محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان کے عدالتی نظام میں 20 اپریل 2026 ایک نئی سوچ، ایک نئی جہت اور ایک نئے عزم کی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب روایتی عدالتی ڈھانچے نے پہلی بار کھل کر جدید ٹیکنالوجی کو گلے لگایا۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران جب ایک غیر متوقع صورتحال کے باعث بینچ کی تشکیل ممکن نہ رہی، تو ماضی کی طرح مقدمات کو ملتوی کرنے کی بجائے ایک مختلف راستہ اختیار کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے جسٹس عائشہ ملک کی شمولیت نے نہ صرف سماعت کو ممکن بنایا بلکہ 28 میں سے 20 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے گئے۔ یہ اقدام اس حقیقت کابظاہر اعلان تھا کہ اب انصاف صرف عدالت کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔
پاکستان کا عدالتی نظام طویل عرصے سے تاخیر، پیچیدگی اور فرسودہ طریقہ کار کا شکار رہا ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں مقدمات کا زیر التواء ہونا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ہر زیر التواء کیس کے پیچھے ایک خاندان کی امیدیں، ایک فرد کی زندگی اور انصاف کی ایک ادھوری کہانی جڑی ہوتی ہے۔ ''تاریخ پر تاریخ'' کا کلچر عوام کے اعتماد کو کمزور کر چکا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ای کورٹس ایک ناگزیر حل کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس سمت میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ برطانیہ میں آن لائن سول کلیمز کے ذریعے چھوٹے مقدمات کو عدالت آئے بغیر حل کیا جا رہا ہے۔ سنگاپور نے ای لیٹی گیشن سسٹم کے ذریعے عدالتی کارروائی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے، جہاں فائلنگ، سماعت اور فیصلے سب کچھ آن لائن ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی ورچوئل سماعتوں اور لائیو سٹریمنگ نے انصاف کو عوام کے قریب تر کر دیا ہے۔ یہ مثالیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ای کورٹس نہ صرف ممکن ہیں بلکہ مؤثر بھی۔ پاکستان میں ای کورٹس کے نفاذ سے سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو ہوگا۔ ایک مزدور، کسان یا چھوٹا تاجر جو دور دراز علاقے سے عدالت آتا ہے، اسے نہ صرف مالی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں بلکہ وقت اور روزگار کا نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر وہی شخص اپنے موبائل فون، کمپیوٹر یا قریبی سہولت مرکز کے ذریعے عدالت میں پیش ہو سکے، تو یہ اس کے لیے ایک انقلابی تبدیلی ہوگی۔ اسی طرح ریاست کو بھی قیدیوں کی منتقلی، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوتی۔ اور یہ رقم فلاح وبہبود اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوسکیں گے۔
ای کورٹس کے بنیادی اجزاء میں ای فائلنگ، آن لائن کیس ٹریکنگ، الیکٹرانک سمن اور ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت شامل ہیں۔ ان سہولیات کے ذریعے عدالتی نظام نہ صرف تیز رفتار ہوگا بلکہ شفافیت بھی بڑھے گی۔ ڈیجیٹل ریکارڈ کی موجودگی بدعنوانی کے امکانات کو کم کرتی ہے اور ہر مرحلے کو قابلِ نگرانی بناتی ہے۔ آئینی نقطہ نظر سے بھی ای کورٹس کا قیام ایک اہم اقدام ثابت ہوگا۔ دستور پاکستان کا آرٹیکل 37(d) ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرے۔ موجودہ حالات میں یہ ہدف روایتی طریقہ کار کے ذریعے حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے، لیکن ٹیکنالوجی اس خلا کو پُر کر سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کی بیس اپریل کی کاروائی کو محض وقتی حل نہ سمجھا جائے بلکہ ایک جامع پالیسی کے تحت مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ ''ڈیجیٹل جسٹس پاکستان'' کے عنوان سے ایک قومی حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے جس میں انفراسٹرکچر، تربیت، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل خواندگی کو شامل کیا جائے۔ دیہی علاقوں میں ای سہولت مراکز کا قیام اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
بلاشبہ، ڈیجیٹل نظام کے ساتھ کچھ خدشات بھی وابستہ ہیں، جیسے ڈیٹا سیکیورٹی، انٹرنیٹ کی دستیابی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت۔ تاہم، یہ مسائل ایسے نہیں ہیں جنکو حل نہ کیا جاسکے۔ مناسب قانون سازی، مؤثر پالیسی سازی اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے قانونی تحقیق اور عدالتی معاونت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے کہ آیا وہ اس دوڑ میں شامل ہوتا ہے یا مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تیزی نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کرتی ہے بلکہ ریاست کے وقار کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ای کورٹس محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکی ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف بروقت، شفاف اور سب کے لیے یکساں ہو، تو ہمیں ڈیجیٹل عدالتوں کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ یاد رکھیں، انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ اس انکار کو ایک مضبوط ڈیجیٹل اقرار میں بدل دیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستِ پاکستان عوام الناس کے فوری اور سستے انصاف کی بابت ای عدالتوں کے قیام کے لئے قانون سازی کیساتھ ساتھ ہر ممکن سہولیات بھی فراہم کرے۔ یقینی طور پر ای کورٹس منصوبے کو کامیاب کروانے کے لئے عدلیہ کیساتھ ساتھ پاکستان بھر کی بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالیں گی۔
واپس کریں