منظر الحق
مباشرت ،ہم بستری اور جسمانی محبت و الفت،یہ وہ الفاظ ہیں جن کی ادائیگی سے ہمارا معاشرہ کتراتا ہے اور اچھے خاصے تعلیم یافتہ دوست و احباب بھی ان کی گردان سے پہلے،اپنے کان پکڑتے ہیں۔قصہ کچھ یوں ہے ،ہماری حالیہ برقی مٹر گشت کے دوران، ہم نے ایک بزم میں ان نازیبا الفاظ کا استعمال کر ڈالا۔یار دوستوں نے فورا تنبیہ کی،اس قسم کی خرافات سے پرہیز کرنے کی ہدایات جاری ہوئیں اور ہم نے معذرت نامہ لکھ کر، وہاں سے الٹے قدموں رفو چکر ہونے کا فیصلہ کیا۔
اللہ تعالی قرآن میں صاف الفاظ میں مرد و زن کے تعلقات پر روشنی ڈالنے سے نہیں شرماتا،دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کو کھیتی سے تشبیہ دی گئ ہے۔حضرت عائشہ رح سے روایت ہے،میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غسل جنابت ساتھ کیا اور محض ایک پانی لوٹے کے استعمال سے جسم پاک و فراغت ہوئے۔جس دین کے ماننے والوں کے پاس اس قدر واضح ہدایات موجود ہوں،وہاں واجبی شرما حضوری سے ریاکاری کی بو آتی ہے اور ہم شاید تہذیبی و اخلاقی بناوٹ و تصنوع کا شکار ہو گئے ہیں۔
بالغ مردوں و عورتوں کی محفل میں،اس قدم کا ذکر بے شرمی قرار پاتا ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو،بے شرم اور بے لگام کہا جاتا ہے۔یہ فطری تقاضے ہیں،جن سے انسان آسودگی و سرور حاصل کرتا ہے اور بیشمار جوڑے ان کی شروعات کی الف ب سے ناواقفیت رکھتے ہیں۔بسا اوقات کچھ جوڑے، ساری زندگی بے کیف جنسی تعلقات قائم رکھتے ہیں اور انہی وجوہ کی بناء، چند اس عمل کی ادائیگی سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں اور اس بے سرور مباشرت سے متنفر تک ہو جاتے ہیں۔پھر وہ اپنا قبلہ تبدل کر لیتے ہیں،کچھ یاد خدا کو جنسی تعلقات کا متبادل کر کے ،ہم بستری سے قطع تعلق کر کے،جسمانی محبت کے تقاضوں کو منقطع کر لیتے ہیں اور چند بچوں و ان کی اگلی نسل کی ضروریات کو بہانہ بنا کر ،اس محبت کی چاشنی سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔
شادی کے رشتہ میں ،ہم بستری ایک اہم جز ہے اور یہ جسمانی و ذہنی تسکین و سرور کا باعث بنتا ہے۔ کیمائ اجزاء کی امد و رفت سے،دونوں جنس اپنے عروج و بام پر پہنچتے ہیں اور جسموں کا ملاپ انسان کو یکسوئ دیتا ہے،شاید نکالی ہوئ پسلی ،دوبارہ جسم میں شامل ہو جاتی ہے۔اس عمل کو ناپاک و گندہ قرار دینا،فطری تقاضوں کے منافی ہے اور انسان کی سرشت بنانے والے سے بغاوت کا اعلان بھی ہے۔
کیا ہم معاشرے میں اس قسم کی گفتگو کھلے عام کر سکیں گے،یہ سوچنا بھی یقینا ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہو گا اور بعض علماء ،ایسے اشخاص کو بیہودہ و ملعون قرار دے دیں گے،ساتھ ہی ان کے پیادے سر قلم کرنے کی سعادت حاصل کرنے سے بھی نہیں چوکیں گے۔ہم اتنی ہمت و جرآت نہیں رکھتے، جو علامہ اقبال جیسا شکوہ لکھ ڈالیں اور نہ ہی منٹو جیسی بیباکی لائے ہیں۔یہ سلسلہ آہستہ آہستہ معاشرے میں سرایت کرنا چاہیئے،تعلیمی نظام میں کچھ تبدیلی لائ جائے اور اساتذہ کرام اپنی ذمہ داریاں پوری کریں،جب کہیں معاشرے کا پہیہ گھومے گا اور مباشرت و ہم بستری کا ذکر محفلوں میں ہو سکے گا،بلا کسی شرما حضوری کے!!!
واپس کریں