فرحان ابنِ امان
ہر انسان کی زندگی کا آغاز دو معاہدوں سے ہوتا ہے۔ اس دھرتی پر پیدا ہونے والا ہر انسان ان دو معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند ہو جاتا ہے۔پہلا معاہدہ عالمِ ارواح میں ہر انسان نے اپنے رب سے کیا ہے۔ اگر انسان اس معاہدے کے تحت زندگی گزارے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے جزا کا وعدہ ہے، اور اگر اس معاہدے کے برعکس زندگی گزارے گا تو سزا بھی متعین ہے۔
دوسرا معاہدہ ہر انسان کا اپنی ریاست کے ساتھ ہوتا ہے، جو پیدائش کے ساتھ ہی طے ہو جاتا ہے۔ اسے عام فہم میں "سوشل کنٹریکٹ" کہا جاتا ہے۔
اس سوشل کنٹریکٹ کے تحت ہر انسان پر اپنی ریاست کا احترام، ریاست کے احکامات ماننا اور ریاست کی ذمہ داریوں کو نبھانا لازم ہو جاتا ہے۔ بدلے میں ریاست اسے بنیادی حقوق دیتی ہے۔
انہی بنیادی انسانی حقوق میں مذہبی آزادی بھی شامل ہے، جو آئینِ پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے۔
آئینِ پاکستان کی روح کے مطابق مذہبی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے، جو تمام شہریوں کو بشمول اقلیتوں کے، اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے، اپنے مذہبی معاملات میں مکمل آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
قراردادِ مقاصد، جو آئین کا حصہ ہے، واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہوگی اور اقلیتوں کو بھی اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
اب اگر ہم مذہبی آزادی کا جائزہ لیں کہ کیا پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی ہے یا یہ کنٹرول شدہ اور برائے نام ہے؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی ہی مذہبی آزادی ہے جو مذہب کی آزادی کے تقاضے ہی پورے نہیں کر پاتی۔
اگر ہم مذہب کے فلسفے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذہب محض عبادات کا نام نہیں۔ ہم عبادات کی آزادانہ ادائیگی کو مذہبی آزادی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ محض عبادات کی آزادی، مذہب کی آزادی نہیں ہے۔
مذہبی آزادی محض روزہ، نماز، حج کے احکامات کو آزادی سے ادا کرنے کا نام نہیں۔ مذہب بذاتِ خود ایک مکمل ضابطۂ حیات اور جامع نظام کا نام ہے۔ جہاں احکاماتِ الٰہی کو ادا کرنا مذہب کا تقاضا ہے، وہیں کلمۂ حق بلند کرنا بھی مذہبی تقاضا ہے،ہر دور کے باطل سے بغاوت مذہبی تقاضا ہے، مظلوم کی حمایت اور یزیدیت کا انکار بھی مذہب کا تقاضا ہے۔
آج غزہ کے مظلوم نہتے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے حق میں آواز بلند کرنا اس ملک میں جرم تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے حق میں ہم باہر نہیں نکل سکتے، حالانکہ ہر غیر انسانی فعل کی مخالفت مذہبی فرائض میں شامل ہے۔ ظلم کے خلاف صدائے حق بلند کرنا مذہبی فریضہ ہے۔ کیا آج ہم مذہبی آزادی کی مد میں نہتے فلسطینیوں کے حق میں نکل سکتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ کیا ہم بحیثیتِ امت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے نکل سکتے ہیں؟ کیا ہم ایران کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو سکتے ہیں؟
کیا مذہب یعنی دینِ اسلام یہود کے بنائے ہوئے معاشی نظام کو قبول کر سکتا ہے جبکہ دین اسلام کا اپنا ایک آزاد معاشی نظام موجود ہے۔ ایک طرف مذہبی آزادی کا دعویٰ ہے، دوسری طرف سودی نظام رائج ہے جسے باقاعدہ حکومتی تحفظ حاصل ہے، حالانکہ اسلام کے واضح احکامات میں سود کو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔
ایک طرف نام نہاد مذہبی آزادی ہے، تو دوسری طرف مدارسِ دینیہ پر پابندیاں عائد ہیں۔
جہاں حریت اور آزادی مذہبی تقاضا ہو، وہاں غلامی سے انکار فرض بن جاتا ہے۔ کیا آج مذہبی آزادی کی روح کے مطابق ہم من حیث القوم آئی ایم ایف کی معاشی غلامی سے انکار کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں۔
پاکستان جو کلمہ کی بنیاد پر بنا تھا ایک مکمل اسلامی ملک مگر اسلام کی ریاستی امور میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی ایک سیکیولر لبرل کمیونسٹ یا غیر مسلم ممالک میں ہے۔
اور یہ نام نہاد مذہبی آزادی برائے نام ہے جو مذہب کے اپنے تقاضے ہی پورے نہیں کرتی۔اس لیے ہمیں اس نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ برائے نام مذہبی آزادی سے مطمئن نہیں رہنا چاہیے حقیقی مذہبی آزادی تک جدوجھد کرنی چاہیے۔ مذہب آزاد ہوگا تو انسان آزاد ہوگا اور انسان آزاد ہو گا تو ریاست بامقصد ہوگی۔
واپس کریں