
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اسرائیل کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ ایک ایسا فیصلہ ہو سکتا ہے، جو اسے عرب دنیا کے باقی ممالک سے الگ کر دے۔
اس ہفتے کے آغاز میں خبر آئی تھی کہ اسرائیل اور یو اے ای ایک مشترکہ دفاعی فنڈ قائم کرنے جا رہے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک مل کر اسلحہ خریدیں گے۔ یہ رپورٹ سب سے پہلے میڈیا ادارے مڈل ایسٹ آئی نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے دے کر شائع کی۔ تاہم دونوں حکومتوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
یہ فنڈ بظاہر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے یو اے ای کے ایک خفیہ دورے کے دوران طے پایا، جس کا اعلان انہوں نے 13 مئی کی شام کو کیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد یو اے ای نے اس دورے کی تردید کر دی۔
اس سے ایک دن پہلے تل ابیب میں ایک تقریب کے دوران اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکبی نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے یو اے ای کو فضائی دفاعی ہتھیار فراہم کیے ہیں تاکہ وہ انہیں ایران کے ممکنہ فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کر سکے۔
اپریل کے آخر میں یو اے ای کی طرف سے اوپیک سے الگ ہونے کے اعلان کے بعد کئی تجزیہ کاروں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
یو اے ای گزشتہ 59 سالوں سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کا بین الاقوامی اتحاد اوپیک کا حصہ تھا۔ یہ ایسا اتحاد ہے جو ایک ایسے کوٹہ سسٹم کے ہر رکن ملک کی پیداوار کی حد مقرر کرتا ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات اوپیک چھوڑ کر اپنی شرائط پر زیادہ تیل پیدا کرنا چاہتا ہے۔
یو ای اے کا اوپیک اتحاد کو خیر باد کہنا اور علاقائی سطح پر ہونے والی دیگر پیش رفتوں کے بعد تجزیہ کار اس کا خارج ازمکان قرار نہیں دے رہے کہ یہ خطہ اب ایک نئی سمت کی طرف بڑھنے لگا ہے۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی ماہر چنزیا بیانکو نے وسط مئی میں ایک تبصرے میں لکھا تھا، ”خلیج کا دہائیوں پرانا نظام ختم ہو رہا ہے اور ایک نیا نظام ابھر رہا ہے‘‘۔
اسی طرح جنوبی کوریا کے سابق سفیر ما یونگ سام نے دی کورین ٹائمز کے آرٹیکل میں لکھا، ”یو اے ای کی وجہ سے پیدا ہونے والا جیوپولیٹیکل جھٹکا صرف ایک عارضی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک نئے مشرق وسطیٰ کے نظام کی علامت ہے۔‘‘
لبنان میں فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن کے مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے منصوبے کے سربراہ مارکوس شنائیڈر کا کہنا ہے کہ اس نئی صوتحال میں خطے میں دو نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں۔
شنائیڈر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایک اتحاد یو اے ای اور اسرائیل پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر پر مبنی ہے۔ انہوں نے یو ای ای اور اسرائیل کے اتحاد کو ”مسدس‘‘ (hexagon) کا نام دیا ہے جبکہ سعودی عرب مصر، ترکی اور پاکستان کے گروپ کو ”ڈائمنڈ‘‘ کا۔
شنائیڈر کے مطابق اسرائیل اور یو اے ای ایسی پالیسیاں اپنا رہے ہیں، جن کا مقصد موجودہ نظام کو بدلنا اور مشرق وسطیٰ سمیت وسیع خطے کو نئی شکل دینا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل ”مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل رہا ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بات مارچ کے آغاز میں ایران پر امریکہ کے ساتھ مشترکہ حملے کے بعد دہرائی بھی تھی۔
دوسری جانب چنزیا بیانکو کے مطابق متحدہ عرب امارات بھی ”مشرق وسطیٰ کا نقشہ ازسر نو ترتیب دینا چاہتا ہے اور ابو ظہبی کو مرکز بنا کر جغرافیائی اور معاشی اثر و رسوخ کے نئے نیٹ ورک قائم کرنا چاہتا ہے۔‘‘
دوسری جانب شنائیڈر کا تجزیہ ہے کہ نام نہاد ”ڈائمنڈ‘‘ گروپ ایک مختلف حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں سعودی عرب بھی خطے میں اتار چڑھاؤ پیدا کرنے کا باعث رہا ہے لیکن اب اس کا رویہ بدل رہا ہے کیونکہ اسے اپنے معاشی اہداف کے لیے استحکام کی ضرورت ہے۔
شنائیڈر کے مطابق، ”یہ زیادہ عملی نوعیت کی پالیسی ہے۔ یعنی ‘ہم ایران کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں‘ اور ‘ہم اسرائیل کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں کیونکہ یہ سوچ کہ وہ ہر جگہ ہر وقت حملے کر سکتا ہے، خطے میں عدم توازن پیدا کرتی ہے اور ہم اسے بھی مدنظر رکھنا چاہتے ہیں‘۔‘‘
لندن میں شائع ہونے والے اخبار اشرق الاوسط میں مئی کے دوران ایک کالم میں سعودی عرب کی اسرائیل سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جسے سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے تحریر کیا۔ اس کالم کو سعودی حکومت کے مؤقف کی عکاسی کے طور پر دیکھا گیا۔
انہوں نے لکھا، ”اگر اسرائیل کا ہمارے اور ایران کے درمیان جنگ بھڑکانے کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا، تو پورا خطہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا، ”ہمارے ہزاروں بیٹے اور بیٹیاں ایک ایسی جنگ میں مارے جاتے، جس میں ہمارا کوئی مفاد نہیں تھا اور اسرائیل خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہمارے گرد واحد طاقت بن کر رہ جاتا۔‘‘
’گریٹر اسرائیل‘ کیا ہے؟
یو اے ای کی حالیہ پالیسیوں اور ایران جنگ سے پہلے ہی خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو چکے تھے، جس کی مثال یمن کے معاملے پر یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات بھی ہیں۔
امریکہ کی رائس یونیورسٹی سے وابستہ کرسٹیان کوٹس اُلرشسن کے مطابق، ”خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ مختلف ممالک کی علاقائی نظام کے بارے میں سوچ ایک جیسی نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”سعودی عرب میں کسی نئی فوجی مہم جوئی کا کوئی رجحان دیکھائی نہیں دیتا جبکہ یو اے ای کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ زیادہ خطرہ مول لینے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘‘
جب ایران کی جنگ شروع ہوئی تو شروع میں ایسا لگا کہ خلیجی ممالک اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے ہیں۔ لیکن اب، جب ایک ملک اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے اور دوسرا اسے خطرہ سمجھ رہا ہے، تو اختلافات دوبارہ سامنے آ گئے ہیں۔
مارکوس شنائیڈر کے مطابق، ”سعودی عرب اور یو اے ای دراصل اب ایک دوسرے کے برعکس سمت میں جا رہے ہیں۔‘‘ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ یو اے ای یا سعودی عرب نے مکمل طور پر کسی ایک فریق کا انتخاب کر لیا ہے۔
یہ صورتحال سرد جنگ جیسی نہیں ہے، جہاں نظریاتی بنیاد پر واضح تقسیم ہوتی تھی۔ حالیہ تبدیلیوں کے باوجود سعودی عرب اور یو اے ای متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
جرمنی کی ڈوئسبرگ-ایسن یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم ایسترک کے مطابق، ”خلیجی خطے میں جو اتحاد نظر آ رہے ہیں، وہ کسی طویل المدتی اور واضح حکمت عملی کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ ممالک دراصل ایک غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتے ماحول میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
پروفیسر ابراہیم ایسترک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اگر ہم خطے کو صرف فوجی کشیدگی کے تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی پوزیشن زیادہ مضبوط نظر آتی ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اتحاد عارضی اور سطحی نوعیت کے ہیں، جو وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں اور حالات کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔
انہوں نے ڈائمنڈ گروپ کے بارے میں کہا کہ اسے برقرار رکھنا تاریخی، مذہبی، ساختی اور معاشی طور پر بہت مشکل ہے، ”ان ممالک کے نظام حکومت، اندرونی مسائل اور عالمی طاقتوں جیسے چین اور امریکہ پر انحصار ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔‘‘
اسی طرح کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے اتحاد میں بھی کمزوریاں موجود ہیں۔ شکاگو کونسل آن گلوبل افیرز سے وابستہ فیلو ریچل برونسن نے حال ہی میں ایک تجزیے میں لکھا تھا کہ ‘یہ اتحاد مالی، خفیہ معلومات اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مضبوط ضرور ہے لیکن یہ دونوں نسبتاً چھوٹے ممالک ہیں، جن کے سامنے بڑے چیلنجز بھی ہیں۔‘‘
ریچل برونسن کے بقول، ”ترکی ایک نیٹو رکن ہے، جس کے پاس بڑی فوج ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں اور وہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگرچہ یو اے ای کے پاس ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ دولت موجود ہے۔ جو اسے ایک بڑی طاقت بناتی ہے لیکن صرف دولت ہونا کافی نہیں بلکہ اصل طاقت مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں ہوتی ہے۔‘‘
شنائیڈر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے اندرونی تضادات بھی اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں، ”مجھے لگتا ہے کہ وہ (یو اے ای) ایک ہی وقت میں دو مختلف کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ابو ظہبی ایک طرح سے اسپارٹا جیسا بننا چاہتا ہے، یعنی قدیم یونانی ریاست کی طرح بہت زیادہ فوجی طاقت والا اور جارحانہ جبکہ دبئی سوئٹزرلینڈ جیسا، ایک ایسا پرامن اور مستحکم مرکز جہاں ہوائی جہاز آسانی سے لینڈ کر سکیں، لوگ سکون سے رہ سکیں اور ایران جیسے ممالک اپنی مالی سرگرمیاں بھی انجام دے سکیں۔ لیکن حقیقت میں یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے‘‘۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں