محمد ریاض ایڈووکیٹ
ہر سال 14 جون کو دنیا بھر میں ''ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے'' منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں رضاکار اور بے لوث بلڈ ڈونرزکو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جو کسی صلے یا ستائش کی خواہش کے بغیر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کا عطیہ کردہ خون حادثات، سرجریوں، زچگی، کینسر کے علاج اور دیگر پیچیدہ طبی حالات میں مریضوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔اس سال عالمی یومِ عطیہ خون کا پیغام ہے کہ ''انسانیت کا ایک قطرہ، خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں '' ہے۔ یہ پیغام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خون کا ہر قطرہ محض ایک طبی ضرورت پوری نہیں کرتا بلکہ محبت، ہمدردی، ایثار اور انسانی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل کسی کے لیے زندگی کی نئی امید بن سکتا ہے۔
دین ِ اسلام نے بھی انسانی جان کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 32 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندہ کردیا۔''
یہ آیت انسانی جان کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ خون کا عطیہ بھی اسی عظیم مقصد کا ایک عملی اظہار ہے۔ جب ایک مریض کو بروقت خون مل جاتا ہے اور اس کی زندگی بچ جاتی ہے تو عطیہ دینے والا اس عظیم نیکی میں شریک ہو جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر نیکی صدقہ ہے''۔ خون کا عطیہ یقیناً ایسا صدقہ ہے جس کا فائدہ براہِ راست کسی انسان کی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔'' اس تناظر میں خون عطیہ کرنا محض ایک طبی عمل نہیں بلکہ ایک عظیم انسانی اور اسلامی فریضہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہر دو سیکنڈ بعد کسی نہ کسی شخص کو خون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کسی حادثے کا شکار فرد، کینسر کا مریض، تھیلیسیمیا میں مبتلا بچہ، پیچیدہ آپریشن سے گزرنے والا مریض یا زچگی کی پیچیدگیوں کا شکار ماں۔ان سب کی زندگی خون کی بروقت فراہمی سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں پنجاب حکومت کا ایک قابلِ تحسین اقدام بھی قابلِ ذکر ہے۔ اگر کسی مریض کو ہنگامی بنیادوں پر خون درکار ہو یا کوئی شہری خون عطیہ کرنے کی خواہش رکھتا ہو تو پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت ضرورت مند مریضوں اور بلڈ ڈونرز کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ کئی مواقع پر اس سروس نے بروقت رابطہ کاری کے ذریعے قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ اقدام اس امر کا ثبوت ہے کہ جب ریاستی ادارے اور شہری مل کر انسانیت کی خدمت کریں تو معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کی نئی مثالیں قائم ہوتی ہیں۔
بعض لوگ خون عطیہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے صحت متاثر ہوتی ہے، حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق صحت مند افراد کے لیے خون کا عطیہ محفوظ عمل ہے۔ عطیہ دینے سے پہلے ڈونر کا مختصر طبی معائنہ کیا جاتا ہے جس میں بلڈ پریشر، نبض، ہیموگلوبن اور دیگر بنیادی طبی معلومات کی جانچ شامل ہوتی ہے۔ یوں بلڈ ڈونر کو اپنی صحت کے بارے میں اہم معلومات بھی حاصل ہو جاتی ہیں۔ تحقیقیات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے خون عطیہ کرنے سے مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جسم عطیہ کیے گئے خون کی کمی پوری کرنے کے لیے نئے خون کے خلیات بناتا ہے، جس سے خون کی تجدید کا عمل متحرک رہتا ہے۔ بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ خون میں آئرن کی متوازن سطح دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ خون عطیہ کرنے کے نفسیاتی فوائد بھی کم نہیں ہیں۔ جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے چند منٹ اور معمولی سی کوشش کسی کی زندگی بچانے کا سبب بنی ہے تو اسے دلی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ذہنی دباؤ کم کرنے اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خون کا عطیہ انسانیت، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا خوبصورت مظہر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان، نسل، مذہب اور قومیت کے تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر ہم سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ خون کا عطیہ دینے والا یہ نہیں جانتا کہ اس کا خون کس شخص تک پہنچے گا، لیکن وہ یہ ضرور جانتا ہے کہ اس کے اس عمل سے کسی انسان کی زندگی محفوظ ہو سکتی ہے۔ آئیے اس 14 جون کو ہم یہ عہد کریں کہ اگر ہماری صحت اجازت دیتی ہے تو ہم خون عطیہ کرنے کی اس عظیم روایت کا حصہ بنیں گے۔ شاید ہمارا ایک عطیہ کسی بچے کی مسکراہٹ، کسی ماں کی زندگی یا کسی خاندان کی خوشیوں کو برقرار رکھنے کا سبب بن جائے۔ یاد رکھیے، خون کا ایک قطرہ صرف خون نہیں، انسانیت کی محبت، ہمدردی اور ایثار کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کا تحفہ، امید کی کرن اور انسانوں کے درمیان رشتہ اخوت کو مضبوط کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ واقعی، ایک قطرہ انسانیت پوری دنیا کو زندگی دے سکتا ہے۔
واپس کریں