نجیب الغفور خان
خصوصی کالم۔5 اگست 2019ء تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ یہ اقدام نہ صرف خطے کی سیاسی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بنا بلکہ کشمیری عوام کے حقوق، شناخت اور مستقبل سے متعلق ایک نئے بحران کو جنم دیا۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی بے یقینی، انسانی مشکلات اور شہری آزادیوں سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد مواصلاتی پابندیوں ، گرفتاریوں ، سیاسی سرگرمیوں پر قدغنوں اور سخت سیکیورٹی اقدامات نے عام زندگی کو متاثر کیا۔ کشمیری عوام مسلسل اپنے سیاسی، سماجی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔ 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A سے متعلق اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت تبدیل کر دی۔ اس فیصلے کے بعد خطے کی انتظامی، سیاسی اور سماجی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اس دن کو یومِ استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی خطے میں دیرپا امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، عوامی خواہشات اور بنیادی حقوق کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق لاکھوں انسانوں کے مستقبل، شناخت اور امنگوں سے جڑا ہوا ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ اضافی فوجی تعیناتی، مواصلاتی رابطوں کی بندش، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں نے خطے کے عوامی ماحول کو شدید متاثر کیا۔ ان حالات میں عام شہریوں کو روزمرہ زندگی، تعلیم، کاروبار اور سماجی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال گزشتہ کئی برسوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گرفتاریوں ، تلاشی کارروائیوں ، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے والے اقدامات نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ صحافیوں ، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات نے خطے میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کیے ہیں ۔ مقبوضہ علاقے میں سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران گھروں کی تلاشی، گرفتاریوں اور نگرانی کے اقدامات نے عوام میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی۔ متعدد خاندان اپنے عزیزوں کی گرفتاریوں ، طویل حراستوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں ۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ کسی بھی معاشرے کے بنیادی اصول ہیں ، جن کی خلاف ورزی عوامی مسائل میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈومیسائل قوانین اور زمینوں سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں غیر مقامی افراد کو رہائشی دستاویزات کے اجرا اور جائیداد سے متعلق سہولیات فراہم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس صورتحال نے خطے کے آبادیاتی ڈھانچے، شناخت اور مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کی۔ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے جس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں ۔ ان قراردادوں کے تناظر میں خطے کی حیثیت اور وہاں کے عوام کے مستقبل سے متعلق فیصلے عالمی اصولوں کے مطابق کیے جانے کا معاملہ اہم حیثیت رکھتا ہے۔ غیر کشمیری افراد کی آبادکاری، فیک ڈومیسائل کا اجرا اور آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقدامات نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں ، صحافتی آزادی اور عوامی اظہار کے مواقع بھی محدود کیے گئے۔ حریت قیادت، سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو مختلف پابندیوں ، گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے اقدامات نے خطے میں سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور عوامی بے چینی میں اضافہ کیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل مسائل سامنے آتے رہے ہیں ۔ تلاشی کارروائیوں ، گرفتاریوں ، حراستوں اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کے دوران عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوجوانوں کی گرفتاریاں ، خاندانوں کی مشکلات اور آزادیِ اظہار پر پابندیاں ایسے معاملات ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے قوانین کے استعمال نے بھی مقبوضہ علاقے میں شہری آزادیوں کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں ۔ ان قوانین کے تحت بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا، جس سے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر اثر پڑا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافت اور معلومات تک رسائی بھی کئی مشکلات کا شکار رہی۔ ذرائع ابلاغ پر پابندیوں ، صحافیوں کو پیش آنے والے مسائل اور معلومات کے محدود بہاؤ نے صورتحال کو مزید دشوار بنایا۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی معاشرے میں حقائق تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے، جبکہ اس پر پابندیاں عوامی مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہیں ۔
بھارت کی جانب سے کیے گئے انتظامی اور قانونی اقدامات نے خطے کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، تاہم مسئلہ کشمیر اپنی تاریخی، سیاسی اور بین الاقوامی اہمیت کے باعث آج بھی عالمی سطح پر موجود ہے۔ کشمیری عوام کا سیاسی مستقبل اور ان کے بنیادی حقوق کا معاملہ اب بھی خطے کے امن و استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں ۔ حکومتِ پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال، انسانی حقوق کے مسائل اور خطے میں امن کی ضرورت پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جائے۔ بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کا کردار دنیا بھر کے تنازعات کے حل میں اہم رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی عالمی اداروں کی توجہ انسانی حقوق، انصاف اور امن کے اصولوں کی بنیاد پر ایک پائیدار حل کی تلاش پر مرکوز ہونی چاہیے۔ خطے میں مستقل امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین کے جائز تحفظات کو سمجھا جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو انصاف اور انسانی وقار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ٓج کے جدید دور میں نوجوان نسل کا کردار بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا تک مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پہنچایا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق، دلیل اور مثبت اندازِ گفتگو کے ذریعے حقائق کو اجاگر کریں اور انسانی حقوق، امن اور انصاف کے پیغام کو آگے بڑھائیں ۔ 5 اگست کا دن صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ ان تمام مسائل کی نشاندہی کا موقع بھی ہے جن کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی، سماجی اور انسانی صورتحال سے ہے۔ یہ دن اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پرامن، منصفانہ اور اصولی انداز میں حل کرنے کے لیے سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رہنی چاہئیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن، استحکام اور ترقی کا راستہ اسی وقت ہموار ہو سکتا ہے جب انسانی حقوق، انصاف اور عوامی خواہشات کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ خطے کے مستقبل کا تعلق امن کے ایسے راستے سے ہے جو انصاف، احترام اور پائیدار حل کی بنیاد پر قائم ہو۔
واپس کریں