محمد ریاض ایڈووکیٹ
ریاست اور شہری کے درمیان تعلق صرف قوانین اور ضوابط کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا اخلاقی معاہدہ بھی ہوتا ہے جس کی بنیاد اعتماد، تحفظ اور وقار پر رکھی جاتی ہے۔ جب ایک مزدور اپنی جوانی، اپنی توانائی اور اپنی صلاحیتیں کسی ادارے کے نام کر دیتا ہے، تو اس کے بدلے میں وہ صرف ماہانہ اجرت ہی نہیں بلکہ بڑھاپے میں ایک محفوظ زندگی کی امید بھی رکھتا ہے۔ یہی امید پنشن کی صورت میں سامنے آتی ہے، ایک ایسا سہارا جو عمر کے آخری حصے میں انسان کو بے بسی سے بچاتا ہے۔حال ہی میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا، جس نے نہ صرف چند افراد کو انصاف فراہم کیا بلکہ پورے نظامِ سماجی تحفظ کو ایک نئی سمت دی۔ اس مقدمہ کا درخواست گزار ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) تھا،جس نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے محمد رفیق، محمد یعقوب، شہباز حسین، محمد عمران بٹ اور رشید انور جیسے محنت کش افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ یہ مقدمہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل تھے۔ اس اہم فیصلے کو جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا، جس میں قانونی نکات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو کو بھی غیر معمولی اہمیت دی گئی۔
یہ معاملہ ان مزدوروں کا تھا جنہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً پندرہ سال محنت میں گزار دیے، مگر چند مہینوں کی کمی نے انہیں پنشن جیسے بنیادی حق سے محروم کر دیا۔ یہاں ای او بی آئی کا مؤقف نہایت واضح اور سخت تھا۔ ادارے نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت پنشن کے لیے کم از کم پندرہ سال کی انشورڈ ملازمت لازمی ہے، اور اس شرط میں کسی قسم کی نرمی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ملازم کی سروس پندرہ سال سے ایک دن بھی کم ہو تو وہ پنشن کا اہل نہیں بنتا۔ ای او بی آئی نے مزید یہ دلیل دی کہ قانون کے شیڈول میں موجود“چھ ماہ یا اس سے زیادہ کو ایک سال شمار کرنے”کی شق صرف پنشن کی رقم کے حساب کتاب کے لیے ہے، نہ کہ اہلیت کے تعین کے لیے۔ ادارے نے اپنے مؤقف کی تائید میں سرکلر نمبر 1/2022 کا بھی حوالہ دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ان میں قانون کی واضح شرط کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
عدالت نے اس معاملے کو صرف ایک تکنیکی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اس کے انسانی اور آئینی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ ایسے قوانین، جو سماجی بہبود کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کی تشریح ہمیشہ اس انداز میں ہونی چاہیے جو انسان کو سہارا دے، نہ کہ اسے مزید مشکلات میں دھکیل دے۔ یہی وہ اصول ہے جسے دنیا بھر میں“ فائدہ مند تشریح”کہا جاتا ہے۔ اس فیصلے کا مرکزی نکتہ“راؤنڈنگ آف”کا اصول تھا، جس کے مطابق اگر ملازمت کا عرصہ چھ ماہ یا اس سے زیادہ ہو تو اسے ایک مکمل سال شمار کیا جائے گا۔ عدالت نے اس شق کو محض حسابی فارمولا نہیں بلکہ ایک حفاظتی اصول قرار دیا۔ ایک ایسا اصول جو مزدور کو معمولی کمی کی بنیاد پر بنیادی حق سے محروم ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا انصاف صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے؟ اگر کوئی شخص چودہ سال اور گیارہ ماہ کام کرے، تو کیا صرف ایک ماہ کی کمی اس کی پوری زندگی کی محنت کو بے معنی بنا سکتی ہے؟ یہاں آئین کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے۔
ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرے۔ جب ایک مزدور اپنی زندگی کے بہترین سال کسی ادارے کو دے دیتا ہے، تو ریاست پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اسے بڑھاپے میں تنہا نہ چھوڑے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئی بھی انتظامی ہدایت یا سرکلر قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی ادارے کی پالیسی قانون کی روح کے خلاف ہو، تو اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح“جائز توقعات”کا اصول بھی اس فیصلے میں نمایاں رہا، جس کے تحت شہریوں کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا جن کی انہیں معقول توقع ہو۔ یہ فیصلہ محض چند افراد کے حق میں نہیں بلکہ ایک سوچ کے حق میں ہے، ایک ایسی سوچ جو کہتی ہے کہ قانون انسان کے لیے ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔ تاہم، اس فیصلے کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جڑا ہوا ہے، کیا ہمیں ہر بار انصاف کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا؟ یا ریاستی ادارے خود اپنی پالیسیوں کو اس طرح ترتیب دیں گے کہ شہریوں کو انصاف کے لیے طویل جدوجہد نہ کرنی پڑے؟ پاکستان میں سوشل سیکیورٹی کا نظام پہلے ہی مختلف چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ ایک امید کی کرن ضرور ہے، مگر یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ اصلاحات کا سفر ابھی باقی ہے۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ فیصلہ ایک قانونی نظیر سے بڑھ کر ایک اخلاقی پیغام ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کو محض اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں پرکھ سکتی، بلکہ اسے ان کی محنت، ان کی قربانیوں اور ان کی امیدوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
واپس کریں