پاکستان کا امن پسند اور صلح جُو چہرہ۔ مودی سرکار کے لیئے جگ ہنسائی

بھارت میں حزبِ اختلاف کانگرس کی جانب سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات شروع کرانے کی پاکستان کی اچھوتی سفارتکاری کے حوالے سے مودی سرکار کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اس سلسلہ میں بھارتی کانگرس کےجنرل سیکرٹری رام رمیش نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں اور اسے متضاد تزویراتی گہرائی سے خالی قرار دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سنٹر کی اس سلسلہ میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رام رامیش نے خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا کہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیئے پاکستان کی میزبانی کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازشوں کے باوجود پاکستان نے اقوام عالم میں جو بلند مقام حاصل کیا وہ مودی سرکار کے لیئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کا موثر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مودی سرکار کو یہ بھی باور کرایا کہ بھارت نے برکس کا حصہ ہونے کے باوجود امن کو فروغ دینے کے لیئے کوئی پہل نہیں کی اور نادر سفارتی موقع ضائع کر دیا۔ رام رمیش کے بقول آج مغربی ایشیاء میں استحکام اور خطے میں امن کی ضرورت ہے جس کے لیئے کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنا ضروری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت نے پاکستان اور اسلام دشمنی میں اس خطے کو کبھی امن سے رہنے نہیں دیا جو شروع دن سے ہی پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اور اس وقت بھی فالس فلیگ اپریشن کے ذریعے وہ پاکستان پر دوبارہ جارحیت مسلط کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ اس حوالے سے بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے سیکرٹری جنرل رام رمیش کی جانب سے مودی حکومت پر کی جانے والی تنقید واضح ثبوت ہے کہ نئی دہلی اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے اور اس کے برعکس وہ پاکستان دشمنی میں پورے خطے کا امن برباد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔گزشتہ برس بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھرپور کوشش کی اور خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہوئے پاکستان پر باقاعدہ جنگ بھی مسلط کد دی تاہم پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ دانشمندانہ سفارتکاری، تحمل اور امن پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کا اصل مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا بلکہ عالمی برادری کے سامنے اپنا ایک ذمہ دار اور امن پسند تشخص بھی اجاگر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ اور صلح جو ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس سے اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اس کے برعکس بھارت کی جنگی جنونیت اور جارحانہ پالیسی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے بلکہ خود اس کے لیے بھی سفارتی تنہائی کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھارت پہلے ہی دیکھ چکا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات اور امن کا راستہ اختیار کرے۔ بے شک جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔آج بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان مظالم کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور بھارتی توسیع پسندانہ ہاتھ روکنے کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب انصاف، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ اس مثبت پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جائے اور داخلی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی پاکستان کی عزت و وقار کو دیرپا بنایا جا سکے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں