امریکا ایران کشیدگی اور یو اے ای کی اوپیک سے علیحدگی

امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات اور معاہدے کے حوالے سے ہر روز کچھ نہ کچھ نیا اور انوکھا ہوتا ہے؛ ایک دن خبر آتی ہے کہ معاملات طے پا رہے ہیں اور فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اگلے دن پتا چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان لفظی گولا باری کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ہے۔ اس سب کی وجہ سے پوری دنیا مسلسل امید اور نا امیدی کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ دنیا ابھی تک ان دونوں ممالک کی کشیدگی کے اثرات سے نہیں نکل سکی تھی کہ ایک بڑی اور اہم پیش رفت سے عالمی معیشت اور توانائی کی عالمی منڈی میں زلزلہ آگیا ہے، اور وہ پیش رفت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی دو انتہائی اہم تنظیموں اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ نے پہلے سے ہی توانائی کا ایک تاریخی بحران پیدا کر رکھا ہے۔ متحدہ عرب امارات اوپیک میں سعودی عرب اور عراق کے بعد تیل پیدا کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اوپیک کے تیل کی مجموعی فروخت میں امارات کا حصہ تقریباً 77 ارب ڈالر یعنی کل آمدنی کے سترہ فیصد کے قریب ہے۔ اس کی علیحدگی نہ صرف اوپیک کو کمزور کرے گی بلکہ دیگر رکن ممالک کو بھی اتحاد چھوڑنے پر اکسا سکتی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں قازقستان اور عراق بھی اوپیک چھوڑنے پر غور کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو اوپیک کا پورا ڈھانچا ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ امارات کی علیحدگی سے اوپیک اپنا وہ اثر و رسوخ کھو دے گا جو اچانک سپلائی کے جھٹکوں کو جذب کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس صورتحال سے ممکن ہے امارات کو انفرادی طور پر کچھ فائدہ پہنچے کیونکہ طویل مدت کے بعد وہ اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر روزانہ دس لاکھ بیرل اضافی تیل پیدا کر سکتا ہے جو عالمی یومیہ طلب کا تقریباً ایک فیصد بنتا ہے لیکن اس سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکے موجودہ طریقہکار میں بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے کیونکہ اوپیک جیسا مشترکہ فورم پیداوار کو منظم کرنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ اس تمام صورتحال کا فوری اور ہمہ گیر اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ایک طرف آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل اور گیس کی رسد میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس سے عالمی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے مارچ میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جو 2022ء کے بعد پہلی بار ہوا اور دوسری جانب اوپیک کے ڈھانچے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے خدشات عالمی معیشت کے لیے شدید دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، تیل کی قیمت میں ہر دس ڈالر کا اضافہ عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 0.3 فیصد کمی کا سبب بنتا ہے جو پہلے سے سست رفتار عالمی اقتصادی نمو کے لیے سنگین دھچکا ہے۔ یہ بحران 1970ء کی دہائی کے توانائی کے بحران کی یاد دلا رہا ہے جب رسد کی شدید قلت، کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی اور کساد بازاری کے خطرات نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ امریکا ایران کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور اب امارات کی اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی معاملات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس صورتحال میں عالمی رہنماؤں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان مسائل کا حل فوری تلاش کیا جاسکے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلسل دباؤ کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک ایسا اقتصادی بحران جنم لے لے جس کے اثرات پر قابو پانے میں کئی سال لگ جائیں۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں