فوج عمر بھر کی ریاضت، قربانی، وفا اور عہد وفاداری کا نام ہے

(سردار اعجاز خلیق خان) ۔ فوج نوکری نہیں ہے یہ بات ہم عوام کو ٹھیک سے سمجھا نہ سکے فوج کوئی آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی نہیں یہ تو عمر بھر کی ریاضت قربانی وفا اور عہد وفاداری کا نام ہے نوکری وہ ہوتی ہے جہاں گھر سے ایک کلومیٹر دور پوسٹنگ ہو جائے تو سفارشیں ڈھونڈی جاتی ہیں تبادلے رکوانے کے لیے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں اور ذرا سی تکلیف پر شکایتوں کے انبار لگ جاتے ہیں نوکری وہ ہے جہاں آدھا گھنٹہ زیادہ بیٹھنا پڑ جائے تو اوور ٹائم مانگا جاتا ہے جہاں ڈیلی الاؤنس انشورنس ٹی اے ڈی اے اور سرکاری گاڑیاں ملتی ہیں جہاں عزت رشتے بنگلے اور آسائشیں نصیب ہوتی ہیں مگر فوج نوکری نہیں یہ تو عمروں کا سودا ہے یہاں گھر چھوٹ جاتے ہیں رشتے پیچھے رہ جاتے ہیں اور عید و شب برات بھی سرحدوں پر گزرتی ہیں فوج میں ڈیوٹیاں ملتی ہیں زخم ملتے ہیں اندھیری راتیں لمبی مسافتیں اور جاگتی راتیں مقدر بنتی ہیں یہاں تنخواہ کے ساتھ سر بریدہ لاشیں بے کفن جنازے ٹوٹے ہوئے خواب اور ماؤں کی سسکیاں بھی ملتی ہیں سوچیے کون ہے جو چند سکوں کے بدلے اپنا خون معاف کر دے کون ہے جو الفنامے میں اپنی پوری زندگی ریاست کے نام لکھ دے کون ہے جو اپنے بچوں کو آگ اور بارود کے حوالے کر کے خود راتیں مصلے پر گزار دے ڈاکٹر انجینئر استاد کلرک یہ سب عزت دار پیشے ہیں اور قوم کی ترقی میں ان کا کردار ناقابل انکار ہے مگر یہ نوکریاں پیسے کے عوض ہوتی ہیں جبکہ فوج خون کے عوض اس مٹی سے نکاح ہے ایسا نکاح جس میں طلاق ممکن نہیں کیونکہ ایک دن کا فوجی بھی تمام عمر فوجی ہی رہتا ہے فوج عبادت ہے فوج جنون ہے فوج غیرت کا دوسرا نام ہے کیونکہ فوجیوں کی ماؤں کا صبر جنت کی مٹی سے گوندھا ہوا ہوتا ہے یہ مائیں وقت سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہیں ہر ایمبولنس کی آواز پر ان کا دل کانپ جاتا ہے ہر بری خبر پر وہ سجدوں میں گر کر اپنے بچوں کی خیر مانگتی ہیں اور ہر اچھی خبر پر آنکھوں میں شکر کے آنسو لیے دعائیں دیتی ہیں خدا کی قسم چند لوگوں کے سوالیہ کردار اس مقدس پیشے کی قربانی کو داغدار نہیں کر سکتے کیونکہ فوج واقعہً کوئی پیشہ نہیں ایک جذبہ ہے ایک عشق ہے ایک امانت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اس مٹی کی محبت میری سانسوں کے ساتھ چلتی ہے کیونکہ الحمدللہ یہ ملک بھی میرا ہے اور یہ فوج بھی میری ہے جب تک یہ جذبہ زندہ ہے یہ سرزمین محفوظ رہے گی۔
واپس کریں