
کشمیر میں جاری دھرنوں، احتجاج اور ہنگاموں کو وفاقی حکومت اور اس کے سیکیورٹی ادارے ابھی تک محض امن و امان کے تناظر میں دیکھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ چند شرپسند افراد ہیں جنہوں نے نوجوانوں کی بے چینی سے فائدہ اٹھا کر انہیں سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی سوچ کے تحت وفاقی حکومت سے پولیس آپریشن کی منظوری حاصل کی گئی۔ مقامی سیاستدانوں کی اکثریت نے کل جماعتی کانفرنس کرکے مسئلے کے انتظامی حل کی حمایت کی، اور یوں پولیس، خفیہ ادارے اور مقامی سیاستدان سب ایک صفحے پر آگئے۔
خیال تھا کہ دو چار چھتر پڑیں گے تو ایکشن کمیٹی اور اس کے حامیوں کو راستہ نہیں ملے گا۔ لیکن عوامی ردعمل توقعات کے برعکس نکلا۔ کئی نوجوان مظاہرین اور فورسز کے جوان جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کو تھانوں میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن احتجاج نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ احتجاج کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔
اس مسئلے کے حل کی کوئی واضح راہ دکھائی نہیں دے رہی۔ بدقسمتی سے آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاستدانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں بے بس اور لاتعلق کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آئی جی پولیس اور مقامی سیاستدانوں کے بیانات اور طرزِ عمل میں کوئی فرق نہیں رہا۔ چنانچہ اب کوئی ایسا نہیں جو ایکشن کمیٹی سے بات کرے، اسے فیس سیونگ دے، اور ہزاروں لوگوں کو گھروں کو واپس بھیج سکے۔
سیکیورٹی سے متعلق اداروں کی تربیت ہی بندوق، تھانے اور کچہری کی ہوتی ہے۔ وہ ہر مسئلے کو انتظامی عدسے سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، جب کہ سیاستدان مسائل کو سیاسی اور غیر روایتی طریقوں سے حل کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جس نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کے سینئر سیاستدان قدم بڑھائیں اور کوئی قابلِ قبول معاہدہ کرائیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے پیشکش کی ہے۔ ان کے ساتھ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، مشاہد حسین اور کچھ دیگر معتبر شخصیات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ اس طرح راولاکوٹ کا احتجاج بھی ختم کرایا جاسکتا ہے، اور حکومت، انتظامیہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی فیس سیونگ مل سکتی ہے۔
اب تک احتجاج مجموعی طور پر پرامن ہے۔ لیکن جس طرح ہر دو دن بعد شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ کسی بڑے المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ ایک بات مت بھولیں کہ آزاد کشمیر کے کم از کم بارہ لاکھ شہری یورپ میں آباد ہیں، جو ہمیشہ پاکستان کا اثاثہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ گزشتہ چند دنوں سے پاکستانی سفارت خانوں کے باہر ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ اگر مزید ہلاکتیں ہوئیں تو امریکا، برطانیہ، یورپ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں قائم پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے ہجوم در ہجوم لوگ اکٹھے ہوں گے۔
اس منظرنامے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی حکام کو اپنی انا کی قربانی دینی ہوگی۔ اگر کسی بڑے مقصد کے لیے تھوڑی سی ناک کٹ بھی جاتی ہے تو کوئی ہرج نہیں۔
واپس کریں