دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سپر طاقت کا اصل چہرہ ۔ احتشام الحق شامی
No image تاریخ کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے نام نہاد چمپین اور انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ نے مختلف ادوار میں متعدد ممالک میں فوجی جارحیت یا سیاسی مداخلت کی ہے۔
جاپان پر ایٹم بم برسانے سے لے کر کوریا اور ویتنام کی جنگ، لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت مثلاً عراق پر 2003ء میں حملہ، افغانستان میں 2001ء کے بعد طویل جنگ، شام میں مختلف نوعیت کی کارروائیاں اور وینزویلا کے بعد اب تازہ ترین ننگی جارحیت ملکِ ایران میں۔
براہِ راست یا بالواسطہ طور پر درجنوں ممالک میں امریکی جارحیت اور مداخلت بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے موجود ہے، جیسے لبنان، فسلطین اور خطہ کے دیگر ممالک جہاں فوجی حملے، خفیہ آپریشنز، اقتصادی دباؤ، یا سیاسی اثراندازی نمایاں ہے۔
مختلف تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے تقریباً 400 سے زائد فوجی مداخلتیں کی ہیں۔(مجموعی جارحیتیں اور مداخلتیں 1776 قیامِ امریکہ سے لے کر اب تک)
ان مداخلتوں، بمباریوں، اور حکومتیں گرانے کی کارروائیوں کا ہدف 80 سے زائد ممالک رہے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد: 1945 کے بعد سے، امریکہ نے 50 سے زائد ممالک میں براہِ راست فوجی مداخلت کی ہے۔
نائن الیون کے بعد (2001-2026): 9/11 کے واقعات کے بعد، امریکہ نے کم از کم 10 ممالک پر بمباری کی، جن میں افغانستان، عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا، شام اور دیگر شامل ہیں۔
خفیہ آپریشنز کے زریعے، سرد جنگ کے دوران، امریکہ نے 72 بار دوسرے ممالک کی حکومتیں بدلنے کی کوشش کی۔
: اگر مکمل مداخلتوں (بشمول ڈرون حملے، فوجی تعیناتی، اور CIA کے خفیہ آپریشنز) کو دیکھا جائے تو یہ تعداد 80 ممالک سے تجاوز کر جاتی ہے۔
حیرانگی تب ہوتی ہے جب ہمارے بعض دانشور ایرانی لیڈر شپ پر صرف اس لیئے تنقید کر رہے ہوتے ہیں کہ اسی امن پسند اور جمہوریت پسند امریکہ کو جس کا”مختصر تعارف“ اوپر عرض کیا ہے،اسے ایران پر حملہ کرنے کا جواز دیا جا سکے۔
واپس کریں