دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سفارت کاری کے پل اور پاکستان کا تزویراتی توازن
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
بین الاقوامی سیاست کی پیچیدہ بساط پر بعض تعلقات وقتی مفادات، بدلتے اتحادوں اور حالات کی گردش کے تابع ہوتے ہیں، جبکہ چند رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت کی کسوٹی پر پورا اترتے ہوئے اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار رہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات اسی دوسری نوعیت کی ایک درخشاں مثال ہیں۔ پچھتر برس قبل قائم ہونے والا یہ سفارتی رشتہ آج نہ صرف دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا اہم ستون ہے بلکہ ایشیا کے بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے میں استحکام، تعاون اور باہمی اعتماد کی علامت بھی بن چکا ہے۔
لاہور میں حالیہ دنوں منعقد ہونے والی ایک فکری و سفارتی نشست نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات صرف سرکاری معاہدوں اور سفارتی بیانات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل قوت عوامی روابط، فکری مکالمے اور اعتماد سازی کے ان غیر رسمی ذرائع میں پوشیدہ ہوتی ہے جو مستقبل کے امکانات کو مہمیز دیتے ہیں۔ نئے تعینات ہونے والے چینی قونصل جنرل سن یان کی اس خصوصی نشست میں شرکت دراصل اسی عوامی سفارت کاری کی ایک خوبصورت مثال تھی جس میں اہلِ دانش، صحافی، سیاسی شخصیات، سرکاری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کرکے پاک چین دوستی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس نشست کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ گفتگو محض ماضی کی یادوں تک محدود نہیں رہی بلکہ آنے والے برسوں کے امکانات، چیلنجز اور مواقع بھی زیر بحث آئے۔ چین کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کی مسلسل حمایت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا گیا۔ موجودہ عالمی حالات میں، جب سلامتی کے نئے خطرات اور جغرافیائی سیاسی کشمکش شدت اختیار کر رہی ہے، پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی، دفاعی اشتراک اور علاقائی استحکام کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ایک ایسے اسٹریٹجک اشتراک کی بنیاد بن چکے ہیں جس کی افادیت وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہو رہی ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس شراکت داری کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔ یہ منصوبہ محض سڑکوں، پلوں اور توانائی کے منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اقتصادی وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد علاقائی رابطہ کاری، تجارتی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبے اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کی شراکت داری محض نظریاتی یا سفارتی نہیں بلکہ عملی اور نتیجہ خیز بھی ہے۔
تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی صرف ایک مضبوط دوست کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں ہو سکتی۔ عصرِ حاضر کی سفارت کاری کا تقاضا یہ ہے کہ ریاستیں مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن اور تعمیری روابط برقرار رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے چین کے ساتھ اس کے تاریخی روابط۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کے ماحول میں پاکستان کو کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
حالیہ سفارتی روابط سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ امریکہ کی موجودہ سفارتی قیادت پاکستان میں عوامی سفارت کاری کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ عوامی سطح پر روابط، علمی و ثقافتی تبادلے اور براہِ راست مکالمے درحقیقت ان غلط فہمیوں کو کم کرتے ہیں جو اکثر سرکاری بیانات اور بین الاقوامی تنازعات کے شور میں جنم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سفارت کاری میں عوامی رابطے، میڈیا انگیجمنٹ اور سماجی سطح پر تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اقتصادی ضروریات اور علاقائی ذمہ داریاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ وہ مشرق اور مغرب دونوں کے ساتھ فعال تعلقات استوار رکھے۔ چین پاکستان کا آزمودہ دوست اور اقتصادی شراکت دار ہے، جبکہ امریکہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی اداروں میں ایک مؤثر کردار رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مسابقت کے بجائے تکمیلی زاویے سے دیکھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کو پیچیدہ بناتی ہیں جبکہ سفارت کاری انہیں حل کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ مذاکرات، مکالمہ اور اعتماد سازی ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے ریاستیں اختلافات کو مفاہمت میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواہ معاملہ علاقائی سلامتی کا ہو، اقتصادی تعاون کا یا عالمی سیاست کے کسی پیچیدہ تنازع کا، آخرکار راستہ سفارت کاری ہی سے نکلتا ہے۔
پاکستان کو آج اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو مزید فعال، متوازن اور دوراندیش بنانا ہوگا۔ پاک چین دوستی کی مضبوط بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعمیری روابط استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو جذبات کے بجائے حکمت، تصادم کے بجائے مکالمے اور تنہائی کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ سفارت کاری دراصل اسی دانش کا نام ہے، اور پاکستان کے لیے مستقبل کی راہ بھی اسی دروازے سے ہو کر گزرتی ہے۔
واپس کریں