ظالمانہ و جابرانہ اور نو آبادیاتی ساخت پر مشتمل نظامِ ریاست و حکومت کی بے بسی
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے ، مرکزی قیادت کی گرفتاری کی قیمت سرکاری سطح پر مقرر ہے اور پوری ریاست میں اِس وقت نو آبادیاتی دور اور قانون کی ظالمانہ دفعہ 144 نافذ ہے۔
لیکن اِس وقت پوری ریاست پر ایکشن کمیٹی راج کر رہی ہے اور قیادت بغیر کسی خوف اور ڈر کے میدان میں موجود ہے ۔ لانگ مارچ سے قبل راولاکوٹ میں رینجرز نے فائر کھول کر عوام کے اندر خوف وہراس پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی ، لیکن کشمیری عوام نے بھرپور اور سخت ردعمل دیتے ہوئے لانگ مارچ سے قبل ہی پوری ریاست کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی صورت میں جام کر کے رکھ دیا ،اور پوری قوت کے ساتھ ہر ضلع سے لانگ مارچ کا آغاز کرتے ہوئے مزاحمت کی ایک شاندار اور تاریخی مثال قائم کی ہے۔
فوج ، رینجرز، پولیس ، کمشنرز ، اے-سیز اور ڈی-سیز میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنے قانون پر عملدرآمد کروا سکیں اور اپنی نو آبادیاتی ذہنیت پر عمل کرتے ہوئے اِس مزاحمت کو کچل سکیں ، حتیٰ کے ریاستِ کشمیر کا وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور بھاگ کر اسلام آباد آ کر بیٹھا ہوا ہے اور اپنی عوام کا سامنا کرنے سے قاصر ہے ، اور دیگر سارے سیاست دان اور ممبرانِ اسمبلی بھی مکمل طور پر منظر عام سے غائب ہیں۔
کشمیریوں کے مطالبات اور مزاحمت کے طریقہ کار پر بات ضرور ہو سکتی ہے اور ہم اُسے اقوامِ عالم کی انقلابی تاریخ اور مطالبہ حقوق کی مزاحمتی تحریکات کی روشنی میں ایک آئیڈیل اور انقلابی مزاحمت کی مثال کے طور پر پیش نہیں کر سکتے ، لیکن کم از کم اِس خطے میں سول و ملٹری مقتدرہ نے جبر و استبداد اور خوف کی جو فضاء قائم کر رکھی ہے ، اُس جبر اور خوف کے بت کو ہر قسم کی نظریاتی ، مسلکی اور سیاسی و مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر کشمیر کے لوگوں نے اپنے بنیادی حقوق کے مطالبات پر یکجا ہو کر توڑ کے رکھ دیا ہے اور ڈٹ جانے کی ایک نہایت شاندار مثال قائم کی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کا ریاستی میڈیا اور نظام کے آلہ کار سیاسی ، مسلکی اور مذہبی گروہ اپنے آقاؤں کی طرف سے دی جانے والی ڈائریکشن پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی پیٹرن پر روایتی پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور ریاست بھی اِس دفعہ ایک ہی پیٹرن پر حالات کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے مثلاً !
انٹرنیٹ سروسز بند کرو ، موبائل سروسز بند کرو ،
کرفیو لگاؤ ، راستوں کی ناکہ بندی کرو ،
پولیس اور فوج کی گاڑیوں کی لمبی قطار کے ساتھ سڑکوں پر مارچ کر کے خوف و ہراس پیدا کرو اور بیانیہ تشکیل دو کہ :
یہ انڈین ایجنٹ ہیں ، را کے ساتھ تعلقات ہیں
اِنکے گھروں سے بھارتی کرنسی برآمد ہو گئی ہے
جدید ترین اسلحہ کی کھیپ پکڑی گئی ہے
یہ ریاست مخالف گروہ ہے ، یہ دہشت گرد اور انتہا پسند ہیں اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔
بالکل اِسی پیٹرن کے تحت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو ڈیل کیا جاتا رہا اور پنجاب کی جن سیاسی اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کُچلا گیا ، اُن پر بھی یہی الزامات لگائے گئے۔
اور مستقبل بھی جو بھی حقوق کی تحریک اُٹھے گی ، اُن پر بھی یہی الزامات لگائے جائیں گے ۔ یہ طے شدہ بات ہے۔
لیکن کشمیر کی موجودہ تحریک کے خلاف ہر قسم کا ریاستی پروپیگنڈا اِس لیے ناکام ہو گیا ہے ، کیونکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے ، جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی تحریک کو آج بھی حقیقی معنوں میں عوامی حمایت حاصل ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اُسے شکست نہیں دے سکتی ہے۔۔
اصل طاقت عوام کی ہوتی ہے اور عوام اُس قیادت پر جان نچھاور کرتی ہے جو اُن میں ہی اٹھتی بیٹھتی ، کھاتی پیتی ہو اور بغیر کسی نموو نمائش اور پروٹوکول کے اُنکی ہر خوشی غمی اور دکھ درد میں شریک رہتی ہو۔
شوکت نواز میر
خواجہ مہران ایڈووکیٹ
سعد انصاری ایڈووکیٹ
سردار عمر نظیر کشمیری
یہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کا وہ محنت کش طبقہ ہے جن کے قول و فعل سے ہر بندہ واقف ہے اور جن کے کام کاج اور طرز زندگی سے بھی ہر شخص شناسا ہے۔
آج یہ عوام کے جم غفیر کی قیادت کرتے ہوئے میدانِ عمل میں ہیں ، لیکن اِنکو گرفتار کرنا ناممکن ہے کیونکہ لاکھوں کشمیری اِنکے ارد گرد جمع ہیں۔
اگر سندھی ، بلوچ ، پختون اور پنجابی سمیت دیگر تمام اکائیاں اپنے ہر قسم کے اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق لینے کے لیے اور سیاسی شعور حاصل کر کے متحد ہو جائیں تو ظالم ، جابر ، مفاد پرست اور نہایت سفاک اشرافیہ کی نیندیں حرام ہو جائیں گی۔یقین کیجیے!
اِنکو منہ چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔
کشمیریوں کی موجودہ جدوجہد ہر خطے کے مظلوموں کے لیے ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے ، یہ مزاحمت کی ایک ابتدائی اور ارتقائی شکل ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو گئی تو یہ مستقبل کی تمام مزاحمتی تحریکات کی بنیاد بنے گی ان شاءاللہ ۔
ہر علاقے اور خطے کو بیدار ہونا چاہیے ، اپنے حقوق کی پہچان ہونی چاہیے ، پُرامن انداز میں متحد اور منظم ہونا چاہیے اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔
واپس کریں