دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان آخر کیوں نہیں سنبھل رہا؟ خالد خان
No image پاکستان کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس کے مسائل معاشی ہیں، سیاسی ہیں یا سلامتی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مسائل ایک بڑے اور بنیادی بحران کی علامات ہیں۔ اصل بحران ریاستی ڈھانچے کا ہے، جہاں طاقت، اختیار، ذمہ داری اور جواب دہی ایک ہی آئینی زنجیر میں منسلک نہیں رہ سکے۔

ہر ریاست چار ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے: آئین، ادارے، قانون اور عوام کا اعتماد۔ جب ان میں سے ایک بھی ستون کمزور ہو جائے تو ریاست لڑکھڑانے لگتی ہے، اور جب طاقت اور جواب دہی ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو بحران مستقل شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

آئین پاکستان واضح طور پر اختیارات کی تقسیم متعین کرتا ہے۔ پارلیمان قانون سازی کرتی ہے، حکومت انتظامی فیصلے کرتی ہے، عدلیہ آئین کی تشریح اور انصاف فراہم کرتی ہے، جبکہ مسلح افواج ملک کا دفاع کرتی ہیں۔ یہی آئینی توازن ایک جمہوری ریاست کی روح ہے۔ لیکن ریاستیں صرف آئین لکھ دینے سے نہیں چلتیں، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب تمام ادارے عملی طور پر اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مختلف ادوار میں طاقت کا عملی توازن آئینی تصور سے مختلف رہا۔ بعض قومی معاملات میں غیر منتخب ریاستی اداروں کا کردار نمایاں رہا، جبکہ منتخب حکومتیں ہمیشہ مکمل سیاسی گنجائش کے ساتھ کام نہ کر سکیں۔ دوسری طرف سیاسی قیادت بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔ ادارہ سازی کے بجائے شخصیات کو فوقیت دی گئی، داخلی جمہوریت کمزور رہی، قومی پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا، اور اقتدار کو ریاست پر ترجیح دینے کی روایت نے جمہوریت کو خود نقصان پہنچایا۔

اس لیے پاکستان کی کہانی کسی ایک ادارے کی کامیابی یا ناکامی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی کہانی ہے جس میں اختیارات اور ذمہ داریوں کی حدیں بار بار دھندلا جاتی رہی ہیں۔

جمہوریت کا بنیادی اصول نہایت سادہ ہے: جس کے پاس اختیار ہو، وہی جواب دہ بھی ہو۔ اگر فیصلے ایک جگہ ہوں اور احتساب دوسری جگہ، تو عوام کے لیے یہ طے کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ کامیابی کا اصل ذمہ دار کون ہے اور ناکامی کا جواب کس سے طلب کیا جائے۔ یہی ابہام ریاستی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور اداروں کے درمیان کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کا ہر بڑا بحران اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ 1971 کا سانحہ محض ایک عسکری شکست نہیں تھا، نہ صرف ایک سیاسی ناکامی؛ بلکہ یہ ریاستی سطح پر سیاسی، انتظامی، آئینی، عسکری اور سفارتی غلطیوں کا مجموعہ تھا۔ اس سانحے نے ثابت کر دیا کہ بندوق علاقے فتح کر سکتی ہے، مگر دل نہیں۔ قومی وحدت صرف آئین، انصاف، سیاسی شرکت اور مساوی حقوق سے قائم رہتی ہے۔

بعد کی دہائیوں میں بلوچستان کی شورش، دہشت گردی، انتہا پسندی، قبائلی علاقوں کے مسائل، وفاقی اکائیوں کے تحفظات، معاشی بحران، بڑھتا ہوا قرض، تعلیمی پسماندگی، صحت کی کمزور سہولیات، توانائی کا بحران اور نوجوانوں کی ہجرت نے یہ واضح کر دیا کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ ایک کمزور معیشت، غیر مؤثر تعلیم، سست انصاف اور بدحال عوام کسی بھی ریاست کی مجموعی طاقت کو محدود کر دیتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی پوری دیانت داری سے تسلیم کرنی چاہیے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بیرونی دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قدرتی آفات کے دوران اہم خدمات انجام دی ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان خدمات کا انکار نہ تاریخ کرے گی اور نہ انصاف۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ کیا ایک مضبوط فوج، کمزور سیاسی اداروں، کمزور معیشت اور کمزور حکمرانی کی تلافی کر سکتی ہے؟ جدید ریاستوں کا تجربہ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے۔

اسی طرح سیاسی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ خاندانی سیاست، اندرونی جمہوریت کا فقدان، بدعنوانی کے الزامات، کمزور قانون سازی، قومی مفاد پر جماعتی مفاد کو ترجیح دینا اور ادارہ جاتی اصلاحات سے گریز، وہ عوامل ہیں جنہوں نے جمہوریت کی اخلاقی قوت کو کمزور کیا۔

عدلیہ بھی ریاستی ڈھانچے کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انصاف میں تاخیر، متنازع تاریخی فیصلے، مقدمات کے انبار اور مختلف ادوار میں عدالتی کردار پر ہونے والی بحث اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قانون کی حکمرانی صرف فیصلے سنانے سے نہیں بلکہ بروقت، غیر جانبدار اور یکساں انصاف فراہم کرنے سے قائم ہوتی ہے۔

بیوروکریسی، جو ریاست کا مستقل انتظامی ڈھانچہ ہے، مسلسل سیاسی اور انتظامی دباؤ، تبادلوں کی روایت، میرٹ سے انحراف اور فیصلہ سازی کے خوف کے باعث اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کھوتی گئی۔ جب انتظامی مشین کمزور ہو جائے تو بہترین پالیسیاں بھی کاغذوں سے باہر نہیں آتیں۔

ان تمام کمزوریوں کی قیمت عام پاکستانی نے ادا کی۔ اسے مہنگائی ملی، بے روزگاری ملی، غیر معیاری تعلیم ملی، کمزور صحت کا نظام ملا، انصاف کے لیے طویل انتظار ملا، اور ایک ایسا مستقبل ملا جس میں یقین سے زیادہ غیر یقینی تھی۔

پاکستان کا مسئلہ کسی ایک شخصیت، ایک جماعت یا ایک ادارے کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال اور اس کی جواب دہی ہمیشہ ایک ہی اصول کے تابع نہیں رہے۔ جب تک یہ بنیادی تضاد برقرار رہے گا، حکومتیں بدلتی رہیں گی، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہیں گے، نعرے بدلتے رہیں گے، مگر بحران اپنی جگہ قائم رہے گا۔

دنیا کی کامیاب ریاستیں اس لیے کامیاب نہیں کہ ان کے پاس صرف طاقتور فوجیں ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہاں آئین سب سے بالا ہے، قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے، ادارے ایک دوسرے کی حدود کا احترام کرتے ہیں، اور طاقت کے ہر مرکز کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ریاست کو طاقتور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی راستہ یہی ہے۔ پارلیمان کو حقیقی قانون ساز ادارہ بننا ہوگا، حکومت کو آئینی اختیار کے ساتھ حکمرانی کرنی ہوگی، عدلیہ کو بلاامتیاز اور بروقت انصاف فراہم کرنا ہوگا، بیوروکریسی کو پیشہ ورانہ آزادی اور میرٹ پر استوار کرنا ہوگا، اور مسلح افواج کو اپنی آئینی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر پوری توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔ کسی ایک ادارے کی کمزوری یا غیر معمولی بالادستی، دونوں صورتیں ریاست کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ریاستیں نعروں سے نہیں، اصولوں سے چلتی ہیں۔ اصول یہ ہے کہ آئین سب سے بالا ہو، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، اختیار کے ساتھ لازماً جواب دہی ہو، اور عوام کو یہ یقین حاصل ہو کہ ان کی رائے، ان کا ووٹ اور ان کے حقوق ہی ریاستی اقتدار کی اصل بنیاد ہیں۔

پاکستان کا مستقبل کسی نئے مسیحا، کسی نئے تجربے یا کسی نئے بیانیے میں پوشیدہ نہیں۔ پاکستان کا مستقبل اسی دن محفوظ ہوگا جب ریاست کا ہر ستون اپنی آئینی حد میں مضبوط ہوگا، کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہوگا، اور عوام کا اعتماد طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور آئین کی بالادستی سے حاصل کیا جائے گا۔

قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب ان کے وسائل کم ہوں؛ قومیں اس وقت ٹوٹتی ہیں جب ان کے اداروں میں اعتماد ختم ہو جائے۔ اور قومیں اس وقت دوبارہ اٹھتی ہیں جب آئین طاقت سے بڑا، قانون شخصیت سے بلند، اور جواب دہی اختیار سے لازم قرار پائے۔ پاکستان کے استحکام کا راستہ بھی یہی ہے، اور اس کے علاوہ کوئی پائیدار راستہ نہیں۔
واپس کریں