دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان شدید غذائی بحران کے شکار 10 ممالک میں شامل
No image اقوام متحدہ نے عالمی غذائی بحران سے متعلق ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں پاکستان کو افغانستان، بنگلا دیش، کانگو، میانمار، نائجیریا، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ غذائی قلت والے اْن ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025ء کے دوران پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان میں سے تقریباً 93 لاکھ افراد بحران کی سطح پر جبکہ 17 لاکھ ہنگامی حالت میں شمار کیے گئے ہیں، جو قحط کے بعد سب سے خطرناک درجہ بندی ہے۔پاکستان میں غذائی بحران کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب نے فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ 2025ء کے مون سون کے دوران آنے والے سیلاب نے زرعی پیداوار اور روزگار کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
غذا اور غذائیت کے تجزیے کے مطابق بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مکمل اور جامع اعداد و شمار کی کمی کے باعث بعض پہلوؤں کی شدت کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہو سکا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹ میں جو کچھ بتایا گیا ہے حالات اس سے کہیں زیادہ دگرگوں ہیں۔پاکستان کو غذائی بحران کا شکار قرار دینے کی دیگر وجوہات میں صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی، صاف پانی اور صفائی کے مسائل، بیماریوں کا پھیلاؤ اور غذائیت کی کمی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی 2026ء میں تقریباً 6 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کئی معاملات میں خصوصاً سیاسی سطح پر بے بس دکھائی دیتا ہے، تاہم صحت اور انسانی بہبود جیسے شعبوں میں اس کی ذمہ داری صرف رپورٹیں جاری کرنا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا بھی ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ اس کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان نے متعدد بار عالمی اداروں سے موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی درخواست کی، مگر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
غذائی قلت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو بھی ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں