دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خامنہ ای کی شہادت کا باعث جارحانہ پالیسی نہیں بلکہ ایک دفاعی پالیسی تھی۔عمار علی جان
No image ہر عالم کی طرح غامدی صاحب سے بھی کئی چیزوں پر سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ان کے سیاسی تجزئیوں کا تاریخ اور حقائق سے بلکل بھی تعلق نہیں۔ وہ امریکہ میں بیٹھ کر مشرقی وسطی کی مزاحمتی تحریکوں پر تھوڑی تنقید کردیتے ہیں اور لبرل بس اس "تجزیے" پر بھنگڑے ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔ حال ہی میں شہزاد غیاس کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں انہوں نے خطے کی تباہی کا زمہ دار ایران کی خارجہ اور "اسلامی" پالیسی کو قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ انقلاب سے پہلے ایران کے کسی ملک کے ساتھ مسائل نہیں تھے۔
یہ تاریخ اور سیاست سے کٹی ہوئی گفتگو بظاہر فلسفانہ لگ سکتی ہے لیکن درحقیقت اس کے پیچھے کم علمی اور رجعتی سوچ موجود ہے۔ جدید ایران پر ایک چھوٹی اشرافیہ کا قبضہ رہا جس کے خلاف بیسویں صدی کے شروع سے ہی آئینی بغاوتیں شروع ہوگئی تھیں۔ اس کا نقطہ عروج 1951 میں آتا یے جب نیشلسٹ اور سوشلسٹ تنطیمیں مل کر انتخابات جیت جاتی ہیں اور محمد مصدق کو وزیر اعظم منتخب کرلیتی ہیں۔ مصدق غربت میں ڈوبے اور سامراجی کنٹرول میں جکڑے ہوئے سماج کو آزاد کرنے کے لئے تیل کی کمپنیوں کا کنٹرول برطانوی کمپنیوں سے چھین کر قومی تحویل میں لے لیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یہ پیسہ اب امریکی و برطانوی بینکوں میں جانے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر لگے گا۔
مصنف ولیم بلم اپنی کتاب Killing Hope میں تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کس طرح سی آئی اے نے محمد مصدق کی حکومت کے خلاف ایک بغاوت کروا کر اس کی حکومت کا تختہ الٹایا اور اقتدار شاہ آف ایران کے حوالے کردیا۔ یعنی پہلا حملہ ایران نے نہیں، امریکہ اور برطانیہ نے ایران پر کیا اور وہاں پر ایک بدترین آمریت قائم کردی۔ سی آئی اے کی پشت پناہی میں SAVAK نامی ایک تنظیم بنائی جس نے مسلسل جمہوریت پسندوں پر ٹارچر کیا۔
اور عالمی معاملات میں بھی یہ نیوٹرال نہیں تھا بلکہ خطے میں امریکی ایما پر بربادی کا سبب تھا۔ مثال کے طور پر ایران نے بدترین اسرائیلی جارحیت اور عرب زمین پر قبضہ گیری کی حمایت کرتے ہوئے اس سے قریبی تعلقات استوار کئے۔ پھر جنوبی افریقہ میں سفید فام نسل پرستوں کی حکومت، جس نے نیلسن مینڈیلا کو 1962 میں گرفتار کرلیا تھا، کا ایشیا میں سب سے قریبی اتحادی بن کر ابھرا جس کو وہ سیاہ فام افراد پر بربریت کے لئے سستا تیل فراہم کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اومان، یمن اور خطے میں کئی عوامی بغاوت کو کچلنے کے لئے شاہ کی حکومت ہر اول دستے کا کام کرتی تھی۔ لیکن غامدی صاحب کو یہ خارجہ پالیسی جارحانہ نہیں نظر آتی حالانکہ اس پالیسی کا مظلوموں کو شدید نقصان ہوا اور خطے میں رجعتی قوتیں مزید طاقتور ہوئیں۔
ایران کے انقلاب کے بعد جو خارجہ پالیسی بنائی گئی اس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین، لبنان شام اور دیگر ممالک کی ریاستوں کی تباہی میں معاونت کرنے کے بجائے ان ملکوں میں مزاحمتی گروہوں کی مدد کی گئی۔ دوسری جانب یمن میں امریکی نسل کشی میں شامل ہونے کے بجائے مزاحمت کی حمایت کی اور عراق می بھی صدام حکومت سے شدید نفرت کے باوجود امریکی فوجی قبضے کے دوران عراق کے مزاحمت کاروں کی حمایت جاری رکھی۔ اسی طرح جنوبی افریقہ میں نیلسن مینڈیلا کی پارٹی کی حمایت کے ساتھ ساتھ اس کے عسکری ونگ کی بھی حمایت کی۔ برکینا فاسو میں سامراج مخالف لیڈر Thomas Sankara کو بھی مدد دی، اور جب 1993 میں یاسر عرفات نے اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈال دیئے، تو ایران فلسطینی اور لبنانی مزاحمت کاروں کا واحد حامی بن کر ابھرا۔ یہی وجہ ہے کہ نیلسن مینڈیلا خامنہ ای کو "میرا لیڈر" کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی طرح فیڈل کاسترو، ہوگو شاویز اور دیگر بائیں بازوں کے سامراج مخالف لیڈران خامنہ ای اور ایران کو ایک مزاحمت کے ستون پر دیکھتے تھے کیونکہ ان ممالک کو مشکل حالات میں ایران نے زبردست انداز میں مدد فراہم کی تھی۔
یاد رکھیں کہ ہر بار جارحیت امریکہ و صہونی قوتوں کی طرف سے ہوئی۔ اس سال بھی ایران امریکہ سے مزاکرات کے کررہا تھا جب ان قوتوں نے ایران پر یکدم حملہ کیا اور سکول میں 165 بچیوں کے ساتھ ساتھ خامنہ ای اور ان کے خاندان کو شہید کیا۔ اس سب تاریخ کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر یہ بات کی جائے کہ ایران جارحانہ پالیسی اپنا رہا ہے تو یہ شدید بچگانا بات ہوگی۔ کیا عراق، یمن، شام، لبنان سب جارحانہ پالیسی کی وجہ سے امریکی بمباری کا شکار ہوئے؟ کیا وینیزویلا کے صدر نکولس مدورو، جن کے پاس کوئی قابل زکر فوج بھی نہیں تھی، اپنی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے امریکہ کے ہاتھوں اغوا ہوئے ہیں؟ اس وقت کیوبا میں ایک بدترین محاصرہ جاری ہے۔ کیا کیوبا جیسا چھوٹا جزیرہ امریکی سلامتی کئے خطرہ تھا؟ کیا 92 ممالک میں رجیم چینج کروانا جائز تھا؟ کیا عرب دنیا سمیت دبیا بھر میں 700 امریکہ فوجی اڈے انسانیت کی حفاظت کے کے لئے قائم کئے گئے ہیں؟
وقت آگیا ہے کہ لوگ مفروضوں کے بجائے تاریخی و مادی حقائق کا جائزہ کریں اور پھر پوزیشن لیں۔ خامنہ ای کی شہادت کا باعث جارحانہ پالیسی نہیں بلکہ ایک دفاعی پالیسی تھی جس کے زریعے ایران اپنی اور دیگر ممالک کی سالمیت کا دفاع کر رہا تھا۔ آج بھی یہ پوزیشن دفاعی ہے جبکہ اسرائیل، جو مسلسل خطے میں نسل کشی کررہا یے، امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں ایک خوفناک تباہی کا مرکز ہے۔ اس دینی یا دنیاوی علم کا کوئی فائدہ نہیں جو آپ کو ظالم کے ظلم پر پردے ڈالنا سکھائے اور مظلوموں پر تاریخ کا بوجھ ڈالے۔ افسوس ہے غامدی صاحب بھی سامراج نواز جھوٹے بیانئے کا شکار ہوگئے ہیں اور اب اس جھوٹ کا مسلسل پرچار کررہے ہیں۔ لیکن عوام با شعور ہے اور اسے مزید امریکی پروپیگینڈہ کے زریعے پاگل نہیں بنایا جاسکتا۔
واپس کریں