دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی۔محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان میں سزائے موت اور نظامِ قصاص پر جاری بحث محض ایک قانونی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرا آئینی، فکری اور نظریاتی سوال ہے۔ یہ معاملہ براہِ راست اس ریاستی تشخص سے جڑا ہوا ہے جو خود کو“اسلامی جمہوریہ پاکستان”قرار دیتی ہے اور جس کا آئین اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ مملکت میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ اس پس منظر میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر قانون موجود ہے، عدالتیں فیصلے دے رہی ہیں اور سزا برقرار رکھی جا رہی ہے تو پھر سزائے موت پر عملدرآمد عملاً کیوں رکا ہوا ہے؟ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:“وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ”یعنی“اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔”یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی اصول ہے۔ اسلامی قانون میں قصاص کا مقصد انتقام نہیں بلکہ انسانی جان کے تحفظ، ظلم کی روک تھام اور معاشرتی توازن کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔ جب کسی معاشرے میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق یقینی سزا ملتی ہے تو اس سے نہ صرف مظلوم کو انصاف کا احساس ملتا ہے بلکہ جرم کے پھیلاؤ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
پاکستان کا آئین بھی اس معاملے میں واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 2 اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 227 یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہوں گے۔ اسی مقصد کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ قانون سازی اور عدالتی نظام اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ رہیں۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان و دیگر قوانین میں قتلِ عمد، زنا بالجبر، دہشت گردی اور بعض دیگر سنگین جرائم کے لیے سزائے موت ایک قانونی سزا کے طور پر موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزائے موت پاکستان کے قانونی نظام کا باقاعدہ حصہ ہے۔
تاہم یہاں ایک نمایاں تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف عدالتیں قتل، زنا بالجبر، دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزائے موت سناتی ہیں، اپیلوں کے مراحل مکمل ہوتے ہیں اور بعض مقدمات میں رحم کی درخواستیں بھی نمٹا دی جاتی ہیں، مگر دوسری طرف سزائے موت پر عملدرآمد طویل عرصے سے عملی طور پر رکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستانی جیلوں میں سزائے موت کے ہزاروں مجرم مقید ہیں اور سال 2019 کے بعد سزائے موت پر غیر اعلانیہ عملدرآمد ر روک دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے نہ پارلیمان نے کوئی نیا قانون بنایا، نہ آئینی ترمیم کی گئی اور نہ ہی اعلیٰ عدالتوں نے سزائے موت کو غیر قانونی قرار دیا۔ گویا قوانین اپنی جگہ موجود ہیں مگر اس کے نفاذ میں ایک غیر اعلانیہ تعطل پیدا ہو چکا ہے۔
یہ کیفیت کئی قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر ماتحت عدالتیں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کسی ملزم کو سزا سناتی ہیں اور اعلیٰ عدالتیں بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہیں تو کیا ریاست کی جانب سے اس سزا کے نفاذ کو غیراعلانیہ اور غیر معینہ مدت تک مؤخر رکھنا انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے؟ انصاف صرف فیصلہ صادر کرنے کا نام نہیں بلکہ اس فیصلے پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد بھی انصاف ہی کا حصہ ہے۔ اگر سزا محض کاغذوں تک محدود ہو جائے تو قانون کی وقعت اور عدالتی فیصلے دونوں متاثر ہونے لگتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر سزائے موت کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض ممالک نے اسے ختم کر دیا ہے اسکے باوجود امریکہ سمیت پچاس سے زائد رممالک آج بھی اسے سنگین جرائم میں نافذ کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان جیسے ملک میں اس بحث کو محض بیرونی رجحانات یا عالمی دباؤ کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ یہاں آئینی اور مذہبی بنیادیں اس مسئلے کو ایک مختلف حیثیت عطا کرتی ہیں۔ اگر ریاست سزائے موت کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے واضح آئینی، قانونی اور پارلیمانی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، نہ کہ خاموشی اور غیر اعلانیہ تعطل کے ذریعے قانون کو غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ بالفرض ریاست پاکستان، یورپی یونین و دیگر عالمی تنظیموں کے دباؤ پر نظامِ قصاص کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ بات روز روشن کی عیاں ہے کہ آئین و قوانین میں ایسی ترامیم صریحا قرآن و سنت کے برخلاف تصور ہونگی۔
پاکستان میں سزائے موت عملدرآمد پر غیر اعلانیہ پابندی کا نظام نافذہوچکا ہے، لیکن یاد رہے ایک ایسا نظام جہاں سزا تو موجود ہو مگر اس کا نفاذ غیر یقینی ہو، وہاں نہ مجرم کو قانون کا خوف رہتا ہے اور نہ متاثرین کو مکمل انصاف کا احساس ملتا ہے۔ یہی ابہام ریاستی اختیار، عدالتی وقار اور عوامی اعتماد تینوں کو متاثر کرتا ہے۔ آخر میں بنیادی سوال یہی باقی رہ جاتا ہے۔ کیا ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان قصاص کے اصول کو صرف قانون کی کتابوں تک محدود رکھ سکتی ہے، یا پھر اسے اپنے آئینی اور نظریاتی تقاضوں کے مطابق ایک واضح، دوٹوک اور شفاف مؤقف اختیار کرنا ہوگا؟ کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں، انصاف کا نافذ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
واپس کریں