دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جمہوریت کے سائے میں مقدس زنجیریں
No image افلاطون نے ریپبلک میں ایک غار کا ذکر کیا تھا، جہاں انسان دیوار پر پڑنے والے سائے کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دو ہزار برس بعد بھی وہ غار قائم ہے، مگر اس کا پتھر بدل گیا ہے۔ اب اس کی دیواریں مذہبی نعروں، قومی جذبات، ٹیلی وژن اسکرینوں اور سیاسی خطابت سے بنی ہیں۔یہ کہانی اسی غار کی ہے۔غار کا ایک دروازہ ہندوستان میں کھلتا ہے، دوسرا پاکستان میں۔ درمیان میں صرف ایک سرحد ہے، مگر اندھیرا ایک ہی ہے۔
پاکستان کے ایک گاؤں میں بارہ سالہ حارث ہر صبح ایک ٹوٹے ہوئے اسکول کے سامنے سے گزرتا تھا۔ اسکول کی چھت گر چکی تھی، مگر گاؤں کی سب سے بڑی عمارت ایک نئی مذہبی عمارت تھی، جس کے بلند مینار آسمان سے باتیں کرتے تھے۔
حارث کے والد مزدور تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے:"بیٹا، سوال کم کیا کرو، ایمان مضبوط رکھو۔"حارث نے کبھی یہ پوچھنے کی ہمت نہ کی کہ اگر خدا علم کا حکم دیتا ہے تو اس کے اسکول کی دیواریں کیوں گری ہوئی ہیں؟
اسی صبح ہندوستان کے ایک قصبے میں گیارہ سالہ آروشی بھی اپنے اسکول جا رہی تھی۔ اس کی کتابوں میں سائنس کم اور شناخت زیادہ پڑھائی جا رہی تھی۔ اس سے بار بار پوچھا جاتا تھا کہ تم کون ہو، کس مذہب سے ہو، کس تہذیب سے تعلق رکھتی ہو۔اس نے ایک دن استاد سے پوچھا:"اگر ہم سب انسان ہیں تو پہلے مذہب کیوں پوچھا جاتا ہے؟"پورا کمرہ خاموش ہوگیا۔سوال خطرناک تھا۔دونوں بچے ایک دوسرے کو کبھی نہیں جانتے تھے، مگر ان کی قسمت حیرت انگیز حد تک ایک جیسی تھی۔
دونوں کے ملک ایٹمی طاقت تھے، مگر دونوں کے خواب بجلی کے اندھیروں میں پروان چڑھتے تھے۔دونوں کے رہنما ترقی کے وعدے کرتے تھے، مگر ہر انتخاب سے پہلے خدا کو سیاست کے اسٹیج پر بلا لیا جاتا تھا۔
دونوں کے معاشروں میں مذہب کروڑوں لوگوں کے لیے روحانی سکون کا ذریعہ بھی تھا، مگر اقتدار کی سیاست اسے شناخت، خوف اور تقسیم کے ہتھیار میں بدل دیتی تھی۔
افلاطون شاید یہی کہتا کہ جب ریاست میں حکمت کی جگہ جذبات، اور استدلال کی جگہ گروہی وفاداری لے لے، تو غار کے سائے حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوجاتے ہیں۔
ایک شام حارث نے اپنے والد سے پوچھا:"ہم غریب کیوں ہیں؟"والد نے جواب دینے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا۔اصل جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا۔کیونکہ غربت صرف معاشی نہیں تھی؛ وہ سوال کرنے کی غربت بھی تھی۔
اسی رات آروشی نے اپنی دادی سے پوچھا:"کیا خدا لوگوں سے نفرت کرتا ہے؟"بوڑھی عورت رو پڑی۔اسے معلوم تھا کہ خدا نہیں، انسان نفرت سکھاتے ہیںدونوں ملکوں میں ہزاروں اسکول وسائل کے منتظر تھے، لاکھوں نوجوان روزگار کے منتظر تھے، کروڑوں بچے بہتر مستقبل کے منتظر تھے۔مگر اس دوران مناظرے جاری تھے کہ کون زیادہ مذہبی ہے، کون کم مذہبی ہے، کون اصل قوم پرست ہے، اور کون دشمن کا نمائندہ۔
غریب کی روٹی ہر تقریر میں موجود تھی، مگر اس کی پلیٹ میں نہیں۔تعلیم ہر منشور میں لکھی جاتی تھی، مگر ہر بجٹ میں سکڑ جاتی تھی۔صحت ہر وعدے کا حصہ تھی، مگر ہر اسپتال میں مریض قطاروں میں مرتے رہے۔
افلاطون کے غار میں قیدی اگر روشنی دیکھ لیتے تو واپس آ کر دوسروں کو آزاد کرنے کی کوشش کرتے۔مگر اس نئے غار کی سب سے بڑی المیہ حقیقت یہ ہے کہ جو روشنی دیکھ لیتا ہے، اسے غدار، ملحد، ملک دشمن یا روایت شکن کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔یوں غار محفوظ رہتا ہے۔اور سائے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ایک دن سرحد کے دونوں طرف بارش ہوئی۔حارث کی چھت ٹپکنے لگی۔آروشی کے اسکول کی دیوار گر گئی۔بادلوں نے مذہب نہیں پوچھا تھا۔
بھوک نے بھی کبھی عقیدہ نہیں پوچھا۔بیماری نے کبھی قومیت نہیں دیکھی۔لیکن انسان نے ہر دکھ کو شناخت کے خانوں میں تقسیم کر دیا۔شاید سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ مذہب موجود ہے۔سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ جب مذہب کو اقتدار کی زبان میں ڈھال دیا جاتا ہے، تو عوام سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور حکمران جواب دینا۔اسی لمحے جمہوریت صرف ووٹوں کی گنتی رہ جاتی ہے، شعور کی نہیں۔افلاطون نے فلسفی حکمران کا خواب دیکھا تھا۔ہم نے نعرہ لگانے والے حکمران پیدا کیے۔اس نے انصاف کی ریاست کا تصور دیا تھا۔ہم نے شناخت کی ریاستیں بنا لیں۔اس نے غار سے نکلنے کا راستہ دکھایا تھا۔ہم نے غار کو مقدس قرار دے دیا۔کہانی کے آخر میں حارث اور آروشی بڑے نہیں ہوتے۔
کیونکہ وہ کروڑوں بچوں کی علامت ہیں جن کے بچپن ہر انتخاب، ہر فساد، ہر نفرت انگیز تقریر اور ہر مذہبی سیاست کے موسم میں دوبارہ دفن ہو جاتے ہیں۔سرحد کے دونوں طرف شام اترتی ہے۔اذان کی آواز بھی آتی ہے۔
گھنٹیاں بھی بجتی ہیں۔دعائیں بھی ہوتی ہیں۔مگر ایک سوال خاموشی سے فضا میں معلق رہتا ہے:اگر خدا انسان کو آزاد پیدا کرتا ہے، تو پھر انسان دوسرے انسان کو خوف، نفرت اور جہالت کی زنجیروں میں کیوں باندھ دیتا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب افلاطون آج بھی اپنے غار کے دہانے پر کھڑا انتظار کر رہا ہے۔
واپس کریں