دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماہِ رمضان بندہ پروری کا مہینہ یا چیلہ پروری کی بہار
No image (گوشہ افکار ۔خلیل الرحمٰن )رمضان شریف آتا ہے تو گویا اللہ کی رحمتوں برکتوں کا خزانہ کھل جاتا ہے، مغفرت کا دروازہ وا ہو جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند، شیطان زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں۔ اور ہم مسلمان بھائی؟ ہم تو گویا نئے سرے سے مسلمان بننے کی ٹریننگ لینے لگتے ہیں!مگر افسوس! ہماری اس ٹریننگ کا انداز کچھ عجیب ہوتا ہے،آتے ہی رمضان، ہمارے پیارے دکاندار بھائیوں پر گویا "ایثار و سخاوت" کی ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ ہر چیز کے دام پہلے سے دو چند! بس ایسا لگتا ہے جیسے اعلان ہوا ہو: "مؤمنو! روزے رکھو اور بھوکے پیاسے رہو، ہاں مگر پیٹ پر پتھر باندھنے کا خرچہ بھی کچھ زیادہ ہی دے دیا کرو!"
بندہ پرور! سچ تو یہ ہے کہ اب ہمارا رمضان ’صبر و شکر‘ کا نہیں بلکہ ’کبر و کتر‘ کا مہینہ بن گیا ہے۔ جیسے ہی ہلالِ عید کی آمد آمد ہوتی ہے، بازاروں میں وہ اودھم مچتا ہے کہ الامان و الحفیظ! قصائی سے لے کر حلوائی تک، سب کے تیور بدلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو کل تک کوڑیوں کے مول بکتا تھا، آج وہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہے اور سیٹھ جی کی تجوری گرم!
​اس صورتِ حال پر کسی من چلے نے کیا خوب کہا ہے:
​روزہ رکھا تو یوں کہ بس افطار پر ہے آنکھ
گویا خدا کے واسطے فاقہ کیا گیا
آٹا، چینی، گھی، بسکٹ، چائے پتی - سب کی قیمتیں گویا معراج پر جا پہنچتی ہیں۔ مسلمان بھائیوں کے روزے کھلوانے کی اتنی سبیل؟ اللہ اللہ! کبھی سوچا ہے کہ افطار کے وقت کھجور اور پانی سے روزہ کھولنا سنت ہے، مگر ہمارے ہاں تو گویا سنت نبویؐ سے بڑھ کر سنت بازاری رائج ہو جاتی ہے!
یوں لگتا ہے جیسے ہر خوانچہ فروش کے کان میں کسی نے کہہ دیا ہو:
“میاں! یہی تو کمانے کے دن ہیں، ورنہ سارا سال تو مکھی ہی مارتے ہو!”
دہلی کے ایک سخن فہم نے کیا خوب کہا تھا
روزہ رکھا ہے کہ قیمت نہ بڑھے گی اپنی
لوگ کہتے ہیں کہ بازار چڑھا جاتا ہے
افطار کا وقت قریب آیا تو دسترخوان ایسے سجے کہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے کی ضیافتیں بھی پانی بھریں، مگر پڑوسی کا چولہا ٹھنڈا ہے اس کی خبر لینے کی فرصت نہیں۔
زبان پر تسبیح، دل میں منافع کی گرہ سبحان اللہ! کیا کہنے اس پارسائی کے۔
زکوٰۃ و خیرات کا حال تو یوں ہے کہ لینے والے بھی کیا غضب کے طرحدار نکلے۔ ایسے ایسے قرینے ایجاد ہوئے کہ اگر میر تقی میر زندہ ہوتے تو کہہ اٹھتے
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
رمضان آتے ہی خیرات لینے کے نئے انداز ایجاد ہونے لگتے ہیں۔ کوئی "فلان بینک" کے ذریعے زکوٰۃ بٹور رہا ہے، کوئی "مشنری" کے نام پر چندے اکٹھے کر رہا ہے، کوئی "بلیٹن" نکال رہا ہے کہ ہمارے ادارے میں زکوٰۃ دے کر دگنا ثواب کمائیں
کہیں سفید پوشی کا دوپٹہ اوڑھ کر قطار میں کھڑے ہیں، کہیں مستحق کا بھیس بدل کر رسیدیں کاٹ رہے ہیں۔ لینے والے بھی چالاک، دینے والے بھی نام کے طالب گویا نیکی بھی اشتہار بن گئی
اب تو خیرات بانٹنے کا بھی وہ وہ "اندازِ دلبرانہ" ایجاد ہوا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ غریب کو بلوا کر اس کی تذلیل کی جاتی ہے، تصویریں کھینچی جاتی ہیں جیسے کوئی عالمی ایوارڈ دیا جا رہا ہو۔ ادھر پیشہ ور فقیروں کا وہ حال کہ نئے نئے بھیس بدل کر، ہاتھ میں لمبا چوڑا شجرہ لیے، ایسی لجاجت سے مانگتے ہیں کہ اچھا بھلا مغل بچہ چکرا جائے۔
کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی شیاطین کو ایسی مضبوط ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں کہ بیچارے سارا مہینہ “قیدِ بے مشقت” کا مزہ لیتے رہتے ہیں۔ مگر ادھر حضرتِ انسان ہیں کہ گویا شیطان کی غیرحاضری میں اس کے قائم مقام مقرر ہو جاتے ہیں وہ بھی تنخواہ اور مراعات کے بغیر!
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شیطان نے جاتے جاتے اپنے مریدوں سے کہہ دیا ہو:
“بھئی! ہم تو ایک مہینے کو چلے، تم ہمارے کام میں فرق نہ آنے دینا!”
اور ہمارے احباب ہیں کہ اس وصیت کو ایسے نبھا رہے ہیں جیسے کسی پیر کا عہد ہو۔
حضرتِ انسان" اپنی آستینیں چڑھا کر میدان میں ایسے اترتے ہیں کہ شیطان بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہوگا: "میاں! میں نے تو صرف وسوسہ ڈالا تھا، یہ ذخیرہ اندوزی، یہ گراں فروشی اور یہ زکوٰۃ کے نام پر ڈرامے بازی تو ان کی اپنی 'ایجادِ بندہ' ہے!"
​بقولِ شاعر:
​وہ قید ہے تو کیا، یہ مرید تو آزاد ہیں
ابلیس کے بغیر بھی اب کارخانے آباد ہیں
​​ہم نے شیطان کا بوجھ کتنا ہلکا کر دیا ہے۔ وہ تو بیچارہ قید خانے میں پڑا ہانپ رہا ہوگا، مگر یہاں بازار میں سیٹھ جی بیٹھے تسبیح کے دانوں پر "سبحان اللہ" کہتے جا رہے ہیں اور گاہک کی جیب پر ایسا ہاتھ صاف کر رہے ہیں کہ جیب کترے بھی پناہ مانگیں۔
​پھل والا اپنا راگ الاپتا ہے کہ "باؤ جی! قیمت مت پوچھیے، بس نیکی سمجھ کر لے جائیے اور قیمت ایسی کہ بندہ اپنی گردن ہی گروی رکھ دے
​تاجر صاحب کہتے ہیں بھئی رمضان ہے، جھوٹ نہیں بولوں گا اور پھر ایسا سفید جھوٹ بولیں گے کہ صبح کی سفیدی شرما جائے
جب انسان خود ہی شیطان کا "سوفٹ وئیر اپ ڈیٹ" بن جائے، تو پھر گلہ کیسا؟
شیطان تو قید ہے، مگر اس کا "اسکول آف تھاٹ" ہمارے اندر پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔ ہم نے تو وہ وہ کرتب دکھائے ہیں کہ ابلیس بھی باہر آ کر کہے گا: "استاد! مجھے بھی اپنے گروپ میں شامل کر لو، میں تو آپ کے سامنے ابھی کچا کھلاڑی ہوں
شیطان تو قید ہے رمضان میں، مگر
دیکھو ذرا بازار میں کیا ہو رہا ہے
ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں مسلمان
شیطان شاید یہ سب دیکھ کر مسکرا رہا ہے
یہ سب ’گل کھ کھلانے‘ کے بعد جب دعا قبول نہیں ہوتی تو ماتھے پر بل ڈال کر کہتے ہیں: "بھائی! گناہ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اللہ ہماری سنتا ہی نہیں۔" ارے ظالم! پہلے زبان سے وہ حرام کا لقمہ تو نکال جو تو نے یتیم کا حق مار کر کھایا ہے، پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا۔
​زباں پہ ذکرِ خدا، دل میں غرضِ دنیا ہے
عجیب رنگ کا بندوں نے یہ تماشا ہے
​ جب تک ہم اپنی نیتوں میں کھوٹ رکھیں گے اور رمضان کو محض پکوڑوں اور لوٹ مار کا سیزن سمجھیں گے، تب تک یہ شکایت بے سود ہے۔
شیطان کو قید کرنا اللہ کی رحمت ہے، مگر اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نفس کو بھی قید کریں، اپنی خواہشات کو بھی زنجیروں میں جکڑیں، اپنی حرص اور لالچ کو بھی بند کریں۔ ورنہ شیطان کی غیر حاضری میں بھی ہم وہ سب کچھ کر گزریں گے جس سے شیطان بھی شرمائے۔
اللہ میاں تو دلوں کے بھید جانتا ہے، اسے صوم و صلوٰۃ سے زیادہ صلہ رحمی اور سچائی پسند ہے۔
آخر میں ایک بزرگ کا قول یاد آتا ہے:“میاں! روزہ پیٹ کا نہیں، نیت کا رکھا جاتا ہے ورنہ فاقہ تو مفلس بھی کرتا ہے۔”اللہ ہمیں وہ رمضان نصیب کرے جس میں دسترخوان سادہ ہو، دل کشادہ ہو، اور جیب سے پہلے آنکھ نم ہو۔ اللہ ہمیں رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں شیطانِ انسی بننے سے بچائے۔آمین یارب العالمین
واپس کریں