ری سیٹ" کرنا اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کے بقول ہم مانیں یا نہ مانیں، ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ مکمل طور پر گِر چکا ہے۔ اگر آج ہم نے ملک کی بنیادی ساخت اور ادارے ٹھیک نہ کئے تو اگلے دس سال بعد بھی ہم انہی ایوانوں میں بیٹھ کر یہی مسائل رو رہے ہوں گے۔ سید محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس سیاسی نظام کو چلانے اور اس کی فنڈنگ کرنے والی تمام با اثر شخصیات آج اس ہال میں موجود ہیں۔ کوئی کسی مجبوری میں اور کوئی اپنی پسند سے اس نظام کو فنڈ دیتا ہے تاہم جس روز آپ تمام لوگوں نے مل کر فیصلہ کر لیا کہ اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے تو یہ نظام اسی دن ٹھیک ہو جائے گا۔ ان کے بقول ایک چیز ہم 70 سال سے گھسیٹ رہے ہیں۔ میں آج بھی کہوں گا کہ جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں لیکن جمہوریت کے اندد بھی تو چار پانچ قسم کے نظام موجود ہیں، ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ جو مرضی ہو جائے، ہم نے بس اسی نظام کو گھسیٹنا اور اسی کو چلانا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ نوجوان اپنا حق مانگ رہے ہیں، میرٹ پر ملازمت چاہتے ہیں۔ آپ انہیں نوجوان کہیں یا کاکروچ، اگر یہ اکٹھے ہو گئے تو ہر چیز کو الٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کون سا گھر ہے جو مہینہ شروع ہونے پر لاکھوں روپے کا مقروض ہو اور چلایا جائے۔ ہم اپنا بجٹ نیگیٹو میں بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرض دینا ہے، ہم قرض لیتے رہیں گے مگر سسٹم کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ جب تک ہم اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے، بہتری نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں گے لیکن ہم صرف فائیر فائیٹنگ کر رہے ہیں، اور کچھ بھی نہیں کر رہے۔ وزیر داخلہ کے بقول تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال۔ انہیں نئے یونٹس اور صوبوں سے لے کر اپنے ملک تک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر ٹھیک کرنا پڑے گا۔ جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے، یہ ملک اسی حالت میں رہے گا چاہے آپ جتنے مرضی سیمینار کر لیں، یہ سب ٹھیک نہیں ہونے والا۔ ہمیں نئے صوبوں(انتظامی یونٹس) کی طرف جانا پڑے گا اور یہ معاملہ عوام کی جانب لے جانا پڑے گا۔ ملکی ترقی کے لئے اب ہمیں نچلی سطح تک جانا ہو گا۔ عام آدمی کو صرف بنیادی سہولیات چاہیئں جو موجودہ نظام دینے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے بقول جب تک ڈھانچہ اور اصلاحات نہیں ہوں گی، مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے اور جب تک سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ صرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہی نہیں، پی ٹی آئی کو بھی اس نظام کو بہتر کرنے کے لئے اکٹھا ہونا چاہیئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جو باتیں کہیں، وہ عام عوام کے دل کی آواز ہے جو آج غربت، مہنگائی، بے روزگاری، بے انصافی، توانائی کے بحران اور گورننس کے مسائل کی دلدل میں دھنسے، سسٹم کی اصلاح کے لئے وہی فکر مندی رکھتے ہیں جس کا سید محسن نقوی نے اظہار کیا ہے اور
حقیقت یہی ہے کہ وزیر داخلہ کی تقریر کا بیشتر حصہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ آج عام پاکستانی کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان سے کسی کو انکار نہیں۔ بے شک مہنگائی، بے روزگاری، غربت، توانائی کے بحران، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولتوں، انصاف کے حصول میں تاخیر، انتظامی بدنظمی اور سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی نے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب عام آدمی کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل نظر آ رہا ہو تو اس کے دل میں سسٹم کے بارے میں مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہونا ایک فطری ردعمل ہو گا۔
تاہم اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سسٹم میں یہ ساری خرابیاں اقتدار کے ایوانوں میں براجمان شخصیات کی اور حکمران طبقات کی اپنی ہی پیدا کردہ ہیں۔ وزیر داخلہ خود اسی سسٹم اور حکومت کا حصہ ہیں جو اس وقت ملک کے انتظامی امور چلا رہی ہے۔ اگر فی الواقع سسٹم اتنی سنگین خرابیوں کا شکار ہے تو اس کی اصلاح کی ذمہ داری بھی انہی طبقات پر عائد ہوتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں۔ اس تناظر میں عوام کے سامنے نظام کی کمزوریوں کا اعتراف اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا تردد کیا جائے۔ بے شک کابینہ، پارلیمنٹ اور متعلقہ ادارے ہی وہ فورم ہیں جہاں اصلاحات کے لئے فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اگر صرف مسائل کی نشاندہی ہوتی رہے اور ان کے حل کی جانب عملی پیش رفت نہ کی جائے تو ایسے بیانات عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ امر واقع ہے کہ کسی بھی ملک کا آئین یا جمہوری نظام بذات خود ناکام نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل درآمد کرنے والے افراد اور اداروں کی کارکردگی اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتی ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں تقریباً ایک جیسا جمہوری نظام موجود ہے مگر جہاں قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، میرٹ، دیانت داری اور مضبوط ادارے قائم ہیں وہاں عوام کو بہترین سہولتیں میسر ہیں۔ اس کے برعکس جہاں ذاتی مفادات، سیاسی کشمکش، اقربا پروری اور کمزور انتظامی ڈھانچہ غالب آ جائے وہاں بہترین آئینی نظام بھی مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر رہتا ہے۔ اس تناظر میں وزیر داخلہ کی تجویز کے مطابق انتظامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی خدمت کے بہتر نظام کے لیے آئین کے تقاضوں کے تحت نئے انتظامی یونٹ بنائے جائیں تو اس سے عوام کے مسائل کے نچلی سطح پر ہی حل کے راستے نکل سکتے ہیں۔ یقیناً اس پر سنجیدہ قومی مکالمہ ہونا چاہیے تاہم یہ عمل کسی سیاسی نعرے یا وقتی مصلحت کے تحت نہیں بلکہ مکمل اتفاق رائے، قومی مفاد اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی شروع ہونا چاہیے تاکہ اس سے قومی یکجہتی مضبوط ہو، نہ کہ نئے تنازعات جنم لیں۔
پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، ان کا ایک بڑا سبب کمزور گورننس ہے۔ قرضے لینا وقتی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم اگر انتظامی اصلاحات نہ ہوں، ٹیکس نظام منصفانہ نہ بنایا جائے، سرکاری اخراجات پر قابو نہ پایا جائے، توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات نہ ہوں اور کرپشن کلچر کا خاتمہ نہ کیا جائے تو بیرونی قرضے بھی مستقل حل فراہم نہیں کر سکتے اور وزیر داخلہ نے اس امر کی ہی نشاندہی کی ہے۔ بے شک ترقی کا راستہ مضبوط اداروں، مؤثر پالیسیوں اور تسلسل کے ساتھ نافذ کی جانے والی اصلاحات سے ہی ہموار ہوتا ہے۔
وزیر داخلہ نے تمام سیاسی جماعتوں کو سسٹم کی بہتری کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ قومی مسائل کا حل محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی انتقام میں نہیں بلکہ وسیع تر قومی اتفاق رائے میں مضمر ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معیشت، تعلیم، صحت، توانائی، عدالتی اصلاحات، بلدیاتی نظام اور انتظامی ڈھانچے جیسے بنیادی قومی معاملات کو سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر آنے والی حکومت سابقہ اصلاحات کو جاری رکھ سکے اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔
اس تناظر میں ریاستی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ جب ادارے خود آئین اور قانون کی مکمل پاسداری کریں گے، انتظامی مشینری دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی، احتساب سب کے لیے یکساں ہوگا اور فیصلے عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے تو یہی موجودہ نظام عوام کی فلاح و بہبود کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ محض نظام کو مورد الزام ٹھہرانا کافی نہیں، اصل ضرورت اس سوچ اور طرزِ حکمرانی کی اصلاح کی ہے جو نظام کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے۔
بے شک آج وطنِ عزیز کو زبانی جمع خرچ کی بجائےعملی اقدامات، سیاسی مفاہمت، مضبوط اداروں، آئین کی بالادستی اور عوامی خدمت کے پُر خلوص جذبے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی قائدین سسٹم کی خرابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اصلاح احوال چاہتے ہیں تو انہیں اصلاحات کے جامع ایجنڈے پر متفق ہو کر اس پر فوری عمل درآمد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے، معیشت کو استحکام دے سکتا ہے اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور فلاحی ریاست بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے آج حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادتیں ہی محض اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیئے آپس میں الجھ رہی ہیں جو جمہوری نظام کی ناکامی پر ان کی جانب سے مہر تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہے۔ آپ جمہوریت کا مردہ خراب کرنے پر خود ہی تُلے بیٹھے ہوں تو جمہوریت کی بساط الٹانے کے ماضی جیسے ماورائے آئین اقدامات کے راستے کیوں ہموار نہیں ہوں گے۔ کم از کم ماضی کی غلطیوں سے ہی سبق سیکھ لیں۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں