محترم صدرِ مملکت و وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

جنابِ والا،یہ آواز فتنہ نہیں، مظلوم کشمیریوں کی فریاد ہے۔ کشمیر پاکستان کی فرنٹ لائن ہے۔ آج آزاد کشمیر میں عوام دو برس سے اپنے آئینی حقوق مانگ رہے ہیں، جواب میں گولی اور قید ملی۔
ان کا مطالبہ بغاوت نہیں، آئین پر عمل ہے۔ آٹے اور بجلی پر رعایت انصاف ہے۔ منگلا کا پانی پورا ملک پیتا ہے تو ساحل نشینوں کا لاگت پر بجلی مانگنا جرم نہیں۔ شاہانہ اخراجات پر پابندی، خزانے پر عوامی نگرانی، طلبہ یونین کی بحالی، کرپشن کا خاتمہ، میرٹ و انصاف کا قیام، تعمیر و ترقی اور صحت کی سہولیات، پُرامن احتجاج کا حق — یہ سب عین آئین ہے۔ اسے بغاوت کہنا خود آئین سے بغاوت ہے۔
آپ دنیا میں کشمیریوں کے وکیل ہیں۔ وکیل موکل پر گولی نہیں چلاتا، اس کا دفاع کرتا ہے۔ اگر موکل آپ کے در سے لہولہان لوٹے تو مقدمۂ حریت کون لڑے گا؟
الم ناک حقیقت یہ ہے کہ جو کشمیری کل تک بھارتی سفارت خانوں کے سامنے بھارت کے خلاف صف آرا تھے، آج وہی پاکستانی فورسز کے جبر کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یہ لوگ پاکستان یا فوج کے خلاف نہیں، اپنے گھر میں حق مانگنے نکلے ہیں۔ ان کے منشور میں ایک حرف بھی پاکستان کے خلاف نہیں، پھر یہ خونِ ناحق کیوں؟ ایسا جبر تو دشمن بھارت نے بھی پُرامن مظاہرین پر روا نہیں رکھا۔ آپ بھائی ہیں، وکیل ہیں، پاکستان کا تو دعویٰ ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،تو کیا کوئی اپنی شہ رگ پر وار کرتا ہے؟
خدارا فورسز کو فوراً واپس بلائیے۔ قتلِ عام بند کیجیے۔ یہ فرسودہ حربہ ترک کیجیے کہ ہر سوال اٹھانے والا "بھارتی ایجنٹ" ہے۔ اس بہتان سے خود کو اپنی عوام اور دنیا کے سامنے رسوا نہ کیجیے۔ دنیا اب یہ من گھڑت الزام نہیں مانتی ۔ یہی الزامات اسی اسٹیبلشمنٹ نے مادرِ ملت فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر بھی آواز دبانے کو لگایا تھا۔ کیا وہ سچ تھے؟ یہ عقل و دانش کے خلاف بھونڈی چالیں ہیں۔
میڈیا کشمیریوں کو "بھکاری" کہتا ہے، حالانکہ معیشتِ پاکستان کا بڑا سہارا کشمیر کے پانی، بجلی اور وسائل ہیں۔ گر آج کشمیری اپنا سرمایہ بینکوں سے نکال لیں تو معیشت لڑکھڑا جائے۔ پھر یہ طعنہ کیوں؟
لہٰذا مئی 2024 اور 5 جون اور 9 جون 2026 کے سانحات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی سے باوقار مذاکرات کیے جائیں۔ غیر مقامی فورسز کی تعیناتی ختم کی جائے۔ شہداء کو انصاف، زخمیوں کو علاج، اسیروں کو رہائی دی جائے۔ بجلی، پانی اور جنگل پر پہلا حق اہلِ کشمیر کا تسلیم کیا جائے۔
گولی کی جگہ گفتگو، جبر کی جگہ عدل لائیے۔ وکیل موکل کے زخم پر مرہم رکھتا ہے، نمک نہیں۔ کچھ تو سوچیے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
منجانب: لالہ کشمیری۔دلاور خان ایڈووکیٹ
واپس کریں