دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خود مختار کشمیر کا بیانیہ اور گریبان میں جھانکنے کا وقت۔ مہتاب عزیز
مہمان کالم
مہمان کالم
کشمیر کی آزادی کے تناظر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کا موقف کبھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ ان کا بیانیہ پہلے دن سے واضح ہے: "پاکستان اور بھارت، دونوں سے کامل آزادی اور ایک خود مختار کشمیری ریاست کا قیام۔"
یہ کوئی نیا موقف نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات ریاستی پالیسی سازوں کے لیے حیرت کا باعث رہی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب یہی بیانیہ اقتدار اور ریاست کے اپنے مفادات کے سانچے میں ڈھلتا تھا، تو اسے ہر سطح پر تحفظ، سرپرستی اور زبردست پذیرائی دی جاتی تھی:
لبریشن فرنٹ کے لائن آف کنٹرول کے اس کے پار کے اہم ترین رہنما امان اللہ خان صاحب کا دفتر راولپنڈی کی اہم ترین مری روڈ پر ایک اہم سرکاری ادارے کے دفتر کے عین سامنے عشروں تک قائم رہا۔
جب ڈپلومیٹک اینکلیو میں عام شہریوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں تھیں، اس وقت بھی امان اللہ خان صاحب کے پاس آزادانہ آمد و رفت کے لیے خصوصی (Exclusive) سیکیورٹی پاس موجود ہوا کرتے تھے۔
انہی امان اللہ خان کی بیٹی کی شادی کو پاکستان کے تمام قومی میڈیا پر ایک "قومی تقریب" کا درجہ دے کر پیش کیا گیا۔
لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک جب پاکستان تشریف لاتے، تو انہیں ایک سربراہِ مملکت کا سا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔
فتح جنگ میں اس وقت کے وفاقی وزیر شیخ رشید کے فارم ہاؤس پر لبریشن فرنٹ کے گوریلوں کی باقاعدہ میزبانی اور ضیافتیں ہوا کرتی تھیں۔
سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی زبان سے ان کے لیے تعریفوں کے پل باندھے جاتے تھے، اور نواز شریف صاحب ان پر صدقے واری ہوا کرتے تھے۔
حتیٰ کہ حالیہ نگران حکومت کے سیٹ اپ میں بھی یاسین ملک صاحب کی اہلیہ کو نگران وفاقی وزیر کا قلمدان سونپا گیا۔
اس تمام تر عرصے میں۔۔۔۔چاہے وہ امان اللہ خان کی پریس کانفرنسز ہوں یا یاسین ملک کے دورے۔۔۔لبریشن فرنٹ نے اپنے خود مختار کشمیر کے اصولی موقف میں ایک انچ بھی تبدیلی نہیں کی۔ وہ کل بھی اسی نقطے پر کھڑے تھے اور آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔
اب ذرا تلخ حقیقت کا سامنا کیجیے:
آزاد کشمیر میں لبریشن فرنٹ کے اس نظریے کے حامیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ فیصد ہوگی۔ اکثریت پاکستان کے ساتھ قلبی، نظریاتی اور سیاسی رشتہ رکھتی ہے۔ لیکن انتہائی افسوسناک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ جب آزاد کشمیر کے عام عوام اپنے جائز حقوق، معاشی مطالبات اور آئینی داد رسی کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، تو چند فیصد کے اس نظریے کو ڈھال بنا کر پورے خطے کے عوام پر "پاکستان دشمنی" کا لیبل چپکایا جا رہا ہے۔
جو مطالبات کل تک نہ صرف جائز تھے، بلکہ ان کو تسلیم کر کے آزاد کشمیر حکومت اور دو وفاقی وزرا نے تحریری معاہدہ بھی کیا تھا۔ اب انہیں یکلخت سنگین غداری اور ملک دشمنی سے تعبیر کر کے عوام کو کچلنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
اگر خود مختار کشمیر کا بیانیہ رکھنے والے کل تک اسٹیبلشمنٹ، وزرائے اعظم اور ایوانوں کے لاڈلے ہو سکتے ہیں، تو آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے آزاد کشمیر کے غیور اور پرامن عوام غدار کیسے ہو گئے؟
خود مختاری کا نظریہ اگر پاکستان دشمنی ہے تو کیا وجہ ہے پاکستان نے آج تک لبریشن فرنٹ کو کلعدم قرار نہیں دیا ہے۔ پاکستان بھر میں خصوصا وسطی پنجاب میں ان کے پروگرمات دھڑلے سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے سلوگنز کو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کے عوام پر گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ انہیں پاکستان دشمن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو کچلنے اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے "پاکستان دشمنی" کا من گھڑت بیانیہ تراشنے والوں کو کسی اور پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اور اپنے اداروں کے گریبان میں جھانکنے کی شدید ضرورت ہے۔ ریاستی پالیسیوں کا یہ دوہرا معیار اور منافقت اب بند ہونی چاہیے۔
واپس کریں