
امریکہ نے ایران کی نئی تجویز مسترد کر دی ہے کہ "ہم ہرمز کھول دیتے ہیں، اس کے بعد آرام سے بیٹھ کر دیگر معاملات پر مذاکرات کرتے ہیں۔"
دیکھیں، آپ اپنے جال میں صیاد کے مسداق ہیں۔ ہرمز بند کرنے کی جو چال ایران نے چلی تھی، وہ الٹا اس کے گلے پڑ گئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں سے اس ناکہ بندی سے زیادہ کسی چیز نے ایران کو اتنا پریشان نہیں کیا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے محاصرے میں امریکی بحریہ اب تک 39 ایرانی جہازوں کو واپس بھجوا چکی ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود گردن کا سریہ ابھی بھی باقی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مندوب عامر سعید نے ہرمز میں ایرانی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے سمندری قانون کا کسی طور بھی پابند نہیں ہے۔ خود آپ کسی قانون کے پابند نہیں، تو پھر جب دوسرے ناکہ بندی کرتے ہیں تو آپ شور کیوں مچاتے ہیں؟
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ چابہار بندرگاہ پر 20 سپر ٹینکر تیل سے بھرے ہوئے کھڑے ہیں، لیکن امریکی ڈر سے باہر جا نہیں سکتے۔ یاد رہے کہ چابہار بندرگاہ خلیجِ فارس اور ہرمز سے باہر کھلے سمندر میں ہے۔ امریکی ناکہ بندی سے قبل عام طور پر ایرانی بندرگاہ چابہار میں روزانہ اوسطاً 5 جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔ ایران دنیا میں اسٹیل کا چوتھا بڑا ایکسپورٹر تھا، اب صفر پر آ چکا ہے۔ چند دنوں میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بالکل ختم ہونے کو ہے۔ امریکی ناکہ بندی نے ایران میں آنے اور جانے والی معاشی تجارت کو تقریباً بند کر دیا ہے۔
ان معاشی مشکلات کی وجہ سے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آئندہ دنوں میں ممکنہ عوامی احتجاج کے خدشے کے پیش نظر ایک اجلاس منعقد کیا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات اوپیک اور اوپیک پلس جیسے آئل کارٹل سے نکل گیا ہے۔ ایران کے بعد متحدہ عرب امارات اوپیک کا چوتھا بڑا رکن ہے۔ اس فیصلے سے امارات اور عالمی مارکیٹ دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اس وقت امارات کی پیداوار 30 لاکھ بیرل یومیہ ہے، اس فیصلے کے بعد وہ پچاس لاکھ بیرل تک پیداوار بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام کے ساتھ امارات کو زائد آمدنی ملے گی، اور وہ موجودہ بلاکیڈ سے بھی کم متاثر ہوگا کیونکہ اس کے پاس فجیرہ پائپ لائن موجود ہے جو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کرتی ہے۔
ادھر جب ایران نے دیکھا کہ دنیا امریکہ سے تیل خریدنے جا رہی ہے، تو اس نے ہرمز سے دیگر ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی۔ دو دن قبل امریکہ سے پہلا جہاز تیل لے کر جاپان پہنچا اور کل ہی ایران نے جاپان کے “ایدیمِتسو مارو” آئل ٹینکر کو ہرمز سے جانے کی اجازت دے دی۔ یہ جہاز گزشتہ دو ماہ سے سعودی عرب کے راس تنورہ سے آئل لوڈ کرکے کھڑا تھا۔
یوں جس ناکہ بندی سے ایران دنیا کو بلیک میل کرنا چاہ رہا تھا، اب آہستہ آہستہ خود اسے کھول رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنا سب کچھ بند کرو بیٹھا ہے۔ ٹرمپ نے کل ناکہ بندی کو بڑھانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
اور جہاں پاکستان ایسے حالات میں بھی ایران کی بھرپور مدد کر رہا ہے اور اس نے ایران ٹرانزٹ کے لیے گوادر کا راستہ کھولا ہے، وہاں ایرانی میڈیا اور پاسداران کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات اور پروپیگنڈا عروج پر ہے۔
واپس کریں