دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مخالف سیاست دانوں کی رشتہ داریاں اور ووٹرز کی سیاسی تقسیم
No image احتشام الحق شامی: پاکستان اور آذاد کشمیر کی سیاست میں خاندانی رشتوں اور باہمی تعلقات کا کردار ایک دیرینہ حقیقت ہے۔ اور اس حوالے سے ”رشتہ داریوں“ کی فہرست طویل ترین ہے۔ ان رشتہ داروں کی سیاست صرف نظریات یا جماعتی وابستگی تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندانی نظام، شادی بیاہ اور ذاتی تعلقات و مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لیڈران اور ایک دوسرے کے مخالف سیاست دان، بظاہر ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے باوجود، نجی زندگی میں قریبی رشتہ دار، دوست یا پھر کاروباری پارٹنر ہوتے ہیں۔
پاکستان اور آذاد کشمیر کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی بڑے سیاسی خاندان سامنے آتے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اقتدار اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھا۔ یہ خاندان اپنی اولادوں، رشتہ داروں اور قریبی دوستوں کو سیاست میں لائے ہیں، جس سے“خاندانی سیاست”یا موروثی نظام نے جنم لیا ہے۔
بظاہر یہ سیاسی جماعتیں یا ان کے لیڈر ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے ہیں، مگر ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ان کے درمیان غیر اعلانیہ ہم آہنگی موجود رہتی ہے۔ باالفاظ دیگر ایسی سیاست میں اختلافات عوامی سطح تک محدود ہوتے ہیں، جبکہ پس پردہ تعلقات برقرار رہتے ہیں۔
جب ووٹرز اور سپورٹرز اپنے پسندیدہ لیڈرز کے لیے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، تو وہ دوسری سیاسی جماعتوں یا ان کے لیڈران کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس، سیاست دان خود ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم اور بعض اوقات مفاہمت بھی کر لیتے ہیں۔ یوں دوسری جانب عوام یا ووٹران کے درمیان سیاسی تقسیم اور کشیدگی بڑھتی ہے، جبکہ سیاسی قیادت نسبتاً متحد رہتی ہے۔
پاکستان اور آذاد کشمیر میں سیاست دانوں کے درمیان خاندانی رشتے اور دوستیاں ایک پیچیدہ حقیقت ہیں۔
آذاد کشمیر اور پاکستان کی سیاسی جماستوں کے ووٹرران اور سپورٹران کو سیاست دانوں کی اندھی تقلید اور جذباتی وابستگی کے بجائے شعور، برداشت اور اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں