حامدمیر
کیا پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے؟ کیا پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام کے نفاذ میں ہے؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں۔
پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956ء کا آئین منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت سے چلایا جانا تھا۔ اڑھائی سال کے بعداکتوبر 1958ء میں، گورنر جنرل اسکندر مرزا نے فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کیساتھ ملکر ملک میں پہلا مارشل لا لگا دیا اور یہ پارلیمانی آئین منسوخ ہو گیا۔ سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے1956ء کے آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا مگر جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو ہٹا کراقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا اور 1962ء میں پاکستان پر صدارتی نظام مسلط کر دیا۔جنوری 1965ء میں جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن کروایا جس میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار بنکر سامنے آئیں۔ فاطمہ جناح نے پارلیمانی نظام کی حمایت کی، لہٰذا فیلڈ مارشل ایوب خان نے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیدیا۔ اہم بات یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان، اورخواجہ ناظم الدین ،بلوچستان میں غوث بخش بزنجو، خیربخش مری اور عطاءاللہ مینگل، خیبرپختونخوا میں ولی خان اور پنجاب میں نوابزادہ نصراللہ خان سے لیکر مولانا مودودی تک کئی اہم سیاسی شخصیات مادر ملت کی حمایت کر رہی تھیں۔افسوس کہ مادرِ ملت کو دھاندلی سے ہروا دیا گیا۔ جنرل ایوب خان کا صدارتی نظام جیت گیا۔مادرِ ملت کا پارلیمانی نظام ہار گیا۔ 1969ءمیں اپنے ہی لائے ہوئے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو ہٹا کر اقتدار پر خود قبضہ کرلیا۔ 1970ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی۔ جنرل یحییٰ خان نے اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے عوامی لیگ کیخلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ فوجی آپریشن نے خانہ جنگی کو جنم دیا۔ خانہ جنگی کا نتیجہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں نکلا اور بدقسمتی سے پاکستان ٹوٹ گیا۔ نئے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ اعظم بن گئے۔ انہوں نے اپوزیشن کیساتھ ملکر 1973ء کا متفقہ آئین بنا یا۔ایک مرتبہ پھر پاکستان کو وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت کے سپرد کیا گیا۔ مرکز، پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نیپ اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت تھی۔ ان دونوں مخلوط صوبائی حکومتوں کو ایک سال بھی نہ چلنے دیا گیا۔ نیپ پر پابندی لگا کر اپوزیشن کی قیادت کو جیل بھیج دیا گیا۔آئین میں طے شدہ پارلیمانی نظام پر ایمانداری سےعملدرآمد نہ ہوا۔ نتیجہ 1977ء کے مارشل لا کی صورت میں سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے گیارہ سال تک پاکستان کو ایک صدارتی نظام کے ذریعے چلایا، کیونکہ تمام اختیارات ایک ایسے صدر کے پاس تھے جس نے فوجی وردی پہن رکھی تھی۔ اس باوردی صدر نے 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن کروایا جس میں نواز شریف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بنکر پاکستانی سیاست کے منظر پر جلوہ افروز ہوئے۔ 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلی نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے پاکستان میں ایسا نظام متعارف کروایا جس میں صدر کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اختیارات تھے۔صدر ضیاء الحق نے 1988ء میں اپنے ہی لائے ہوئے وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف کر دیا۔ 17 اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثے میں انکی موت کےبعد الیکشن ہوا تو محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ صرف 20 ماہ کے بعدصدر غلام اسحاق خان نے انہیں برطرف کر دیا۔ 1990ء میں نواز شریف وزیرِ اعظم بن گئے۔ دو سال بعد صدر اسحاق نے انہیں بھی برطرف کر دیا۔ ہر مرتبہ کرپشن اور بری گورننس کے الزامات لگائے گئے۔ 1993ء میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں۔ 1996ء میں انکی اپنی پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے انہیں برطرف کر دیا۔ 1997 ء میں نواز شریف پھر وزیرِ اعظم بنے۔ انہوں نے پہلے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا پھر اپنے ہی لائے ہوئے آرمی چیف کو برطرف کر دیا لہٰذا 1999ء میں وہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کا نشانہ بن گئے۔ جنرل مشرف نے 2002ء میں ایک الیکشن تو کروا دیا مگر اختیارات اپنے ہی پاس رکھے۔ نو سال تک وہ پاکستان کے سیاہ وسفید کے مالک تھے۔ 2008ء میں انکے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بن گئے۔ زرداری صاحب صدرِ مملکت کے اختیارات وزیرِ اعظم کو واپس کرنا چاہتے تھے۔ نواز شریف نے انہیں بہت روکا کہ اختیارات اپنے پاس ہی رکھیں کیونکہ نواز شریف بھی آئندہ ایک بااختیار صدر بننا چاہتے تھے۔ میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جو اس زمانے میں ہر ملاقات میں صدر زرداری کو میثاق جمہوریت یاد دلایا کرتےتھے۔ یہ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کا قوم سے وعدہ تھا جسے پورا کرنے میں نواز شریف سے زیادہ ہم جیسے بے وقوفوں کودلچسپی تھی۔ آخرِکار 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر زرداری نے اپنے اختیارات وزیرِ اعظم کو منتقل کر دیے۔ ہمارا خیال تھا اب پاکستان میں ایک سنہری دور کا آغاز ہو گا لیکن یہ سنہری دور آج تک ایک خواب ہے۔
2011 میں ایک دن مجھے آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا نے بلایا اور کہا کہ پاکستان اور موجودہ نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ میں نے پوچھا کون سا نظام؟ فرمانے لگے پارلیمانی نظام۔ میں نے ان سے بھرپور اختلاف کیا تو پوچھنے لگے تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپکے بچے آئندہ بلاول، مریم نواز اور مونس الٰہی کی غلامی کریں ؟ہماری ملاقات کافی تلخ رہی ۔ پہلے وزیرِ اعظم کو صدر برطرف کیا کرتا تھا۔ افسوس کہ صدر کے اختیارات ختم ہونے کے بعد بھی وزیرِ اعظم محفوظ نہ رہا۔2012ء میں وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے ذریعے نااہل قرار دلوایا گیا۔ 2013ء میں نواز شریف وزیرِ اعظم بن گئے۔ 2017ء میں سپریم کورٹ نے انہیں بھی نااہل قرار دیدیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 18ویں ترمیم کو شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے زیادہ خطرناک قرار دینا شروع کر دیا۔ نواز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی اور پھر عمران خان وزیرِ اعظم بنے۔ عمران خان پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت نہیں چلاتے تھے بلکہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمیدکے ذریعے حکومت چلاتے تھے۔ انکی حکومت بھی مدت پوری نہ کرسکی۔ پھر تحریک عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف آ گئے۔ اب انکے مخالفین بھی پارلیمنٹ کو محض ایک ربڑاسٹمپ قرار دیتے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد اس پارلیمنٹ نے کبھی جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دیکر اور کبھی پیکا ایکٹ 2025ء جیسے بدنام زمانہ قوانین منظور کر کے پارلیمانی جمہوریت کا مذاق اُڑایا۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی آمروں کا لایا ہوا صدارتی نظام پاکستان میں بار بار فیل ہو چکا ہے اور 18ویں ترمیم کے باوجود آج کی سیاسی اشرافیہ نے پارلیمانی نظام کو بھی مذاق بنا دیا ہے۔ سندھ سے بلوچستان تک کہیں 18ویں ترمیم کے ثمرات نظر نہیں آتے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا بار بار ملتوی ہونا 18ویں ترمیم اور پارلیمانی نظام دونوں کی ناکامی ہے۔ پاکستان میں سب بُرا نہیں۔ کچھ اچھا بھی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس 1973ء کا ٹوٹا پھوٹا آئین ابھی تک موجود ہے جو تین دفعہ توڑا گیا لیکن تینوں دفعہ بحال ہو گیا۔ یہ اس قوم کے پاس ایک واحد متفقہ دستاویز ہے۔ اس آئین پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو ہمارے سب مسائل حل ہو سکتے ہیں۔آج کا پاکستان کسی نئے آئین یا نئے نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جو بھی کرنا ہے اس آئین کے اندر رہ کر کرنا ہی بہتر ہے۔ خدانخواستہ یہ آئین برقرار نہیں رہتا تو پھر کسی نئے آئین پر اتفاق بھول جائیں۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد پاکستان میں کوئی استحکام آیا؟ پہلے دو صوبوں میں حالات خراب تھے ان دو ترامیم کے بعدآزاد کشمیر میں بھی لاشیں گر رہی ہیں۔پاکستان کو مزید ترامیم کی نہیں بلکہ ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اس ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا اور آزادیِ اظہار کا تحفظ ضروری ہے۔ یہ آئین کا اہم تقاضا ہے۔ پاکستان ڈنڈے اور بندوق سے نہیں صرف جمہوریت سے چلے گا۔
واپس کریں