دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تعمیرِ نو کا عہد
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالیے تو ایک حقیقت بار بار اپنے آپ کو دہراتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ سلطنتوں کا زوال اس دن شروع نہیں ہوتا جب دشمن ان کی سرحدوں پر دستک دیتا ہے، بلکہ اس گھڑی سے آغاز پاتا ہے جب ان کے اندر فکر کی شمع مدھم پڑنے لگتی ہے، اداروں کی روح پژمردہ ہو جاتی ہے اور اقتدار اصلاح کے بجائے محض بقا کی تدبیروں میں الجھ جاتا ہے۔ پھر فصیلیں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں، ایوانوں کی رونق بھی باقی رہتی ہے، مگر ان کے اندر زندگی کی وہ حرارت باقی نہیں رہتی جو قوموں کو حرکت، عزم اور ارتقا عطا کرتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"؛ اقتدار اور غلبہ دائمی میراث نہیں بلکہ امانت ہیں، اور امانت جب اپنی شرط کھو دیتی ہے تو تاریخ اس سے حساب بھی لیتی ہے۔

ایسے میں اگر خود اربابِ اقتدار یہ اعتراف کریں کہ ان کی تمام تر توانائیاں صرف روزمرہ بحرانوں کی آگ بجھانے میں صرف ہو رہی ہیں، تو یہ کسی ایک حکومت یا ایک وزارت کا بیان نہیں رہتا بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی داخلی کیفیت کا اعلان بن جاتا ہے۔ آگ بجھانے والا ہمیشہ شعلوں کا تعاقب کرتا ہے، مگر مدبر وہ ہوتا ہے جو آگ لگنے کے اسباب ختم کرے۔ جس ریاست کی سیاست تدبیر سے محروم ہو جائے، وہاں ہر نیا دن ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے اور ہر نئی کامیابی اگلے بحران کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے حکمت کی زبان میں علامتِ انحطاط کہا جاتا ہے۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم زمانے کی رفتار کو سمجھنے کے بجائے زمانے کو اپنے فرسودہ سانچوں میں مقید کرنا چاہتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی پیچیدہ معیشت، تیزی سے بڑھتی آبادی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی مسابقت کے تقاضے ایک ایسے انتظامی نظام سے پورے نہیں ہو سکتے جو نوآبادیاتی دور کی ضرورتوں کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ رعایا کو قابو میں رکھنے اور شہریوں کو بااختیار بنانے کے درمیان وہی فرق ہے جو قفس اور گلشن کے فلسفے میں ہے۔ افسوس کہ ہم ابھی تک قفس کی مرمت کو گلشن کی تعمیر سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔

معاشی اعتبار سے بھی ہماری کیفیت اس مسافر کی مانند ہے جو منزل کی طرف بڑھنے کے لیے ہر قدم پر کسی دوسرے کے سہارے کا محتاج ہو۔ قرض اگر پیداوار کا وسیلہ بنے تو نعمت ہے، لیکن اگر اخراجات کا سہارا بن جائے تو وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر لکھی ہوئی ایسی دستاویز ہے جس کے ہر ورق پر محرومی کی مہر ثبت ہوتی ہے۔ قومیں خزانے کی کثرت سے نہیں بلکہ وسائل کے درست استعمال، دیانت دار نظم اور انصاف پر مبنی اقتصادی حکمتِ عملی سے خوشحال ہوتی ہیں۔ جب بجٹ خسارے سے شروع ہو اور قرض پر ختم ہو تو ترقی کے دعوے محض الفاظ کا طلسم رہ جاتے ہیں۔

اسی لیے اب اصلاح کی گفتگو کو سیاسی نعروں سے بلند ہو کر ریاستی حکمت کے دائرے میں داخل ہونا ہوگا۔ اختیارات کا حقیقی ارتکاز نہیں بلکہ ان کی منصفانہ تقسیم ہی مضبوط ریاست کی علامت ہے۔ طاقت جب عوام کی دہلیز تک پہنچتی ہے تو اعتماد پیدا ہوتا ہے، فیصلے تیز ہوتے ہیں اور جواب دہی ممکن بنتی ہے۔ نئے انتظامی یونٹ، مؤثر مقامی حکومتیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کسی لسانی یا علاقائی خواہش کا اظہار نہیں بلکہ جدید ریاستی نظم کے مسلمہ اصول ہیں۔ ایک ایسا درخت جس کی شاخیں مسلسل پھیلتی جائیں مگر جڑوں تک پانی نہ پہنچے، آخرکار اپنی ہی وسعت کے بوجھ تلے جھک جاتا ہے۔

مگر اس پورے منظرنامے کا سب سے فیصلہ کن کردار نوجوان نسل ہے۔ یہی وہ قوت ہے جس کے بازوؤں میں مستقبل کی تعمیر ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جس کے دل میں سب سے زیادہ اضطراب بھی موجزن ہے۔ نوجوان خیرات نہیں مانگتا، وہ انصاف مانگتا ہے؛ وہ رعایت نہیں چاہتا، وہ مساوی مواقع چاہتا ہے؛ وہ وقتی تحائف سے زیادہ ایسا نظام چاہتا ہے جہاں اس کی محنت اس کی شناخت بنے۔ جب قابلیت سفارش کے سامنے سرنگوں ہو، دیانت رشوت کے ہاتھوں شکست کھا جائے اور خواب دروازوں پر دستک دیتے دیتے تھک جائیں تو معاشروں کے اندر خاموش اضطراب جنم لیتا ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلاب ہمیشہ اسی خاموش اضطراب کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔

آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو قومی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ یہ ملک کسی ایک جماعت، ایک ادارے یا ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی مشترکہ امانت ہے۔ اگر سیاسی قوتیں، ریاستی ادارے، اہلِ دانش، صنعت و تجارت کے نمائندے اور نوجوان نسل ایک وسیع قومی مکالمے پر آمادہ ہو جائیں تو اصلاح کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ لیکن اگر ہر فریق اپنی فتح کو قوم کی فتح اور اپنے مخالف کی شکست کو ملک کی کامیابی سمجھتا رہا تو پھر تاریخ کا فیصلہ بہت سخت ہوتا ہے، کیونکہ وہ افراد کے نہیں بلکہ اعمال کے نام یاد رکھتی ہے۔

آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ تدبر، عدل، دیانت اور اصلاح کی طرف جاتا ہے اور دوسرا جمود، تعطل اور تدریجی زوال کی طرف۔ قدرت کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی؛ جو قومیں اپنے اندر تجدید کی ہمت پیدا کرتی ہیں، زمانہ ان کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھول دیتا ہے، اور جو اپنی کمزوریوں کو تقدیر کا نام دے کر ان سے مصالحت کر لیتی ہیں، وہ آخرکار تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ماضی کے ملبے پر بیٹھ کر نوحہ لکھیں یا بصیرت، جرأت اور اجتماعی حکمت سے مستقبل کی نئی بنیاد رکھیں۔
واپس کریں