دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آئین 1974، آرٹیکل 21 اور 22 کی ذیلی آرٹیکلز اور کلاز میں ترمیم،حوالہ غلط دیا گیا۔خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
No image اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جموں کشمیر لیبریشن لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آزاد جموں کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 21 اور 22 کی ذیلی آرٹیکلز اور کلاز میں ترمیم کے حوالہ سے ترمیمی بل ممبر اسمبلی/ایڈوائزر نثاراں عباسی کی جانب سے پیش کی گیا۔ جس کے ذریعہ آزاد جموں کشمیر کونسل میں خواتین کیلئے ایک نشست اور آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص 5 نشستوں کی بجائے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے کا ترمیمی بل پیش کیا گیا۔اس بل کے حوالہ سے تو تفصیلی بات الگ سے کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خلیق الرحمن سیفی نے کہا کہ انہیں حیرانگی ہے کہ ممبر اسمبلی نے جن آرٹیکلز میں ترمیم تجویز کی ان آرٹیکلز کا حوالہ ہی غلط دیا گیا۔ جبکہ وزارت قانون، انصاف، پارلیمانی امور وغیرہ کی جانب سے مجوزہ 16ویں ترمیم کے حوالہ سے سیکرٹری الیکشن کمیشن، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس اور ڈپٹی سیکرٹری آزاد جموں کشمیر کونسل کو لیٹر بھی جاری کر دیا گیا۔
سیکرٹری جنرل جموں کشمیر لیبریشن لیگ نے مذید کہا کہ یہ مجوزہ ترمیم کا بل ہی غلط اور بے بنیاد ہے لیکن قانون سازی کرنے والے ادارے کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ ترمیمی بل پر کاروائی شروع کرنے سے قبل اس مجوزہ بل کی تجاویز کو آئین میں موجود آرٹیکلز سے تقابل کر لیتے۔
مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ارکان اسمبلی کو بھی بل، آئین اور ترمیم پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی اور بل پاس کروا دیں گے۔
بہرحال گزارش ہے کہ اسمبلی میں اس مجوزہ بل کو پیش کرنے سے پہلے آئین پڑھ کر بل کو ٹھیک سے لکھنے کا کہا جانا چاہیے۔
واپس کریں