دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بے روزگاری متعلق عالمی بینک کا انکشاف
No image عالمی بینک نے واشنگٹن میں منعقدہ اپنے سالانہ اجلاس میں ایک انتہائی تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ بینک کے ماہرین کے مطابق، آئندہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم رہ سکتے ہیں۔ اجلاس میں بے روزگاری کو سب سے سنگین عالمی مسئلہ قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک گہرے معاشی بحران میں دھنس سکتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور پیش گوئیاں یقیناً پریشان کن ہیں، لیکن پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال کوئی نئی نہیں بلکہ یہاں تو یہ بحران کئی سال پہلے سے جاری ہے اور حکومتی غفلت نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری کا مسئلہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ملک میں پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن روزگار کے مواقع ان کی تعداد میں اضافے کے تناسب سے پیدا نہیں ہو رہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں اور تکنیکی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور پھر وہ ملازمت کی تلاش میں مہینوں بلکہ برسوں تک سرگرداں رہتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ان نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے بھی پریشان کن ہے۔ بے روزگاری اور غربت ایک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ یہ بتانے کی ضروت نہیں ہے کہ بے روزگاری اور غربت سے جو گوناگوں مسائل جنم لیتے ہیں وہ قدر بھیانک شکلیں اختیار کر لیتے ہیں۔ پاکستان میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، گھریلو تشدد، منشیات کا پھیلاؤ اور نوجوانوں میں مایوسی و احساسِ محرومی، یہ سب بے روزگاری کے براہِ راست نتائج ہیں۔ جب کوئی نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے کار بیٹھا ہو تو وہ نہ صرف خود ٹوٹتا ہے بلکہ اس کا پورا گھرانہ مشکلات کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے بننے والی حکومتیں نہ صرف اس بحران کو حل کرنے میں ناکام دیتی ہیں بلکہ اپنی پالیسیوں کے ذریعے وہ اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ مختلف سرکاری محکمے اور ادارے ختم کیے جا رہے ہیں اور کئی محکموں کی ہزاروں ملازمتیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس سب کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ اخراجات کم کیے جا رہے ہیں اور نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عمل سے روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں اور مزید لوگ بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ نجی شعبہ کوئی بڑا متبادل فراہم کرنے سے قاصر ہے کیونکہ سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار نہیں اور کاروباری سرگرمیاں مسلسل کم ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں حکمران طبقے کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیم اور صحت، جو کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضروریات ہیں، حکومتی ایجنڈے پر ہیں ہی نہیں۔ سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اشرافیہ کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہ علاج کے لیے بھی وہیں جاتے ہیں۔ اس لیے انھیں ملکی نظامِ تعلیم و صحت کی زبوں حالی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہی بے اعتنائی ہے جو پالیسی سازی میں جھلکتی ہے اور جس کی قیمت عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے معاشی اور سماجی ترقی کے امکانات دھندلاتے نظر آ رہے ہیں۔ جب تک حکومت بے روزگاری کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی، جب تک تعلیم اور صحت کو ترجیح نہیں بنایا جاتا اور جب تک نجی شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول نہیں پیدا کیا جاتا، تب تک صورتحال بہتر ہونے کی امید رکھنا نری خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ عالمی بینک کی تنبیہ کو محض ایک رپورٹ سمجھ کر نظر انداز کرنا ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوام اور ان کے مسائل کو اپنی ترجیح بنائے اور ایسی مربوط حکمتِ عملی تیار کرے جو نوجوانوں کو روزگار، معاشرے کو استحکام اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔
واپس کریں