دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”مثبت رہو اورمثبت سوچو“
No image موجودہ حکمرانوں کو کسی ماہر اور گھاکھ قسم کے بیورو کریٹ نے یہ صائب مشورہ دیا ہوا ہے کہ جیسے اس مرتبہ آئے ہو آئندہ بھی ایسے اقتدار میں آ سکتے ہو، بس چند کام کاج اسی طرح سے جاری وساری رکھو۔ بیرونی سرمایہ کاری کی ٹھوس کوششیں نہیں کرنا، ضرورت نہیں کیونکہ محض وقت ہی ضائع ہو گا،ہاں البتہ دنیا بھر کی ثالثی مہم جاری رکھنا، عوام جتنا احتجاج کرے،اسے اتنا ہی رگڑا دیتے رہنا، آئی ایم ایف سے قرضے لیتے اور ان کا سود ادا کرتے رہنا،اشٹبلشمنٹ بیٹھنے کو کہے تو لیٹ جانا، سی پیک منصوبہ سست کروانا اور امریکہ کو اسی طرح راضی رکھنا، عوام کو تن کر رکھنا، اس سے عوام ڈسپلن کے اندر رہتے ہیں اور پی ٹی آئی کو 9 مئی سے ڈرائے رکھنا اورجو زیادہ بولے اسے 9 مئی کے کھاتے میں جیل میں ڈال دینا۔
اگر کسی مہا بیوروکریٹ نے ایسا مشورہ دیا بھی ہے تو سو فیصد درست دیا ہے۔ آئی ایم ایف سے تو قرضے ہر حکومت لیتی ہے، موجودہ حکومت نے قرضے لے کر نیا کچھ کر دیا ہے؟ ہر حکومت اشٹبلشمنٹ کی مرضی سے آتی اور جاتی ہے اور جہاں تک عوام کو ڈنڈا دینے کی بات ہے تو عوام کا رونا دھونا کون سی نئی بات ہے، نا شکری پاکستانی عوام کی یہ عادت بن گئی ہے وگرنہ احتجاج کرنے سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی۔ ویسے بھی پہلے کون سی اس ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی تھیں جو اب بہنا بند ہو چکی ہیں۔
مہنگائی ہے کہاں؟ مہنگا پٹرول اور بجلی ابھی بھی استعمال کی جا رہی ہے، شاپنگ مالز گاہکوں سے بھرے پڑے ہیں، لوگ پہن رہے ہیں، کھا پی رہے ہیں۔ بھوکے ننگے رہتے تو مر کھپ نہ جاتے۔بچے اسکول،کالج اور یونی ورسٹیوں میں معمول کے مطابق جا رہے ہیں،روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اور موٹر سائیکل سڑکوں پر رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں،ابھی بڑی عید پر اربوں روپے کی قربانیاں ہو گی،عوام کہاں سے غریب ہیں؟سب بکواس، پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز کا پراپوگنڈہ ہے اوراس پراپوگنڈے کا علاج 9 مئی کے ڈنڈے کا ڈراوا ہے۔
ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے مہنگائی پوری دنیا میں ہے، پھر بھی وہاں لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور یہاں لوگ ٹیکس بھی نہیں دیتے اور اوپر سے حکومت سے سب کچھ مفت میں حاصل کرنے کی توقع کرتے ہیں۔ یہاں لوگوں کی عادتیں خراب ہو چکی ہیں۔
مذکورہ بالا مختصر گزارشات خاص طور پر ان کرم فرماوں اور محترم احباب کی نظر ہیں جو مجھ ناچیز کی ٹوٹی پھوٹی تحریریں ایک عرصہ سے برداشت کر کے پڑھ رہے ہیں اور ناچیز کی سیاسی وابستگی کو بھی جانتے ہیں۔ ملنے پر یا ان باکس میں پوچھتے ہیں کہ شامی تجھے کیا ہو گیا ہے،لگتا ہے سیاسی قبلہ تبدیل کر لیا ہے،پہلے تو ن لیگ کا برا سپورٹر تھا لیکن اب یوتھیاء بن گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ابھی ایک یوتھیاء ناچیز کو طعنہ دے رہا تھا کہ مہنگائی سے قمیضیں تو پٹواریوں پھٹی پڑی ہیں مگر ذہنی غلامی اور بے غیرتی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔خیر ناچیز یہ طعنہ سن کر برداشت کر گیا کیونکہ اس طعنے کا کوئی جواب اور چارہ نہیں تھا۔مثبت رہو،مثبت سوچو۔
امید قوی ہے کہ اب ناچیز کے محترم احباب بلخصوص پٹواری برادران شانت ہو گئے ہوں گے۔سلامت رہیں اور تا قیامت رہیں۔پاکستان زندہ باد
آپ کی دعاوں کا طلب گار۔ احتشام الحق شامی
واپس کریں