کوئٹہ دھماکا اور بلوچستان میں ایک جامع آپریشن کا ناگریز تقاضا

کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے خود کش دھماکے نے بیس سے زائد بے گناہ جانیں نگل لیں جن میں زیادہ تر بچے اور عورتیں شامل ہیں اور ستر سے زائد افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جس ریل گاڑی کو نشانہ بنایا گیا وہ سکیورٹی اداروں کے اہل کاروں اور ان کے خاندانوں کو عید کی خوشیاں منانے کے لیے لے جانے والی شٹل سروس تھی۔ عید کے پاکیزہ تہوار کے موقع پر بے گناہ بچوں، عورتوں اور جوانوں کو خون میں نہلا دینا صرف دہشت گردی کی ایک واردات نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف کیا جانے والا ایک نا قابلِ معافی جرم ہے ۔ بھارت کے ایما پر بلوچستان میں عدم استحکام پھیلانے والی دہشت گرد اور کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس گھناؤنی کارروائی کی ذمہ داری قبول کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس تنظیم کے وابستگان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب بلوچستان کے کسی علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بزدلانہ انداز میں دہشت گردی کی کسی کارروائی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں بھی عید کے موقع پر ہی کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا تھا جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوان اور ان کے اہلِ خانہ سوار تھے۔ اس واردات میں بھی جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔ ان دونوں واقعات کے درمیان پائی جانے والی مماثلت محض اتفاق نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم حکمت عملی ہے جس کے تحت مذہبی تہواروں کو خون آلود کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف جانی نقصان ہو بلکہ قوم کے حوصلے بھی پست کیے جائیں۔ دشمن جانتا ہے کہ عید کے موقع پر حملہ کرنے سے نفسیاتی اثر کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اس لیے وہ بار بار اسی حربے کو استعمال کر رہا ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کی جڑیں تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ تقریباً ایک دہائی پہلے کلبھوشن سدھیر یادیو کی گرفتاری نے وہ راز بے نقاب کر دیا تھا جسے بھارت برسوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھارتی بحریہ کا ایک حاضر سروس افسر پاکستان کی سرزمین پر بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش میں ملوث پایا گیا۔ اس کے اعترافات نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلسس وِنگ (را) نے کس طرح منظم طریقے سے بی ایل اے اور دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کو مالی وسائل، تربیت اور ہدایات فراہم کیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کوئی اکیلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والے کئی اور ثبوتوں نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی کہ بھارت بلوچستان کو جلتا دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے پاکستان کی ترقی اور استحکام اس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔
اس پورے معاملے میں افغانستان کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ افغان سرزمین کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہیں سے منصوبہ بندی ہوتی ہے، وہیں سے اسلحہ آتا ہے اور وہیں سے دہشت گردوں کو سرحد پار بھیجا جاتا ہے اور کارروائی کے بعد اگر کوئی دہشت گرد زندہ بچ جائے تو وہ بھاگ کر پناہ بھی وہیں جا کر لیتا ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے طالبان کی افغانستان میں قائم عبوری حکومت سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے لیکن کابل کی یقین دہانیوں کے باوجود نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کا یہ گٹھ جوڑ بلوچستان کے عوام کو تکلیف میں ڈالنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کی مشترکہ سازش کا حصہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ہمارے سکیورٹی نظام کے حوالے سے بھی کچھ تلخ سوالات اٹھانا ضروری ہے۔ جب سکیورٹی اداروں کے اہل کاروں کو لے جانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ دشمن جب اس سب کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور جب وہ اس منصوبہ بندی کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوششیں کر رہا تھا تو اس کی پیشگی اطلاع خفیہ اداروں تک کیوں نہ پہنچی۔ اس سلسلے میں انٹیلی جنس کی ناکامی کو نظر انداز کر کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہر دھماکے کے بعد چند دن افسوس ہوتا ہے، بیانات آتے ہیں اور پھر معاملات معمول کے مطابق چلنے لگتے ہیں۔ اب ہمیں یہ روش بدلنی ہوگی۔ ہر واردات کے بعد مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں کہاں کہاں ایسی خامیاں ہیں جن سے دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ریل گاڑیوں، بس اڈوں اور عوامی مقامات کی نگرانی کا نظام کہاں ناکام ہوا، یہ جاننا صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ قومی فریضہ ہے۔سکیورٹی فورسز کی بہادری اور قربانیوں پر کوئی شک نہیں۔ ہمارے جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اس ملک کی حفاظت کر رہے ہیں۔ لیکن شجاعت کے ساتھ ساتھ حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ایک بھرپور، جامع اور مربوط آپریشن کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اس حوالے سے یہ نقطہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ یہ آپریشن عسکری محاذ تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی، معاشی اور سیاسی سطح پر بھی کام کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار ملے، علاقے میں ترقیاتی کام ہوں اور عوام کو احساس ہو کہ ریاست ان کے ساتھ ہے۔ یہ ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف گولی سے نہیں مٹتی اسے ختم کرنے کے لیے عوام کا اعتماد جیتنا بھی ضروری ہے۔ تاہم یہ سب کچھ اسی صورت ممکن ہے جب پہلے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے انھیں کمزور کیا جائے۔ آپریشن ادھورا چھوڑنا یا درمیان میں روکنا دشمن کو سانس لینے کا موقع دینا ہے جو کسی بھی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔بین الاقوامی محاذ پر اسلام آباد کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا گھناؤنا کردار محض الزام نہیں بلکہ ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ دستاویزی شکل میں موجود ایک حقیقت ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر یہ ثبوت بار بار پیش کیے جانے چاہئیں۔ دنیا کو بتایا جائے کہ جو ملک خود کو جمہوریت اور امن کا علمبردار کہتا ہے وہ پردے کے پیچھے پڑوسی ملک میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ افغانستان سے بھی واضح الفاظ میں کہا جائے کہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گا ورنہ اس ان کی دوغلی پالیسی کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔کوئٹہ میں پیش آنے والے سانحے کے شہداءکا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ اس وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ قوم متحد ہو، قیادت مصمم ارادہ کرے اور ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف میدان میں اترے۔ بلوچستان ہمارا ہے اور اسے دشمن اور اس کے ناپاک گماشتوں سے محفوظ رکھنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے کسی بھی کونے میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اور اس عزم کو عملی صورت دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں