
محترم احباب بخوبی جانتے ہیں کہ ناچیز نے ہمیشہ تعریفیں کم سے کم اور تعمیری تنقید کرنے کوشش کی ہے اس حوالے سے خواہ وہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت ہو، خوش آمد کرنے کے بجائے اگر خامیوں اور غلطیوں کی نشان دہی کر دی جائے تو اصل معنوں میں کسی سیاسی کارکن کی جانب سے یہی اس کی حامی سیاسی جماعت کی خدمت ہے لیکن غلطیوں اور خامیوں کی نشان دہی کرنے کی اس کوشش کی بڑی قیمت ادا کرنے کے لیئے بھی آپ کو تیار رہنا ہو گا، آپ کو دوغلے پن اور منافق ہو جانے کے طعنے سننے کو ملیں گے جیسے کہ ناچیز کو ملے ہیں اور مل رہے ہیں،مثلاً یوتھیا وغیرہ۔
بلاوجہ کی چاپلوسی اور خوش آمد کرنا چونکہ مزاج یا خمیر میں شامل نہیں اس لیئے ناچیز کی یہ گزارشات کوئی خوش آمد وغیرہ نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کیئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
عرضِ پرواز ہوں، بلاشبہ وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کی زیر قیادت حکومت ہر ممکن طور پر شب روز عوامی ریلیف کے کام کر رہی ہے،لاء اینڈ آرڈر پہلے سے بہت بہتر ہے،صوبے کے ہر شہر اور گاوں میں انفراسٹکچر بہتر کیا جا رہا ہے،قبضہ مافیا کا صفایا ہو رہا ہے،پٹوار سسٹم میں جدت لائی گئی ہے، صفائی کا نظام بہتر سے بہتر ہو رہا ہے اور مختلف سرکاری محکماجات بلخصوص محکمہ پولیس سے بدعنوان عناصر کو نکالا جا رہاہے۔یہی وجہ ہے دیگر صوبوں کے عوام پنجاب حکومت کی بہتر کارکردگی کی مثالیں دیتے نظر آتے ہیں۔
اب اصل بات کی جانب آتے ہیں،پنجاب وہ صوبہ ہے جو مرکز یا وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے،اس کے علاوہ بھی قومی سیاست میں پنجاب کی آواز بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر پنجاب سیاسی طور پر مستحکم ہے تو کم از کم وفاق کو کوئی خطرہ نہیں،جیسا کہ اس وقت دیکھا جا سکتا ہے لیکن امر واقع یہ ہے اور جس سے ناچیز اور عام ن لیگی ووٹر اور سپورٹر تشویش میں مبتلا ہے کہ وفاق کی بعض پالیسیاں بلخصوص معاشی فیصلے جن کا تعلق براہ راست عوام کے روز مرہ کے مسائل اور معمولات سے ہے،پورے ملک کے ساتھ ساتھ پنجاب میں عوامی بے چینی اور مایوسی کا باعث بن رہے ہیں،جہاں ن لیگ کی اپنی ہی حکومت ہے۔
مختصر کرتے ہیں، اگر ایک جانب حکومتِ پنجاب عوام کو ریلیف دیتی ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی ایسا فیصلہ کر دیا جاتا ہے جو پنجاب حکومت کے عوامی ریلیف کے فیصلے پر بھاری پڑ جاتا ہے مثلاً جیسے پٹرول، بجلی اور گیس کا مہنگا کر دینا اور کئی دیگر وفاقی ٹیکسسزکا لاگو کر دینا جو ظاہر ہے کہ صوبے کے اختیار میں نہیں اور جہاں پنجاب حکومت بے بس ہے۔
ناچیز کی جانب سے یہاں، وفاق اور پنجاب حکومت(جہاں دونوں جگہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے) کو آنے سامنے کھڑا کرنے کی کوئی کوشش نہیں بلکہ یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ آئندہ الیکشن میں وفاقی حکومت کی آئی ایم ایف کے زیر اثر پالیسیاں پنجاب کے گلے پڑیں گی اور اس بات کے اثرات کافی تک تک آذاد کشمیر کے آمدہ عام انتخابات میں دیکھنے کو بھی مل سکتے ہیں۔
بطور مسلم لیگ ن کا ادنیٰ سپورٹر اور ووٹرناچیز آخر میں عرض کرے گا کہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت خاص طور پر معاشی حوالے سے فیصلے لیتے وقت اس بات کو زہن نشیں رکھا کرے کہ ملک کے سب سے اہم اور فیصلہ سا ز صوبے پنجاب میں اس کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے،کہیں وفاق کے سخت آئی ایم ایف زدہ،ناپسندیدہ یا عوام کش(معاشی) فیصلوں سے پارٹی یعنی مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک متاثر نہ ہو جائے۔
واپس کریں