دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ججوں کی کمی ۔ اصلاحات بے اثر
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظام میں بہتری، شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) متعارف کروائے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی اعلیٰ عدلیہ طویل عرصے سے زیر التواء مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور عوام انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں یہ اصلاحات نہ صرف خوش آئند ہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی محسوس ہوتی ہیں۔ نئے SOPs کے تحت ایک بنیادی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اب غیر متوقع عوامی تعطیلات کے دوران بھی سپریم کورٹ کا انتظامی اور عدالتی کام جاری رکھا جائے گا، الا یہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کے برعکس کوئی ہدایت جاری کریں۔ بظاہر یہ ایک سادہ انتظامی اقدام معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ یہ اس اصول کی عملی تعبیر ہے کہ انصاف کا عمل کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح مقدمات کی فکسنگ کے لیے ایک واضح، شفاف اور ترجیحی نظام متعارف کروایا گیا ہے، جو عدالتی اصلاحات کا ایک کلیدی جزو ہے۔ اس نظام کے تحت فوری نوعیت کے مقدمات، جیسا کہ ضمانت کی درخواستیں، خاندانی تنازعات، بزرگ قیدیوں کے کیسز، فوجداری نظرثانی درخواستیں اور مختصر قانونی نکات پر مشتمل معاملات کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ درجہ بندی نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ عدالتی وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بناتی ہے۔ مزید برآں، ہر فائنل کاز لسٹ میں کم از کم چالیس فیصد حصہ 2018 تک کے پرانے مقدمات کے لیے مختص کرنا ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔ اس سے ان ہزاروں سائلین کو امید کی ایک نئی کرن ملے گی جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ تاہم، یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا محض طریقہ کار کی بہتری اس دیرینہ مسئلے کا مکمل حل پیش کر سکتی ہے؟ بدقسمتی سے، اس سوال کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اس وقت جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے، وہ ججز کی شدید کمی ہے۔ سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ایکٹ 2024 کے مطابق عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کے علاوہ ججز کی تعداد 33 ہونی چاہیے، جبکہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق اس وقت صرف 17 ججز فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت اپنی نصف استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف 21ہزار مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 33ہزار سے زائد ہے، جبکہ مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ صورت حال نہ صرف انتظامی بلکہ آئینی مسئلہ بھی ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A اور آرٹیکل 37-dہر شہری کوسستا، منصفانہ ٹرائل اور بروقت انصاف کی ضمانت دیتے ہیں۔ لیکن جب مقدمات دہائیوں تک زیر التواء رہیں، تو یہ آئینی حق محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی اصول ''انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے'' آج بھی پوری شدت سے اپنی اہمیت منواتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک خودکار کیس فکسنگ سسٹم متعارف کروانے کی تجویز یقیناً جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ، انسانی مداخلت میں کمی اور مقدمات کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہفتہ وار اور مجوزہ ماہانہ کاز لسٹس کا اجرا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے، جو وکلاء اور سائلین دونوں کے لیے سہولت کا باعث بنے گی۔ تاہم، یہ تمام اصلاحات اس وقت تک مکمل نتائج نہیں دے سکتیں جب تک عدالتی ڈھانچے کو درکار انسانی وسائل فراہم نہ کیے جائیں۔ ججز کی کمی ایک بنیادی مسئلہ ہے، جسے نظر انداز کر کے کسی بھی اصلاحاتی عمل کی کامیابی ممکن نہیں۔ اگر ایک جج پر مقدمات کا غیر معمولی بوجھ ڈال دیا جائے، تو نہ صرف فیصلوں میں تاخیر ہوگی بلکہ انصاف کے معیار پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ رہے گا۔ لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی فوری طور پر خالی آسامیوں پر تقرری کا عمل مکمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائیکورٹس اور ماتحت عدلیہ میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں، کیونکہ مقدمات کی ایک بڑی تعداد وہیں سے اعلیٰ عدالتوں تک پہنچتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی مؤثر ہو جائے، تو اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے نئے SOPs ایک مثبت اور امید افزا قدم ہیں، جو عدالتی نظام کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کو دیرپا، پُر اثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ججز کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا، عدالتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط، منصف اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انصاف نہ صرف فراہم کیا جائے بلکہ بروقت اور بلا امتیاز فراہم کیا جائے۔ یہی وہ معیار ہے جس کی جانب پاکستان کی عدلیہ کو پیش قدمی کرنی ہوگی۔
واپس کریں