دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عاشقان ِ ٹرمپ اور میرے مطابق
No image عاشقانِ ٹرمپ،ایران کی حمایت کرنے والوں کو عاشقانِ ایران کا طعنہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اخے حالیہ جنگ میں ایران کا بہت نقصان ہو چکا ہے اس لیئے ایرانی لیڈر شپ کو امریکہ سے صلح صفائی کر لینی چاہیئے یعنی اپنے آپ کو امریکہ کے آگے سرنڈر کر دینا چاہئے۔
جنگ کا کون حمایتی اور امن کا کون دشمن ہو گا؟ امر واقع یہ ہے کہ ایران پر بدمعاشی اور کھلی جارحیت کا ارتکاب امریکہ نے کیا جیسا کہ اس نے ہر اس ملک میں کیا جہاں اس کا من چاہا،لیکن ایران نے ایسا سرپرائز دیا جس سے امریکہ ہل کر رہ گیا،اور بات ”مزاکرات“ تک آن پہنچی وگرنہ کہاں امریکہ اور کہاں ایران سے امن کے لیئے مزاکرات!!!
حالیہ امریکہ ایران جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے۔ ایک اسکول کے تقریباً تین سو کے قریب معصوم بچوں،اسپتالوں، ایرانی فوجی تنصیبات، میزائل سائٹس اور ایرانی ٹاپ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے۔جس سے ثابت ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل نے کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
جنگوں میں نقصان ہوتا ہے اور دونوں اطراف کا ہوتا ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج 25 اپریل 2026 ہے، امریکہ اور ایران کی جنگ کے شروع ہونے سے تقریباً 1 ماہ اور 4 ہفتے گزر چکے ہیں۔ اس دوران امریکہ کی جانب سے دو یا تین مرتبہ سیز فائر یا جنگ بندی بھی ہوئی، متعد مرتبہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ”حتمی حملے“ (ایٹمی حملے) کی دھمکیاں اور تڑیاں بھی دی گئیں لیکن ایران نے سرنڈر نہیں کیا اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔
یہ ناچیز خاکسار اب ”عاشقان ٹرمپ“ سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہے آخر یہ ”مزاکرات“ کرنے کی بار بار خواہش کا اظہار کر کون رہا ہے؟ امریکہ یا ایران؟
بحرحال، پاکستان کی درخواست پرایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور دوسری جانب سے امریکہ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر ایران سے مذاکرات کیلئے آج پاکستان روانہ ہوں گے، جس کی وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق کر دی گئی ہے۔ خواہش ہے کہ مزاکرات کامیاب ہوں، خطہ میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو اور صدر ٹرمپ اور اس کے عاشقان کو اس بات کا احساس ہو سکے کہ ہر سوراخ میں انگلی نہیں ڈالتے ہوتے،کسی سوراخ سے سانپ بھی نکل آتا ہے۔
ایران امریکہ جنگ میں گھٹنے کس نے ٹیکے ہیں اورکون لیٹا ہے؟یہ فیصلہ ناچیز کرنے والا کون ہوتا ہے،یہ فیصلہ تو سامنے دیوار پر لکھا ہے، عاشقانِ ٹرمپ کو اسے پڑھنے کے لیئے حوصلہ چاہیئے۔
میرے مطابق تو، تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ اپنے آپ کو سپر پاور کہلوانے والے امریکہ نے چالیس روزہ مسلط جنگ کے بعد بل آخر اس کمزور ملک(ایران) کے ساتھ ”مزاکرات“ کیئے جس ملک پر اس نے عالمی پابندیاں عائد کروائیں اور جس پر اس نے بدترین جارحیت کا ارتکاب کیاتھا۔
واپس کریں