دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غیر ریاستی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی ختم کی جائے۔جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ
No image (راولاکوٹ۔ آصف اشرف) جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے چیئرمین صغیر خان کا بلاول زرداری مریم نواز سمیت پاکستانی لیڈر شپ کی کشمیر الیکشن آمد پر سخت گیر مظاہروں کا اعلان قانون ساز اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی میں بدلنے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کرنے اور قانون ساز اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ چوکوں چوراہوں میں الحاق کرے جو بے غیرت کا نعرہ لگا کر بند کمروں میں الحاق پاکستان کی شق پر حلف اٹھا کر الیکشن لڑنے والے قوم پرست اور ترقی پسند سوشلسٹ دھڑوں کو تحریک دشمن اور سودے باز قرار دے دیا راولاکوٹ میں معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کے خلاف لبریشن فرنٹ کے احتجاجی مظاہرہ،سے خطاب کرتے صغیر خان نے قوم سے انتخابی عمل سے لاتعلقی کا مطالبہ کرتے کہا،کہ معاہدہ کراچی اور ایکٹ 1974 کے خاتمے کے بغیر حق ملکیت اور حق حکمرانی کا سراب صرف دھوکا ہے اس سے قبل جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام کیپٹن حسین خان شہید پوسٹ گریجویٹ کالج گراؤنڈ سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جو شہر کے مختلف راستوں سے گذرتی ہوئی کچہری چوک پہنچی جہاں یہ جلسہ کی صورت اختیار کر گئی۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں جھنڈے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور مختلف نعرے بازی کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب تک ایکٹ 1974 اور معاہدہ کراچی جیسے معاہدے موجود ہیں، شفاف اور حقیقی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکٹ 1974 اور معاہدہ کراچی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ریاستی عوام کو مکمل سیاسی آزادی، حق حکمرانی اور اپنے وسائل پر مکمل اختیار دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الحاق پاکستان سے متعلق غیر جمہوری شقوں کا خاتمہ کیا جائے اور غیر ریاستی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کو یکجا کر کے 4 اکتوبر 1947 کی طرز پر ایک آزاد، نمائندہ اور آئین ساز انقلابی حکومت قائم کی جائے صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ 24 اکتوبر کو قائم ہونے والی حکومت کا اصل مقصد آئین ساز اسمبلی کا قیام تھا، تاہم اس سے انحراف کیا گیا اور ماضی کے چند رہنماؤں نے کشمیری شہداء کی قربانیوں سے روگردانی کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں بیٹھے حکمران بااختیار نہیں بلکہ اصل اختیارات کہیں اور ہیں، اس لیے عوام کو اس صورتحال کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے آئندہ انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھی اس عمل کا حصہ نہ بننے کی اپیل کی ہے
ریلی کی قیادت صغیر خان ایڈووکیٹ نے کی اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سامراجی جارحیت قابل مذمت ہے اور ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا نظام خود منتخب کرے۔ کسی بھی بیرونی طاقت کو کسی ملک یا خطے پر جنگ مسلط کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے انہوں نے ایران سمیت دنیا بھر میں جاری سامراجی پالیسیوں اور قبضہ گیری کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر فلسطین اور جموں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کی گئی مظاہرہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔
واپس کریں