دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب بھارتی درندے"سردار" کشمیریوں کے سر کاٹ کر لے گئے
No image (رپورٹ، آصف اشرف ۔25 فروری جب بھارتی درندے"سردار" کشمیریوں کے سر کاٹ کر لے گئے)
آج کی رات پونچھ سیکٹر کے نکیال گاؤں میں بھارتی درندے سدھن قبیلہ کے ایک گھر داخل ہوئے اور ظلم کی شرمناک داستان رقم کر چلے لنجوٹ محلہ میں سدھن قبیلہ پر کربلا کا پہاڑ توڑا گیا یہ کوئی نئی بات نہ تھی 1832میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے پونچھ کی سرزمین منگ میں اس قبیلہ کے پندرہ سرفروش باغیوں کی ژندہ کھالیں کھنچوا کر سدھن قبیلہ کو کشمیر کا سب سے بڑا مزاحمتی کردار منایا اب گلاب سنگھ کی روش پر بھارتی فوج نے نیاء کھیل کھیلا شہدائے لنجوٹ کا آج 26واں یوم شہادت منا کر ان شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ان شہداء کے مقدس سرخ خون کا قرض عظیم کشمیری جنگجو غازی الیاس کشمیری شہید نے لیا اور آخر ایک روز بھارتی مورچوں پر داخل ہو کر گوریلہ کاروائی کر کے ایک بھارتی اہل کار کو اغواء کر کے شہر کوٹلی لاکر اس کو واصل جہنم کر کے غاصب بھارتی فوجی کی لاش کو سڑک پر گاڑی پر گھما کر ثابت کیا کہ اپنے شہیدوں کا بدلا کیسے لیا جاتا ہے الگ داستان ہے کہ اس جرم ضعیفی کی سزا الیاس کشمیری کو کس حالت میں شہید کر کے ملی
بھارتی دہشتگردی کا شکار ہونے والے 14کشمیریوں کے قتل کا ہولناک واقعہ
بھارتی کمانڈوزچودہ افراد کو ذبح کر کے تین افراد کے سر اپنے ساتھ لے گئے تھے
آزاد جموں کشمیر میں بھارتی دہشتگردی کا شکار ہونے والے 14کشمیریوں کے بہیمانہ اور وحشیانہ قتل کی 26ویں برسی منائی جائے گی ۔
25فروری 2000کی شب جموں کشمیر کو پاکستان اور بھارت میں جبری تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن پر نکیال سیکٹرکے علاقے لنجوٹ کے مقام پر رات کی تاریکی میں بھارتی فوجی چودہ افراد کو ذبح کر کے تین افراد کے سر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اسے آپریشن بلیک کیٹ کا نام دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق25فروری 2000کی رات نکیال سیکٹر کے علاقے لنجوٹ کے مقام پر سدھن قبیلہ سے تعلق رکھنے والے سردار عبدالحمید کے گھر نیاز(ختم شریف ) کی تقریب تھی جس میں ان کا سارا قبیلہ جمع تھا۔ نیاز کے ختم ہونے کے بعد گائوں کے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو سب گھر والے سو گئے۔ رات کوبھارتی فوج نے شدید فائرنگ شروع کر دی ۔اسی دوران بھارتی فوج کے بلیک کیٹ کمانڈوز سیز فائر لائن پر واقع سردار عبدالحمید کے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوئے اور گھر میں موجود چودہ افراد کو بے دردی سے ذبح کرکے نوبیاہتا جوڑے سمیت گھر کے ایک بزرگ سردار عالم خان ، جو مقامی مسجد کے امام تھے، کا سراور بازو کاٹ کر لے گئے ۔ ان میں چھ عورتیں اور تین مردوں سمیت پانچ بچے بھی شامل تھے۔
لانس نائیک مرتضی ،اپنی شادی کی چھٹیوں پر گھرآئے ہوئے تھے۔دستیاب معلومات کے مطابق مرتضی کی نوبیاہتا اہلیہ جو زخمی حالت میں نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئی تھی، اسے گھر سے کچھ فاصلے پر پکڑا گیا اور پتھر کی بنی ہوئی نماز کی جگہ پر لٹا کرذبح کیا گیا۔ اسکی لاش قریب درخت کے ساتھ کھڑی کر کے اسکا سر اور بازو کاٹ کر بھارتی کمانڈوز اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
آپریشن میں لانس نائیک (ر) اشتیاق اور یونس نے پہاڑ سے نیچے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔ اس دوران بھارتی درندوں کی فائرنگ سے وہ دونوں گولیوں سے چھلنی ہو چکے تھے۔
اسی گھر میں سے بچ جانے والے نوجوان نے فائرنگ کا سلسلہ رکنے پر اپنے گھر کے قریبی پڑوسیوں کو بتایا کہ بھارتی فوج ان کے گھر کے سارے افراد کو قتل کر کے ان سر کاٹ کر لے گئی ہے۔ جب لوگ ان کے گھر پہنچے تو وہاں خون کی ندیاں اور سر کٹی نعشیں دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے۔
رپوٹ کے مطابق اس گھر کے سربراہ سردار عبدالحمید ساس رات گھر پر نہ تھے، اس لئے وہ تو بچ گئے مگر سارا خاندان شہید ہو جانے کا دکھ انہیں جیتے جی مار گیا۔ سانحہ کو یاد کر کے روتے روتے انکی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی اور بستر سے لگ گئے۔ طویل علالت اور غم کی جیتی جاگتی داستان بنے وہ بھی ایک دن رخصت ہو گئے۔ آج اس سانحہ کو بیتے 26سال پورے ہو چکے ہیں۔ شروع میں تو اس سانحہ کو سرکاری سطح پر یاد کیا جاتا تھا تاکہ نئی نسلوں کو معلوم کہ کشمیریوں نے خونی لکیر میں کس قدر خون کی ندیاں بہائی ہیں مگر پھر روایتی بے حسی حکمرانوں پر غالب آ گئی۔
شہدا کو ڈبسی کے مقام پر سپردخاک کیا گیا جہاں ایک صف میں 14 قبریں اور قبرستان کے دروازے پر لکھی عبارت اس داستان کو زندہ رکھے ہوئے ہے جبکہ لنجوٹ ہائی سکول اور گراونڈ کو شہدائے لنجوٹ سے منسوب کیا گیا۔ 26 سال گزر جانے کے باوجود حکومت پاکستان نے ان لاشوں کے سر اور بازو وں کابھارت سے واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔
رپوٹ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائرلائن کی خلاف ورزیاں کل کی طرح آج بھی جاری ہیں سیز فائر لائن کے پاس سینکڑوں لوگ شہید اور معذور اور اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں مگر جو بربریت 25 فروری 2000کو بھارتی کمانڈوز نے کی تھی اس کی مثال نہیں ملتی اس سانحہ کے بعد سے اب تک سردار عبدالحمید کا گھر ویرانی کے عالم میں بھارتی دہشتگردی کی کہانی بیان کر رہا ہے ۔ شہدئے لنجوٹ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں مختلف مقامات پر تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ سردار حمید کے گھر برسی کی تقریب میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، قرآن خوانی کی محفلیں بھی کی گئی اور شہدا کیلئے دعائیں بھی مانگی گئی۔
بھارتی کمانڈوز نے جس گھر میں کارروائی کی وہ گھر سیز فائر لائن سے چند میٹر کے فاصلے پر ہے اور اب اس گھر میں کوئی نہیں رہتا البتہ اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے تھوڑا پیچھے ہٹ کرایک کچا مکان تعمیر کیا ہوا ہے جس میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد مقیم ہیں۔
آزادکشمیر کے ضلع بھمبر کے علاقہ سیری بنڈالہ میں بھی ایک اس طرح کی کاروائی میں بھارتی فوج نے ایک گائوں سیری بنڈالہ میں بائیس افراد کو ماردیا تھا.
لنجوٹ اوراس کے گرد ونواح کے دیہات گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی فوج کی گولہ باری کا شکار ہیں اورعام شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونا روز کا معمول ہے آج ان عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے امید ہے کہ سبز علی خان ملی خان راجولی خان سمیت زندہ کھالیں کھنچوا کر تاریخ رقم کرنے والوں کی نسل شہداء لنجوٹ کا خون ضرور رنگ لائے گا اورمتنازعہ منقسم ریاست ایک آزاد ملک کے طور سامنے آئے گی۔
واپس کریں