دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کے سیاسی خانہ بدوش: بدلتی وفاداریاں اور اقتدار کی سیاست۔ خالد خان
No image یہ مضمون کسی فرد یا جماعت پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں لکھا جا رہا۔ اس کا مقصد پاکستان کی سیاست کے ایک ایسے رجحان کا جائزہ لینا ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے اور جس نے عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات پیدا کیے ہیں۔ یہ رجحان سیاسی وفاداریوں کی بار بار تبدیلی ہے، جسے عوامی زبان میں "لوٹا سیاست" بھی کہا جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک مختلف سطحوں کے تقریباً 600 سیاستدانوں نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کی ہیں، تاہم طوالت سے بچنے کے لیے ہم اس فہرست میں چند سو منتخب سیاستدانوں کا ذکر کریں گے جنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران متعدد بار جماعتیں تبدیل کیں یا مختلف ادوار میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز سے اقتدار کا حصہ بنے۔ ان میں سابق وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں۔
یہ فہرست بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعت تبدیل کرنا ایک قانونی عمل ہے۔ تاہم جب یہی عمل بار بار دہرایا جائے، جب نظریات بدلنے کے بجائے صرف جماعتیں بدلتی نظر آئیں، اور جب ہر دورِ حکومت میں تقریباً وہی چہرے اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہیں تو عوام کے ذہن میں سوالات کا جنم لینا فطری بات ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ گیس، بجلی، پٹرول، ادویات، تعلیم اور روزمرہ زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب سیاسی اشرافیہ کے طرزِ زندگی میں مسلسل شاہانہ اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اگر سیاست عوامی خدمت ہے تو بہت سے سیاستدان سیاست میں آنے کے بعد غیر معمولی مالی ترقی کیسے حاصل کر لیتے ہیں؟
اگر سیاست ایک خرچ طلب سرگرمی ہے تو انتخابی مہمات، جلسے جلوس، سیاسی دفاتر اور کارکنوں کے اخراجات کے لیے وسائل کہاں سے آتے ہیں؟
اگر کسی سیاستدان کے معلوم ذرائع آمدن محدود تھے تو بعد ازاں وسیع جائیدادیں، قیمتی گاڑیاں، فارم ہاؤسز، کاروباری سلطنتیں اور دیگر اثاثے کس بنیاد پر وجود میں آئے؟
اگر تمام معاملات مکمل طور پر قانونی اور شفاف ہیں تو عوام کو ان اثاثوں کی تفصیلات تک آسان رسائی کیوں نہیں دی جاتی؟
یہ سوالات کسی ایک جماعت سے متعلق نہیں ہیں۔ یہ سوالات پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے بااثر رہنماؤں سے متعلق ہیں۔
عوام یہ بھی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک سیاستدان پہلے ایک جماعت کو ملک کی نجات دہندہ قرار دیتا ہے، پھر چند سال بعد دوسری جماعت میں چلا جاتا ہے، پھر تیسری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے اور بعد ازاں کسی چوتھی جماعت کا پرچم اٹھا لیتا ہے تو اس کے نظریات آخر تھے کیا؟
کیا نظریات بدلتے رہے یا صرف سیاسی مفادات؟
پاکستان کے آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق ارکانِ اسمبلی کا بنیادی کام قانون سازی، پالیسی سازی، بجٹ کی نگرانی اور حکومت کا احتساب ہے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو سیاسی مقابلے کا بڑا حصہ ترقیاتی فنڈز، سڑکوں، نالیوں، سکیموں اور ٹھیکوں کے گرد گھومتا ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر ترقیاتی کام مقامی حکومتوں اور انتظامی اداروں کی ذمہ داری ہے تو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز براہِ راست ارکانِ اسمبلی کے اختیار میں کیوں دیے جاتے ہیں؟
کیا یہی وہ نظام نہیں جس نے بلدیاتی اداروں کو کمزور کیا؟
کیا یہی وہ نظام نہیں جس نے سیاست کو قانون سازی کے بجائے ترقیاتی فنڈز کی سیاست میں تبدیل کر دیا؟
کیا یہی وہ نظام نہیں جس کے ذریعے سیاسی اثر و رسوخ، وفاداریاں اور انتخابی طاقت قائم رکھی جاتی ہے؟
یہ مضمون کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیتا۔ جرم کا تعین عدالتیں کرتی ہیں۔ تاہم یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں متعدد سیاستدانوں کے خلاف نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں میں تحقیقات، مقدمات اور عدالتی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ بعض افراد بری ہوئے، بعض کو سزائیں ہوئیں، بعض نے پلی بارگین کی اور بعض مقدمات مختلف وجوہات کی بنا پر ختم ہوئے۔
اس پس منظر میں عوام کا یہ مطالبہ غیر معقول نہیں کہ تمام سیاسی شخصیات کے اثاثوں، ذرائع آمدن، ٹیکس ریکارڈ، کاروباری مفادات اور سیاست میں آنے سے پہلے اور بعد کی مالی صورتحال کا مکمل اور شفاف ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جائے۔
اس فہرست میں شامل سینکڑوں سیاستدان صرف افراد نہیں بلکہ ایک سیاسی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک ایسا رجحان جس میں جماعتیں بدلتی ہیں، اتحاد بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں مگر اقتدار کے مراکز میں اکثر وہی چہرے نظر آتے ہیں۔
لہٰذا اصل سوال کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کا ہے۔
کیا پاکستان میں سیاست نظریات کی بنیاد پر ہو رہی ہے یا اقتدار کی بنیاد پر؟
کیا عوام کے ووٹ کی وفاداری کا احترام کیا جا رہا ہے یا اسے سیاسی سودے بازی کا حصہ بنا دیا گیا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کے عام شہری کو یہ جاننے کا حق کب ملے گا کہ اس کے نام پر سیاست کرنے والوں کی دولت، اختیارات اور سیاسی طاقت کا حقیقی ماخذ کیا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی جواب طلب ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران ایسے کئی رہنما سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے وقت، حالات اور سیاسی مفادات کے مطابق اپنی جماعتی وابستگیوں میں تبدیلیاں کیں اور مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ فیصل صالح حیات نے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، دوبارہ پیپلز پارٹی اور بعد ازاں مسلم لیگ ن کے ساتھ مختلف ادوار میں سیاسی وابستگی اختیار کی۔ فردوس عاشق اعوان نے مسلم لیگ ق سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئیں اور پھر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئیں۔ جمشید احمد دستی نے پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کیا اور بعد ازاں آزاد حیثیت میں مختلف سیاسی اتحادوں کے ساتھ اپنا کردار جاری رکھا۔
شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ سے اپنی سیاسی زندگی شروع کی، بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پھر پاکستان تحریک انصاف میں اہم مناصب تک پہنچے۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ کے ایک سینئر رہنما رہے، بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پھر دوبارہ اپنی سیاسی سمت تبدیل کی۔ جہانگیر خان ترین نے مسلم لیگ ق سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوئے۔
غلام سرور خان نے پیپلز پارٹی سے سیاست شروع کی، بعد میں مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے اور پھر پاکستان تحریک انصاف کے دور میں وزارتوں تک پہنچے۔ پرویز خٹک نے پیپلز پارٹی سے اپنی سیاسی ابتدا کی، پھر قومی وطن پارٹی میں چلے گئے اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے منصب تک پہنچے۔
نور عالم خان نے پیپلز پارٹی سے سیاسی سفر شروع کیا اور بعد میں مختلف سیاسی مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی کی۔ ناصر خان موسیٰ زئی نے مسلم لیگ ن سے آغاز کیا اور بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ رہے۔ عبیداللہ مایار نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنا سیاسی سفر جاری رکھا۔
نبیل گبول متحدہ قومی موومنٹ سے ابھرے اور بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ بابر اعوان پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما رہے اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے۔ نذر محمد گوندل نے پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔
امتیاز صفدر وڑائچ پیپلز پارٹی سے نکل کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ نادر اکمل لغاری مسلم لیگ ن سے نکل کر پاکستان تحریک انصاف میں آئے۔ عائشہ گلالئی نے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر کے آزاد سیاسی راستہ اپنایا۔ لیاقت علی جتوئی نے مسلم لیگ، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ مختلف ادوار میں سیاسی سفر کیا۔
اسی سیاسی تسلسل میں ناز بلوچ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مختلف سیاسی وابستگیوں کے ساتھ کیا اور بعد میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنا سیاسی کردار جاری رکھا۔ راجہ ریاض نے پیپلز پارٹی سے سیاست شروع کی، بعد میں پاکستان تحریک انصاف اور پھر مختلف سیاسی مراحل سے گزرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی وابستگی اختیار کی۔ نورالحق قادری نے آزاد حیثیت سے سیاسی سفر شروع کیا اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ بنے۔
جواد حسین طوری نے آزاد سیاسی حیثیت سے آغاز کیا اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو کر مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ میجر طاہر صادق نے مسلم لیگ ق سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ رہے۔ فرخ الطاف نے مسلم لیگ ق سے اپنی سیاسی شناخت بنائی اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ چوہدری فواد حسین نے مسلم لیگ ق سے آغاز کیا اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف میں اہم حکومتی کردار ادا کیا۔
شوکت بھٹی نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھا۔ امیر سلطان چیمہ نے مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مختلف مراحل طے کیے۔ ملک عمر اسلم اعوان نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کو وقت کے ساتھ تبدیل کیا۔ ثنا اللہ مستی خیل نے مسلم لیگ ن اور بعد میں دیگر سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنا سیاسی سفر جاری رکھا۔ اعظم سواتی، غلام مصطفی جتوئی اور طلحہ محمود بھی اسی سیاسی تسلسل کا حصہ رہے۔
افضل خان ڈھانڈلہ نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ غلام محمد لالی نے بھی اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ تعلق رکھا۔ چوہدری اسلم نذیر نے مسلم لیگ ن اور بعد میں دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی وابستگی اختیار کی۔ نواب شیر وسان نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنا سیاسی کردار ادا کیا۔
رضا نصراللہ گھمن نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ فیض اللہ کموکا نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کو برقرار رکھا۔ ریاض فتیانہ نے مسلم لیگ ق سے آغاز کیا، بعد میں مسلم لیگ ن اور پھر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ صاحبزادہ محبوب سلطان نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاسی سفر جاری رکھا۔
غلام بی بی بھروانہ نے مختلف سیاسی مراحل میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ شفقت محمود نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی ذمہ داریاں مختلف حکومتوں میں انجام دیں۔ ملک کرامت کھوکھر نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا۔ سردار طالب نکئی نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیاسی سفر جاری رکھا۔
فخر امام نے اپنے سیاسی کیریئر میں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ملک احمد حسین ڈیہڑ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ ملک عامر ڈوگر نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کیا۔ رانا قاسم نون نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا۔
میاں شفیق، طاہر اقبال اور اورنگزیب کھچی نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ عمر ایوب خان نے مختلف سیاسی مراحل میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔
سردار ذوالفقار دلہہ، بیرسٹر ارشد عبداللہ، ارشد عمرزئی، لیاقت خٹک اور احد خٹک نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ میاں ذوالفقار، ولی محمد خان، ابرار حسین تنولی اور افتخار مہمند نے بھی اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ تعلق رکھا۔
ظفر علی خان، حمیداللہ جان، اقبال دین فناء، شیر اعظم خان اور ملک عدنان نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاسی سفر جاری رکھا۔ آغاز گنڈاپور، خان پرویز خان، سلطان محمد خان اور یاسین خلیل نے بھی مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔
اسی سیاسی تسلسل میں ارباب عثمان، گل صاحب خان، زرین گل خان اور ڈاکٹر حیدر خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور بدلتے ہوئے سیاسی ماحول کے مطابق اپنی وابستگیوں کو آگے بڑھایا۔ ضیاء اللہ آفریدی نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا اور وقت کے ساتھ اپنی سیاسی سمت تبدیل کی۔ عابداللہ یوسفزئی، زر گل خان، واجد علی خان اور شاہ جی گل آفریدی نے بھی مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔
بلال آفریدی، شفیق آفریدی اور شیر رحمان نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنا سیاسی کردار جاری رکھا۔ محمد عمر اور صادق الرحمان پراچہ نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات قائم رکھے۔
پرویز احمد، خرم جہانگیر وٹو اور روبینہ شاہین وٹو نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنا سیاسی سفر جاری رکھا۔ ندیم افضل چن نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور مختلف حکومتی ادوار میں اہم کردار ادا کیا۔ سمیع بخاری اور طارق انیس نے بھی مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کیا۔
خواجہ شیراز اور سیف الدین کھوسہ نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ سکندر حیات بوسان نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ مختلف ادوار میں سیاسی کردار ادا کیا۔ مصطفیٰ کھر نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا۔
عاشق گوپانگ، خسرو بختیار اور عامر گوپانگ نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ نیاز جھکر اور رضا حیات ہراج نے مختلف سیاسی مراحل میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ علی گیلانی اور حنا ربانی کھر نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔
انجینئر امیر مقام، شیخ رشید، ماروی میمن ، علیم خان اور جمال لغاری نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی سفر میں مختلف ادوار گزارے۔ اویس لغاری اور حنیف عباسی نے بھی مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ ڈاکٹر اسرار شاہ، انور بیگ، رانا نذیر اور نادیہ عزیز نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی کردار ادا کیا۔
نوابزادہ غضنفر گل، نصراللہ دریشک اور اصغر شاہ نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا۔ طاہر بشیر چیمہ، جعفر لغاری اور ذوالفقار کھوسہ نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔
چوہدری نثار، شوکت بسرا اور اقبال شاہ نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اپنا سیاسی سفر جاری رکھا۔ شیر علی گورچانی، پرویز گورچانی اور حفیظ الرحمان دریشک نے بھی مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھا۔ شمونہ میر بادشاہ قیصرانی اور عائشہ نذیر جٹ نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی کردار ادا کیا۔
ظفر قریشی، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، سلطان ہنجرا، قاسم ہنجرا اور میاں طارق نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ رانا بلال اعجاز، واجیہہ قمر، عامر کیانی اور طارق فضل چوہدری نے مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔
شوکت ترین، شیریں مزاری، علی زیدی اور میاں اسلم اقبال نے مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ علی نواز اعوان، ارباب غلام رحیم، وسیم قاسم عباسی اور اسد عمر نے مختلف سیاسی مراحل میں مختلف سیاسی کردار ادا کیا۔
احمد یار ہراج، رائے حسن نواز، میاں منظور احمد وٹو، افتخار حسین گیلانی اور نثار محمد خان نے بھی مختلف سیاسی ادوار میں مختلف سیاسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔
اسی سیاسی تسلسل میں باقی رہ جانے والے کئی رہنما بھی ایسے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں اپنی سیاسی وابستگیوں اور جماعتی تعلقات کو وقت اور حالات کے مطابق تبدیل کیا اور ملکی سیاست میں مختلف کردار ادا کیے۔
لکی مروت کے سلیم سیف اللہ خان برادران، نوابزادہ محسن علی خان، خواجہ محمد طوطی، خانزادہ خان، نسیم الرحمن اور پشاور کے ارباب جہانگیر خان کے علاوہ سینکڑوں سیاسی رہنماؤں نے وقت اور حالات کے مطابق اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کیا۔
ایم کیو ایم بطور جماعت اس سیاسی کھیل میں مختلف ادوار میں اقتدار کے حصول اور سیاسی بقا کے لیے متحرک رہی۔
پاکستان کے قیام سے لے کر تادمِ تحریر تقریباً 600 سیاسی رہنما، جن میں صوبائی اور قومی سطح کے رہنما شامل تھے، سیاسی حالات کے مطابق اپنی وابستگیوں میں تبدیلی کرتے رہے۔ ان کے ہاں نظریات، ضمیر اور سیاسی اخلاقیات اکثر عملی سیاست کے تابع نظر آتے رہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر صرف نعروں یا ادوار کے تناظر میں نہیں بلکہ مسلسل انسانی رویوں اور عملی تجربے کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک ایسا پیٹرن سامنے آتا ہے جس میں سیاسی جماعتیں کم اور سیاسی شخصیات زیادہ متحرک نظر آتی ہیں۔ یہاں نظریاتی سیاست کے دعوے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر عملی سطح پر طاقت، اثر و رسوخ اور اقتدار کے گرد گھومتی ہوئی سیاست ایک مستقل حقیقت بن جاتی ہے۔
اسی پس منظر میں جب مختلف ادوار کے ان سیاستدانوں کو ایک ساتھ رکھا جائے جو ایک سے زیادہ جماعتوں کا حصہ رہے، تو یہ صرف افراد کی فہرست نہیں رہتی بلکہ ایک بڑے نظام کی جھلک بن جاتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں وفاداریاں جامد نہیں رہتیں، بلکہ حالات، اقتدار کی سمت، اور طاقت کے مراکز کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ان ناموں کا ذکر یہاں کسی فرد کو ہدف بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایک مجموعی سیاسی رجحان کو سمجھنے کے لیے کیا گیا ہے، جس میں سیاست ایک مسلسل حرکت کرتی ہوئی حقیقت نظر آتی ہے۔
یہ رجحان صرف پارٹی تبدیلی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ جب سیاستدان مختلف ادوار میں مختلف جماعتوں کا حصہ رہتے ہیں تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی وابستگی نظریاتی ہے یا انتظامی و مالی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست صرف نعرے نہیں رہتی بلکہ ریاستی وسائل، ترقیاتی منصوبوں، اور اقتدار کے عملی استعمال سے جڑ جاتی ہے۔
اس نظام کے اندر ایک عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے مالی حالات اور طرزِ زندگی میں وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے اور بعد کے معاشی فرق، سرکاری اختیارات کا استعمال، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم، اور ٹھیکہ جاتی نظام میں اثر و رسوخ جیسے عوامل عوامی بحث کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو الزام نہیں بلکہ ایک اجتماعی مشاہدے کے طور پر بار بار سامنے آتے ہیں اور جن کے جوابات ہمیشہ مکمل شفافیت کے ساتھ سامنے نہیں آ پاتے۔
اسی کے ساتھ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں کے درمیان فرق اکثر مبہم ہو جاتا ہے۔ نظریاتی طور پر مقامی حکومتیں بنیادی ترقیاتی کاموں کی ذمہ دار ہوتی ہیں، مگر عملی طور پر قومی اور صوبائی سطح پر موجود سیاسی اثر و رسوخ ان فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں وسائل کی تقسیم اور ترجیحات پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر قرضوں اور مالی معاہدوں کا پہلو بھی اسی سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ جب ریاستیں آئی ایم ایف اور دیگر مالی اداروں کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں تو ان کے اثرات براہ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ مہنگائی، ٹیکسز، اور بنیادی سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ اکثر انہی معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی مفاد کس حد تک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کتنی جگہ سیاسی اور مالی دباؤ کو حاصل ہوتی ہے۔
اسی پورے تناظر میں ریاستی اداروں کی کارکردگی بھی ایک بنیادی سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ پولیس، صحت، تعلیم، انصاف اور انتظامی ڈھانچہ اگر کمزور ہو تو اس کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ ایک طرف قانون سازی اور پالیسی سازی کا نظام ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے عملی نفاذ کی کمزوریاں، جو مجموعی طور پر ایک غیر متوازن ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں۔
ان تمام پہلوؤں کے درمیان سب سے اہم سوال عوام کا ہے، جو اس پورے نظام کا اصل بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب سیاسی نظام بار بار چہروں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی مسائل کو حل نہیں کر پاتا تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تبدیلی اصل میں کہاں ہونی چاہیے۔ کیا مسئلہ افراد کا ہے، جماعتوں کا ہے یا اس پورے ڈھانچے کا جو بار بار انہی نتائج کو دہراتا ہے۔
یہ پورا تجزیہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک بڑے نظام کی ساخت کو سمجھنے کی کوشش ہے، جس میں طاقت، سیاست، معیشت اور عوامی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اصل سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا اس نظام میں اصلاح ممکن ہے، اور اگر ہے تو اس کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستان میں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کا رجحان کسی ایک دور یا جماعت تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک مسلسل اور وسیع سیاسی رویے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
2024 کے انتخابات میں سابق اراکینِ قومی اسمبلی کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے اپنی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی کی یا آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا۔ مجموعی طور پر 342 میں سے تقریباً 143 سابق اراکین ایسے تھے جنہوں نے کسی نہ کسی سطح پر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کی یا پارٹی وابستگی سے ہٹ کر انتخابات میں حصہ لیا۔ ان میں سب سے بڑا حصہ سابق پی ٹی آئی اراکین پر مشتمل تھا، جن کی تعداد 107 بتائی جاتی ہے، جبکہ دیگر نمایاں گروہوں میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی شامل رہے۔
اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا کہ پی ٹی آئی سے الگ ہونے والے متعدد رہنماؤں نے مختلف سیاسی جماعتوں کا رخ کیا، جن میں مسلم لیگ (ن)، آئی پی پی اور پیپلز پارٹی نمایاں ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بھی یہ رجحان واضح طور پر سامنے آیا، جہاں تقریباً 80 ایسے امیدواروں نے 2024 کے انتخابات میں حصہ لیا جنہوں نے اس سے قبل اپنی سیاسی جماعت تبدیل کی تھی۔
یہ رجحان صرف کسی ایک صوبے تک محدود نہیں، بلکہ پنجاب میں یہ رجحان نسبتاً زیادہ نمایاں رہا ہے، جہاں 2018 سے قبل کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 48 فیصد ایسے ارکان سامنے آئے جنہوں نے سیاسی جماعتوں کی تبدیلی کے بعد انتخابی سیاست جاری رکھی۔
یہ اعداد و شمار محض عددی حقائق نہیں، بلکہ ایک بڑے سیاسی رویے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک ایسا رویہ جس میں نظریاتی وابستگی وقت کے ساتھ ساتھ کمزور اور سیاسی مفادات زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
یہ صورتحال عوام کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتی ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں واقعی نظریات اور عوامی خدمت کے اصولوں پر قائم ہیں، یا وہ صرف اقتدار کے حصول اور برقرار رکھنے کے مختلف پلیٹ فارمز بن چکی ہیں؟اور اگر سیاست کا مرکزِ ثقل نظریات کے بجائے مفادات بن جائے، تو پھر ووٹ کی اصل امانت کس کے پاس رہ جاتی ہے؟
اس پورے منظرنامے میں تبدیلی کا راستہ محض تنقید نہیں بلکہ شعور اور انتخاب کی مضبوطی ہے۔ عوام کے لیے اصل سمت یہ ہے کہ وہ شخصیات کے بجائے پالیسیوں، نعروں کے بجائے عملی کارکردگی، اور وقتی وعدوں کے بجائے تسلسل اور شفافیت کو معیار بنائیں۔
سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ وقت ہے کہ وہ وفاداری کو صرف سیاسی فائدے کے پیمانے پر نہ پرکھیں، بلکہ نظریاتی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کو اپنی بقا کا راستہ بنائیں۔
اگر سیاست اسی سمت میں سفر کرے تو وفاداری کی یہ بار بار کی تبدیلی ایک معمول نہیں بلکہ ایک استثنا بن سکتی ہے، اور جمہوریت محض چہروں کے بدلنے کے بجائے سمت کے استحکام کا نام بن جائے گی۔
واپس کریں