دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکا ایران مذاکرات: امن کی راہ یا سیاسی داؤ پیچ؟
No image امریکا اور ایران ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی تیاری کر رہے ہیں اور دنیا کی نگاہیں اس میز پر جمی ہیں جہاں فیصلہ ہونا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ بجھے گی یا اور بھڑکے گی۔ اس سب کی وجہ سے عالمی سیاست کے افق پر ایسی ہلچل محسوس ہو رہی ہے جو کسی بڑی تبدیلی کی نوید سنا سکتی ہے یا محض ایک اور سفارتی ڈرامے کا پردہ اٹھا سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی درخواست پر مذاکرات کا معاملہ زیرِ غور ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ دو بیانات اپنے آپ میں ایک بڑی کہانی سمیٹے ہوئے ہیں۔ وہ ملک جو دہائیوں سے ایک دوسرے کو للکارتے رہے، جن کے درمیان پابندیوں، دھمکیوں اور تناؤ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہا، آج اگر ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کے پیچھے محض خیرسگالی نہیں بلکہ ایسی مجبوریاں کارفرما ہیں جن سے فریقین پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ امریکا اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ایسے فریم ورک کا خواہاں ہے جو خطے کو مزید عدم استحکام سے بچائے۔ دوسری طرف ایران معاشی پابندیوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اپنے عوام کے لیے سانس لینے کی گنجائش تلاش کر رہا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں دونوں فریقوں کے مفادات کسی نہ کسی حد تک ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کا جائزہ لیا ہے، اور وائٹ ہاؤس کے مطابق، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش بھی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز وہ گزرگاہ ہے جس سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ حالیہ تجربے سے پوری دنیا کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اس راستے کی بندش یا اس پر خطرے کا سایہ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ مذکورہ پیشکش اگر حقیقی ہے تو یہ ایران کی طرف سے ایک اہم اشارہ ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔ اس سارے منظرنامے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔ صدر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ نے ماسکو جا کر ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ پیوٹن جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی بڑا سفارتی فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ یوکرین کی جنگ کے باوجود روس نے اپنی خارجہ پالیسی میں جو توازن برقرار رکھا ہے، ایران اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پیوٹن کی ثالثی کا اصل مقصد امن ہے یا اپنی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کرنا۔
اس ساری صورتحال میں پاکستان کا کردار اس لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ثالثی میں پاکستان کا اہم کردار ہے اور مذاکرات میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ پاکستان ایران کا دوسست اور پڑوسی بھی ہے اور امریکا کا روایتی اتحادی بھی، اگرچہ اس اتحاد کی نوعیت وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے ساتھ اس کے تعلقات کی یہ نوعیت ہی پاکستان کو اس سفارتی کھیل میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ اسلام آباد اگر اس موقع سے درست فائدہ اٹھائے تو نہ صرف خطے میں اپنا سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور ایران دونوں پاکستان پر مکمل طور پر اعتبار کرتے ہوئے آگے بڑھیں تاکہ بات محض شرائط پیش کرنے اور ان کا جائزہ لینے تک ہی محدود نہ رہے اور ایک قابلِ عمل معاہدہ بھی طے پا جائے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں؟ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کی تاریخ بد اعتمادی، دھوکے اور ٹوٹے ہوئے معاہدوں سے بھری پڑی ہے۔ 2015ء کا جوہری معاہدہ جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن یا جے سی پی او اے کہتے ہیں، بڑی امید لے کر آیا تھا لیکن ٹرمپ کی پہلی صدارت میں امریکا اس معاہدے سے الگ ہو گیا جس کی وجہ سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے۔ اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں تو کچھ لوگ حیران ہیں کہ وہی ٹرمپ جنھوں نے وہ معاہدہ توڑ دیا تھا، کیا وہ کوئی نئی بنیاد رکھ سکتے ہیں؟ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں اصول نہیں بلکہ مفادات چلتے ہیں، اور یہی بات شاید ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک لے جائے۔
امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے علاوہ بھی دنیا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ جے محمد نے جو بات کہی وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا پر درندوں نے قبضہ کر لیا ہے اور انسانوں نے انسانیت کھو دی ہے۔ یہ جملہ صرف ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا بیان ہے۔ جب غزہ میں بچے مر رہے ہیں، یمن میں عوام بھوک سے نڈھال ہیں، سوڈان میں انسانی المیہ رقم ہو رہا ہے اور دنیا کی طاقتیں اپنے مفادات کی شطرنج بچھائے بیٹھی ہیں تو یہ سوال پوچھنا لازمی ہو جاتا ہے کہ کیا یہ مذاکرات بھی انسانیت کے لیے ہیں یا صرف طاقت کے توازن کے لیے؟
امریکا ایران مذاکرات اگر کامیاب ہوتے ہیں تو اس کامیابی کے اثرات صرف ان دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں ان کا اثر دکھائی دے گا۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی کامیابی کی امید ہے اور دوسری جانب بد اعتمادی کی دیوار۔ ایک طرف پاکستان پل بنانے کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب وہ قوتیں ہیں جن کے مفادات جنگ سے وابستہ ہیں۔ اس صورتحال میں صرف وہی راستہ درست ہوگا جو دنیا بھر کے عوام کے دکھ کم کرے اور انسانیت کو اس درندگی سے بچائے جس کا ذکر اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکا اور ایران کو معاہدے کی طرف آ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انسانیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں