پاکستان کا بجٹ — معاشی مسئلہ یا انصاف کا بحران؟خالد خان

پاکستان ایک بار پھر ایسے بجٹ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں حکومتی ایوانوں، معاشی ماہرین اور عالمی مالیاتی اداروں کی گفتگو اعداد و شمار، محصولات، خسارے، قرضوں اور مالیاتی نظم و ضبط کے گرد گھوم رہی ہے، مگر ان تمام بحثوں کے نیچے ایک ایسا سوال موجود ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے: آخر کیوں پاکستان میں ہر معاشی بحران کا بوجھ بالآخر عام شہری کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ معاشی ناانصافی کے بڑے ڈھانچے تقریباً جوں کے توں قائم رہتے ہیں؟
برسوں سے پاکستانی عوام کو صبر، قربانی اور برداشت کا درس دیا جا رہا ہے۔ مہنگائی بڑھی، بجلی اور گیس مہنگی ہوئیں، روپے کی قدر گری، روزگار کم ہوا، مگر ہر بار قوم سے یہی کہا گیا کہ آج کی سختیاں کل کے استحکام کی بنیاد بنیں گی۔ لیکن کروڑوں پاکستانیوں کے لیے وہ “کل” کبھی نہیں آیا۔ عام آدمی کی زندگی مسلسل تنگ، غیر محفوظ اور بے یقینی کا شکار ہوتی چلی گئی۔
اصل مسئلہ صرف معاشی کمزوری یا حکومتی نااہلی نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی ڈھانچہ ہے جس میں تکلیف کی تقسیم غیر مساوی دکھائی دیتی ہے۔ تنخواہ دار اور دستاویزی طبقہ ریاست کے لیے سب سے آسان ہدف بن چکا ہے، جبکہ معیشت کے کئی بڑے شعبے، غیر دستاویزی سرمایہ، طاقتور کاروباری مفادات اور مراعات یافتہ حلقے آج بھی اسی شدت سے قومی بوجھ میں شریک نظر نہیں آتے۔ یہی احساسِ ناانصافی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کر رہا ہے۔
کوئی بھی بجٹ صرف اس بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکتا کہ اس نے کاغذوں میں مالیاتی اہداف حاصل کر لیے ہوں، جبکہ عوام کے دل میں یہ احساس بڑھتا جائے کہ پورا نظام انصاف کے بجائے طاقت کے توازن پر چل رہا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ قرضوں کی ادائیگیاں قومی وسائل کا بڑا حصہ کھا رہی ہیں، بیرونی مالیاتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور عالمی ادارے سخت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت کے پاس مالی گنجائش محدود ہے اور ان حقائق کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن معاشی مجبوری اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ ہر مرتبہ بوجھ انہی طبقات پر ڈالا جائے جو پہلے ہی تھکن، مہنگائی اور غیر یقینی کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی بھی معیشت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب اس کا متوسط طبقہ مسلسل کمزور ہو، خریداری کی قوت ختم ہوتی جائے اور محنت کرنے والا شہری ہر سال مزید دباؤ محسوس کرے۔
ریاستیں صرف کھاتوں کے توازن سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ سماجی اعتماد، امید اور قومی ہم آہنگی سے مضبوط ہوتی ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک خطرناک دائرے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں وقتی معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات عوامی بے چینی، ذہنی تھکن اور معاشی عدم تحفظ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی معاشی بیانیہ اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی، اعتماد سے چلتی ہے۔
جب ایک نوجوان اپنے مستقبل کو ملک سے باہر تلاش کرنے لگے، جب چھوٹا کاروباری طبقہ سرمایہ لگانے سے خوفزدہ ہو، جب صنعت غیر یقینی صورتحال میں جکڑ جائے اور جب عام شہری ریاست کو صرف ٹیکس اور بلوں کی صورت میں محسوس کرنے لگے تو پھر معاشی بحران صرف مالی نہیں رہتا بلکہ نفسیاتی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کی بجٹ بحث کو صرف محصولات بڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ملک کو ایک وسیع تر معاشی اور فکری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ اور ہمہ گیر بنانا ہوگا۔ صنعت، برآمدات، زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی، نوجوانوں کے روزگار اور چھوٹے کاروباروں کو حقیقی قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاج اصلاحات اور پالیسی کا تسلسل پیدا کرنا ہوگا تاکہ معیشت مسلسل ہنگامی فیصلوں کی قیدی نہ بنی رہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی اعتماد بھی ایک قومی سرمایہ ہوتا ہے۔
کوئی بھی ملک اس وقت تک پائیدار استحکام حاصل نہیں کر سکتا جب اس کے شہری خود کو ریاستی فوائد سے محروم مگر ریاستی بوجھ سے مستقل طور پر وابستہ محسوس کریں۔ معاشی پالیسی صرف وصولیوں کے ذریعے زیادہ دیر نہیں چل سکتی، اسے انصاف، شمولیت اور امید بھی دینی ہوتی ہے۔
پاکستان کا اصل چیلنج صرف بجٹ خسارہ کم کرنا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب شہری یہ محسوس کریں کہ قربانی صرف ان سے نہیں مانگی جا رہی بلکہ طاقتور طبقات بھی قومی ذمہ داری میں برابر شریک ہیں، اور جب انہیں یہ یقین ہو کہ محنت، دیانت اور صلاحیت کے ذریعے بہتر مستقبل حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس آج بھی بے پناہ انسانی صلاحیت، کاروباری توانائی اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے، مگر یہ صلاحیتیں اس وقت تک پوری طرح سامنے نہیں آ سکتیں جب تک معاشی بوجھ کی تقسیم نسبتاً منصفانہ نہ ہو اور عوام کو یہ احساس نہ ملے کہ ریاست صرف طاقتور حلقوں کی نہیں بلکہ ان کی بھی ہے۔
آنے والا بجٹ صرف مالی اعداد و شمار کا اعلان نہیں ہوگا بلکہ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہوگا کہ آیا ریاست اب بھی بحرانوں کا حل صرف عوام پر مزید بوجھ ڈالنے میں دیکھتی ہے یا واقعی ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور پائیدار معاشی نظام کی طرف بڑھنا چاہتی ہے کیونکہ آخرکار قومیں صرف خزانے سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور امید سے مضبوط بنتی ہیں۔
واپس کریں