منظر الحق
معاشرہ ۔ باب اول،ابتدائیہ کبھی کبھار انسان کو اپنے ہی معاشرے میں اجنبیت کا احساس ہونے لگتا ہے، روزانہ آپ جن گلیوں سے گزرتے ہیں ، بازاروں میں خریداری کرتے ہیں، انہی مخصوص و مانوس لوگوں سے ملتے ہیں۔ پر ایک سوال ذہنی خلیئوں پر مسلسل دستک دیتا ہے۔
کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے کے افراد ہیں اور کیا ہمارا معاشرہ مہذب کہلانے کا حقدار بھی ہے یا نہیں ؟
ہمیں اپنی تاریخ پر فخر ضرور ہے، اپنی تہذیب پر نازاں بھی ہیں اور اپنے دین پر ایمان کامل ہے۔ جو ہمیں صفائی ستھرائ، حسنِ اخلاق، عدل و انصاف، امانت و دیانت اور احترامِ انسانیت کا درس دیتا ہے، لیکن جب ہم اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں، کچھ مختلف مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ گندگی، بدنظمی، بد احتیاطی، قانون شکنی، شور و ہنگامہ ،بدتمیزی و بدتہذیبی اور حقوق کی پامالی و ان سے بے اعتنائی ،ہماری روزمرہ زندگی کا معمول بن گیا ہے اور یہ اسلاف کی روایات،تہذیب و تمدین اور دینی تعلیمات کی نفی کرتے دکھائ دیتے ہیں۔
کف افسوس کرنے کی بات یہ نہیں کہ معاشرے میں خامیاں ہیں، بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم انہیں معمول سمجھ بیٹھے ہیں اور جن حرکتوں سے شرمندہ ہونا چاہیے، وہ اب نہ عجب لگیں اور نہ معیوب، گویا برائیاں آہستہ آہستہ سرشت کا حصہ بن گئیں ہیں۔
۔
یہ تحریر کسی فرد، جماعت یا طبقے کے خلاف نہیں لکھی، اس میں سب سے پہلے خاکسار کا اپنا محاسبہ شامل ہے، کیونکہ خادم بھی اسی معاشرے کا فرد ہے اور اگر انگلی دوسروں کی طرف اٹھتی ہے،پھر بقیہ تین انگلیاں اپنی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔
اس کا اصل مقصد کسی کی تحقیر نہیں ،بلکہ ایک بھولی حقیقت کی یاد دھانی ہے،دراصل اخلاق صرف کتابوں کے سنہری حاشیوں میں لکھی کوئ چیز نہیں، بلکہ یہ روزمرہ زندگی کے اوصاف کا نام ہے۔ صاف ستھرا لباس، نرم و ملائم گفتگو، سڑک پر نظم و ضبط، دوسروں کے آرام و راحت کا خیال، احترام قانون اور دیانت داری اور ایمان داری،یہ وہ چھوٹی چھوٹی اینٹیں ہیں، جن پر ایک عظیم قوم کی مضبوط عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔
اگر اس کتابچے کا ایک بھی صفحہ، کسی قاری کو اپنے عادات و اطوار پر غور و فکر کرنے کی دعوت دے، یا خادم کو ایک بہتر انسان بننے کا پروانہ ارسال کر دے، خاکسار مسرور و شادماں ہو گا، اس کی یہ کاوش رائیگاں نہیں گئی۔
آئیے، سفر کا آغاز اپنی ذات سے کرتے ہیں، کیونکہ معاشرے کی اصلاح ہمیشہ ایک فرد کے دل کے دریچوں سے شروع ہوتی ہے۔
باب دوم
صفائی نصف ایمان
انسان کی پہلی پہچان اس کا چہرہ نہیں،بلکہ اس کی صفائی ہے اور وہ اس کا خاصا بن جاتی ہے۔ ایک صاف ستھرا، خوش لباس اور خوشبو سے معطر شخص، خاموشی ہی اس کا تعارف کرا دیتی ہے، جبکہ میلے کپڑے، بدن کی ناگوار بو اور بے ترتیبی، گفتگو سے پہلے ہی دوسروں پر منفی تاثر چھوڑ کر،متنفر کر سکتی ہے۔
اسلام نے طہارت کو صرف جسمانی ضرورت نہیں، بلکہ عبادت کا حصہ قرار دیا ہے اور نصف ایمان قرار دیا ہے۔ وضو، غسل، مسواک، ناخن تراشنا، زیرِ بغل اور دیگر جسمانی صفائی کے احکامات، اس بات کا بین ثبوت ہیں اور واقعی ہمارا دین، انسان کو ہر اعتبار سے پاکیزہ دیکھنا چاہتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے صفائی کو اکثر غربت یا امارت سے منسلک کر دیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور صفائی کا تعلق جیب سے کم اور عادت و اطوار سے زیادہ ہے۔
دنیا میں بے شمار ایسے ممالک ہیں، جہاں وسائل محدود ہونے کے باوجود، لوگ اپنے جسم، لباس اور ماحول کو صاف رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔
صاف لباس پہننے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نیا یا مہنگا ہو،اجلا دھلا ہوا، استری شدہ اور خوشبودار لباس انسان کے ذوق اور دوسروں کے احترام کی علامت بنتا ہے۔ اسی طرح باقاعدگی سے غسل کرنا، ہاتھ منہ دھونا، دانت صاف رکھنا، ناخن تراشنا اور بدن کی ناگوار بو کا خیال رکھنا صرف ذاتی معاملہ نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے ، جسمانی صفائ کی بد احتیاطی، دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے اور دوری بھی پیدا کر سکتی ہے۔ بند کمرے، مسجد، دفتر، بس یا چھک چھک (ٹرین) میں بیٹھے لوگ، ہماری صفائی یا اس کی کمی سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں اور غیر مذہب و غیر ملکی کیا تاثر کیں گے۔ مہذبی انسان وہ ہے، جو اپنے آرام کے ساتھ دوسروں کے آرام کا بھی خیال رکھے اور یہی انسان کے درجات بلند کرتا ہے۔
صفائی صرف جسم اور لباس تک ہی محدود نہیں،گھر، گلی، بازار، مسجد، باغیچہ اور سڑک بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہیں۔ جو قومیں اپنے ماحول کو صاف رکھتی ہیں، وہ درحقیقت اپنے کردار کی صفائی کا بھی اظہار کرتی ہیں اور ان کے شہری فخر سے سر بلند رکھتے ہیں۔
اصلاح کا آغاز کسی بڑے منصوبے سے نہیں ہوتا، اگر ہم روزانہ چند لمحات اپنی ذات، اپنے لباس اور اپنے اردگرد کی صفائی کے لیے نکالیں، یہ یقینا ایک چھوٹا سا عمل ہے،پر یہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی صورت بدل سکتا ہے۔صفائی محض ایک عادت نہیں،یہ ہماری تہذیب کا حصہ اور دین کا جز ہے اور تہذیب ہی قوموں کو ممتاز بناتی ہے۔ جاری ہے
واپس کریں