
اس وقت ملک میں مکمل تھانیداری سسٹم چل رہا ہے۔”عوامی حکومت“نام کی کوئی شے دکھائی نہیں دے رہی۔ پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کیئے بغیر حکومت کی مرضی میں جو آئے اس کا فیصلہ عوام پر ٹھوک دیا جاتا ہے،الگ بات ہے کہ عوام کے پریشر پر وہی فیصلہ واپس لیتے وقت دیر نہیں لگتی۔ایک ٹکے کی بیرونی سرمایہ کاری ملک میں نہیں آئی،ملکی سرمایہ دار اپنا سرمایہ اور کاروبار باہر کے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں،
جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر یہاں کسی نیک بخت کا کاروبار چل بھی پڑتا ہے تو اس کی کھال نوچنے کے لیئے ایف بی آر سمیت کئی ادارے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں،اگر کوئی شریف آدمی باہر سے اپنا سرمایہ یہاں لا کر انویسٹ کرتا ہے تو بھی اس ایسا حال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگنے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایک حتمی سولر پینل پالیسی آپ سے نا نہیں بنائی جاتی اور نا ہی سنبھالی جاتی ہے، جس باعث آپ نے سولر صارفین کو زہنی کوفت اور عذاب دیا ہوا ہے، ایسے میں کون آپ کی پالیسیوں پر اعتبار کرے گا؟
یہاں یہ عرض کرنے میں کوئی عار نہیں، لگتا ہے کہ حکومت سولر انرجی کی اس لیئے حوصلہ شکنی کر رہی ہے کہ اس نے آئی پی پیز کو پالنا ہے کیونکہ کہ وزارتِ توانائی نے سولر سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی قرار دیدیا ہے۔کیا حکومت آئی پی پیز کی سیلز ایجنٹ بنی ہوئی ہے؟
آپ لاکھ”عالمی ثالثیاں“ کروائیں، دنیا سے اپنی خارجہ پالیسی کی تعریفیں سنیں، ایبسٹین فائلر ٹرمپ سے اپنی تعریفیں سن کر خوش ہوں یا اپنے کسی دشمن کو ناکوں چنے چبوائیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ آپ کے اپنے26 کروڑ عوام کے ابھی بھی روزمرہ مسائل جوں کے توں ہیں یعنی عام شہری پریشان حال ہے۔
مہنگائی میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی،بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے،بیرونی قرضے غیر معمولی بڑھے ہیں اور ملکی معیشت عالمی ساہو کار آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر ہے۔ملک کا ہر پڑھا لکھا یا بے روزگار نوجوان یہاں سے باہر نکلنے کی دعائیں کر رہا ہے تا کہ وہ اپنے بال بچوں کو بھوک اور افلاس سے بچا سکے۔
آپ یہاں برطانیہ اور ان یورپین ممالک جیسے قوانین اور وردیاں نافذ کرتے ہیں جہاں بے روزگاروں کو ماہانہ الاونس، گھر اور بنیادی ضروریات ریاست مہیا کرتی ہے ملتا ہے لیکن آپ جناب یہ بھول جاتے ہیں اپنے ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہے جسے آپ نے تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔
ایک کمینہ ٹھیک کہتا تھا کہ میں تو برداشت کر لوں گا،آپ برداشت نہیں کر سکیں گے۔
واپس کریں