
بزنس کانفیڈنس انڈیکس کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہونی چاہیے جس کے مطابق ملک میں بیشتر کاروباری ادارے مایوسی کا شکار ہیں اور نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ یقینا مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے بھی معاشی بے یقینی کو بڑھاوا دیا ہے مگر پاکستان جیسے ملکوں کیلئے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے‘ جہاں یہ غیر یقینی سیاسی‘ معاشی اور قانونی ہر سطح پر موجود ہے۔ یہاں سرمایہ کار کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے ماہ بجلی و گیس کے نرخ کیا ہوں گے‘ یا کون سا نیا ٹیکس متعارف کرا دیا جائے گا یا کرنسی کس قدر مستحکم رہے گی۔ جب مقامی سرمایہ کار ہی خوفزدہ ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاری کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ ان حالات میں سرمایہ کاری یا شرح نمو میں نمایاں اضافے کی امید خوش گمانی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سرفہرست پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ ہر نئی حکومت یا ہر چند ماہ بعد عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرائط گزشتہ پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیتی ہیں۔ سرمایہ کار کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں سالوں کا نہیں‘ دہائیوں کا منصوبہ بنایا جا سکے۔ دوسرا بڑا مسئلہ مہنگی توانائی کا ہے‘ جس کی وجہ سے ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کی پوزیشن کھو چکی ہیں۔ مسلسل سیاسی تناؤ کی صورتحال نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض بیانات یا مختصر ریلیف پیکیجز سے سرمایہ کاری کو راغب نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے سیاسی و پالیسی استحکام اولین شرط ہے۔ حکومت کی ترجیحات درست ہو سکتی ہیں مگر اصلاحات کا سفر طویل اور خاصا کٹھن ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زبانی دعووں سے نکل کر عملی اور پائیدار اصلاحات کا آغاز کیا جائے تاکہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور منافع بخش ملک بن سکے۔
واپس کریں