دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خدا کے واسطے آپ تنخواہ لینی شروع کر دیں۔خالد مسعود خان
No image ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال اور خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں سرکار نے تیل کی تمام مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کا تیل نکال کر اپنے اقتدار کی لگژری گاڑی میں ڈالنے کا بندوبست کیا ہے‘وہیں قوم کیلئے بچت والا پرانا گھسا پٹا چورن دوبارہ فروخت کرنے کا انتظام بھی کر لیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بلاجواز اور سرِعام جیب کاٹ لینے جیسی حرکت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عملی طور پر ابھی ہم پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا اور ہم نے خام تیل کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی بنیاد پر پرانی قیمتوں پر خرید کردہ تیل کے اُن ذخائر کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جو آئل کمپنیوں کے بلک سٹورز یا پٹرول کمپنیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
فروری کے آخر میں ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت 258 روپے فی لیٹر تھی جبکہ خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں خام تیل119 ڈالر فی بیرل ہوا تو ہمارے ہاں قیمت 321 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ ہم نے یہ اضافہ ایک انگریزی لفظ کے مطابق سراسر Hypothetical یعنی مفروضے کی بنیاد پر کیا کہ تیل کی نئی قیمت ہمیں متاثر کرے گی۔ نئی قیمت پر تیل کی خرید ابھی ہم سے کوسوں دور تھی اور ہمارے ذخائر پر مبنی سارا تیل پرانی قیمت پر خرید کردہ تھا۔ ابھی ہم نے 119 ڈالر فی بیرل والی قیمتوں پر کوئی سودا بھی نہیں کیا تھا کہ عالمی منڈی میں یہ قیمتیں کم ہو کر دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں۔ 119 ڈالر فی بیرل والی قیمت کو بہانہ بنا کر ہم نے قیمتوں میں بائیس فیصد اضافہ تو کر دیا تاہم قیمتیں کم ہونے کے باوجود ان میں فوری طور پر کوئی کمی نہیں کی۔ یعنی ہم نے اضافہ کرتے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو جواز بنایا جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی خبر ابھی تک حکومت کے کانوں تک نہیں پہنچی۔ ہمارے ساتھ ہمیشہ یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔
اس عالمی بحران کی چھتری تلے حکومت کو ایک بار پھر Austerity یعنی سادگی‘ بچت اور کفایت شعاری کا دورہ پڑ گیا ہے۔ یہ جو میں نے دورہ کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس کے پیچھے ماضی کے تلخ تجربات کا ہاتھ ہے۔ حکومتوں کو جب عوام میں اپنے نمبر بنانے کا دورہ پڑتا ہے تو وہ سستی شہرت کے حصول کیلئے اس قسم کے ڈرامے کرتی ہیں۔ صدر ضیا الحق نے سائیکل سواری کا ڈرامہ کرنے پر سرکار کے کروڑوں روپے اڑا دیے۔ انہی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے سرکاری افسروں‘ وزیروں اور مشیروں وغیرہ کیلئے بڑی گاڑیوں کے بجائے چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ پرانی بڑی گاڑیاں اونے پونے بیچ کر ان میں مزید پیسے ڈال کر نئی چھوٹی گاڑیاں خرید لی گئیں۔ ایک پنجابی محاورے کے مطابق بھینس بیچ کر گدھی خرید لی گئی۔ اس اعلان کا اطلاق بھی صرف سول ملازمین پر ہوا‘ زور آوروں نے اس حکم کو بقول فیض احمد فیض ''جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا‘‘۔
تین سال بعد جونیجو صاحب رخصت ہوئے تو یہ حکم نامہ جو پہلے بھی جزوی طور پر لاگو ہوا تھا‘ اپنے انجام کو پہنچا۔ نئی سرکار نے دوبارہ چھوٹی گاڑیوں سے خلاصی حاصل کی اور نئے سرے سے بڑی گاڑیاں خرید لیں۔ اس ساری بچت سکیم میں عوام کے ٹیکس کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ایک علیحدہ درد ناک داستان ہے۔ چند سال پرانی بات ہے میں اپنے ایک دوست سرکاری افسر کے پاس اسلام آباد میں پاک سیکرٹریٹ کی تیسری منزل پر واقع اس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دور میں کیے جانے والے Austerity اقدامات کا ذکر چل پڑا۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اس مہم کا حقیقی بچت سے کیا تعلق ہے؟ وہ ہنسا اور کہنے لگا: ہم سرکاری بابو اس سلسلے میں بڑے ہوشیار اور کائیاں ہیں۔ ہم اس بچت مہم کی طے کردہ حدود وقیود اور پابندیوں میں سے اپنی مرضی کا راستہ نکالنے کے فن میں بڑے ماہر فنکار ہیں۔ بچت کے اس حکمنامے کو جاری ہوئے ڈیڑھ سال ہو چکا ہے۔ تم میری کھڑکی سے نیچے کھڑی ہوئی سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیوں پر نظر دوڑائو۔ نیچے اس سال مارکیٹ میں آنے والی نئی ماڈل کی گاڑیوں کی اتنی تعداد دکھائی دے گی کہ تمہاری عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ بچت مہم ڈیڑھ سال سے لاگو ہے اور دس ماہ پہلے مارکیٹ میں آنے والی گاڑیوں کی ایک پوری کھیپ سرکاری نمبر پلیٹ لگا کر نیچے کھڑی Austerity کا منہ چڑا رہی ہے۔
چند سال قبل عمران خان کو بھی اسی قسم کا خبط اٹھا۔ وزیراعظم ہائوس کی ساری لگژری اور بلٹ پروف گاڑیاں سکریپ کے بھائو بیچ کر ان سے جان چھڑوا لی گئی۔ خود وزیراعظم ہائوس میں رہنے کی ''عیاشی‘‘ سے انکار کرتے ہوئے اپنی ذاتی رہائش گاہ بمقام بنی گالا کو وزیراعظم ہائوس کا درجہ عطا کر دیا۔ سرکاری وزیراعظم ہائوس میں موجود سارا سٹاف اور ملازمین بیکار میں سرکار کی روٹیاں توڑتے رہے۔ خود خان صاحب روزانہ ہیلی کاپٹر پر دفتر آتے رہے۔ جب ریاستی مہمان آنا شروع ہوئے تو حفاظتی نقطہ نظر سے بلٹ پروف گاڑیوں اور لگژری گاڑیوں کی ضروت پڑی تو دوبارہ سے نئی گاڑیاں خریدی گئیں۔ ہمارے ہاں بچت‘ کفایت شعاری اور سادگی والی تمام ترمہمات بالآخر ایک نئے خرچے پر جا کر ختم ہوتی ہیں۔
اس ملک میں سب سے بڑا ڈرامہ یہ ہے کہ سرکاری خزانے کو حلوائی کی دکان پر نانا جی کا فاتحہ سمجھ کر اڑانے والے حکمران تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے خود کو سادگی اور کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے قربانی دینے والے عظیم رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ سرکار کو حالیہ ایران امریکہ جنگ پر ایک بار پھر سادگی‘ کفایت شعاری اور بچت یاد آ گئی ہے اور میرا دل ڈر رہا ہے کہ دیکھیں اب اس سادگی اور بچت مہم پر نئے اخراجات کا نزلہ کس پر گرتا ہے‘ تاہم اس مہم پر مجھے پنجاب حکومت کا حالیہ خرید کردہ گلف سٹریم G500 جہاز پر اب تک ہونے والے خرچوں کے بعد آئندہ ہونے والے خرچوں سے یاد آیا کہ اس بچت مہم کا ان اخراجات پر کیا اثر پڑے گا؟اس لگژری جہاز کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر دو عدد غیر ملکی پائلٹس بھرتی کئے گئے ہیں جن کی تنخواہ مبینہ طور پر 32 ہزار اور 28 ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔ یعنی کل ساٹھ ہزار ڈالر ماہانہ صرف تنخواہ کی مد میں دیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پاکستان روپوں میں 283 روپے فی ڈالر کے حساب سے ایک کروڑ ستر لاکھ ماہانہ بنتی ہے۔ ان پائلٹس کی سالانہ بیس کروڑ چالیس لاکھ روپے تنخواہ کے اور دیگر آپریشنل اخراجات کیلئے حکومت پنجاب نے کل 86 کروڑ 15 لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔ ساڑھے چھ کروڑ روپے پائلٹس اور انجینئرز کی امریکہ میں لازمی ریفریشر ٹریننگ پروگرام پر خرچ ہوں گے۔ تربیت سے متعلق سرگرمیوں پر چودہ کروڑ تینتیس لاکھ‘ اس طیارے کے آپریشنل پروگرامز اور سبسکرپشن سروسز کیلئے پچاس کروڑ روپے جبکہ ایندھن کی مد میں مزید پانچ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ انشورنس کی مد میں ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ خرچہ آئے گا۔ یاد رہے کہ اس جہاز کے فالتو پرزہ جات وغیرہ پہلے سے آ چکے ہیں اور ان پر ڈیوٹی وغیرہ ادا کی جا چکی ہے‘ تاہم سامان کے کرائے کی مد میں اٹھارہ لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ تکنیکی عملے اور کنسلٹنسی کی مد میں پچاس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث طیارے کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی اور وہ آج کل اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے ویانا گیا ہوا ہے۔
حکمرانوں کے صرف ایک جہاز پر ہونے والے اخراجات کے بعد اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ ہمارے امیر کبیر حکمران تنخواہ نہیں لیتے۔ میری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ آپ براہِ کرم ہمارے ٹیکس کی رقم سے اپنے اوپر والے اللّے تلّلے بند کر دیں اور خدا کے واسطے اپنی تنخواہ لینا شروع کر دیں۔ آپ کی عین نوازش ہو گی۔
واپس کریں