دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”بغاوت اور طاقت کا تاریخی گول چکر“
No image طاقت خوف پیدا کرتی ہے، خوف نفرت پیدا کرتا ہے، نفرت بغاوت جنم دیتی ہے اور بغاوت طاقت کو کچل دیتی ہے۔نفرت وہ آگ ہے جو سارے نظام کو راکھ کر دیتی ہے اوربغاوت وہ طوفان ہے جو طاقت کے محل کو زمین بوس کر دیتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو اورجو طاقت رعب اور دہشت پر قائم ہو، وہ عارضی ہوتی ہے۔
یہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ظلم سے پیدا ہونے والا خوف آخر کار ظالم کو ہی نگل جاتا ہے اورطاقت و بغاوت ایک دوسرے کے دشمن نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے نتیجے ہیں۔جب حکمران خوف پیدا کرتے ہیں تو عوام چپ چاپ نفرت جمع کرتے رہتے ہیں، پھر ایک دن پھٹ پڑتے ہیں۔طاقت اگر ظلم کی بنیاد پر کھڑی ہو تو اس کی سب سے بڑی دشمن اس کا اپنا سایہ بن جاتا ہے۔
بغاوت صرف کمزور لوگوں کا ردعمل نہیں، بلکہ طاقت کے غلط استعمال کا ناگزیز انجام ہے اورخوف، نفرت اور بغاوت کا یہ”گول چکر“ تب تک چلتا رہے گا جب تک طاقت انصاف اور رحم کی بجائے زور و جبر پر چلتی رہے گی۔
طاقت، خوف، نفرت اور بغاوت کے خاتمہ کا یہ”گول چکر“ تاریخ میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ 1789 میں فرانس کے بادشاہ لوئی کی مطلق العنان حکومت نے جب اپنے عوام پر بھاری ٹیکس، غربت اور ناانصافی کا بوجھ ڈالا، درباریوں اور اشرافیہ کی عیاشی جاری تھی جبکہ عوام بھوک سے مر رہے تھے۔ بادشاہ کی فوج اور پولیس عوام کو دباتے رہے نتیجے میں یہ خوف آہستہ آہستہ شدید نفرت میں تبدیل ہوا۔
روسی انقلاب۔ 1917میں زار نکولس دوئم کی سلطنت میں عوام پر جبر، غربت، بھوک اور جنگ عظیم کا بوجھ تھا۔ خفیہ پولیس (اوکرنا) اور فوج مخالفین کو کچلتی رہی اور لمبے عرصے کے جبر نے عوام میں زار خاندان کے خلاف گہری نفرت پیدا کر دیا۔
فروری 1917 میں انقلاب برپا ہوا، زار کو تخت سے اتارا گیا، اکتوبر میں بولشویکوں نے اقتدار سنبھال لیا اور زار اور اس کا پورا خاندان بعد میں قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح 1979 میں شاہ محمد رضا پہلوی کی ایرانی حکومت، امریکی حمایت یافتہ تھی۔ خفیہ پولیس نے مخالفین کو بدترین تشدد، گرفتاریوں اور ٹارچر کے ذریعے کچلا۔ ایرانی خفیہ پولیس SAVAK کا نام سن کر لوگ کانپ جاتے تھے۔
دوسری جانب ایرانی مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی کی قیادت میں عوام نے اپنے شاہ کے خلاف شدید نفرت ظاہر کی اور 1978-79 کے مظاہروں نے شاہ ایران کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور خمینی کی اسلامی جمہوریہ قائم ہو گئی۔
برطانوی راج نے ہندوستانی عوام پر اقتصادی استحصال، نسل پرستی اور جبر کیا۔ جلیانوالہ باغ کا قتل عام کسے یاد نہیں۔ برطانوی پولیس اور فوج کی دہشت سے خوف اور اور نفرت پید ہوئی اور یہ خوف اور نفرت آزادی کی تحریک میں تبدیل ہوئی۔ 1857 کی جنگ آزادی سے لے کر 1947 تک کی تحریک نے بالآخر برطانوی راج کی طاقت کو کو ہندوستان سے نکال باہر کیا۔
رومن سلطنت میں بھی غلاموں پر رومی ظلم نے عوام کے اندر خوف اور نفرت پیدا کی، جس نے بڑی بغاوت کو جنم دیا۔
عرب اسپرنگ (2010-11) تیونس، مصر اور لیبیا میں آمریتوں (جیسے بن علی، مبارک) نے اپنے ممالک م میں خوف اور جبر کا ماحول بنایا، جو عوامی بغاوتوں میں تبدیل ہوا اور کئی حکومتیں گر گئیں۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ظلم اور جبر پر مبنی طاقت عارضی ہوتی ہے، جب تک کہ طاقت انصاف، رحم اور عوام کی بھلائی پر قائم نہ ہو، یہ”گول چکر“ دہراتا رہے گا۔
بغاوت اور طاقت کا یہی”گول چکر“ آ ج کل خطہ آذاد کشمیر میں دیکھا جا رہا ہے جس کا نتیجہ بھی عوام کی فتح کی صورت میں نکلے گا کیونکہ یہی فطری اصول ہے۔
واپس کریں