دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایپسٹین فائلز میں کوئی مولوی کیوں نہیں!
یاسر پیرزادہ
یاسر پیرزادہ
آئرش اداکار لیام نیسن کی ایک مشہور فلم ہے Taken، اِس فلم میں نیسن نے ایک ریٹائرڈ سی آئی اے ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے جس کی سترہ سالہ بیٹی کو انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک گروہ پیرس میں اغوا کر لیتا ہے۔ نیسن اپنی بیٹی کی تلاش میں زمین آسمان ایک کر دیتا ہے اور بالآخر مجرمان تک پہنچ جاتا ہے جو اسے بتاتے ہیں کہ اُس کی بیٹی کو مشرق وسطیٰ کے کسی شیخ کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ہے اور وہ کسی بھی لمحے ذاتی بحری جہاز میں بیٹھ کر اپنے ملک نکل سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نیسن وقت پر پہنچ جاتا ہے اور اپنی بیٹی کو اُن کے چُنگل سے نکال لاتا ہے۔ یہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
آج اِس فلم کی کہانی جیفری ایپسٹین کی وجہ سے یاد آئی، وہی جیفری ایپسٹین جسکی منظر عام پر آنے والی ای میلز نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے اور جسے کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کی پاداش میں سزا ہوئی اور وہ جیل میں ہی مر گیا۔ پیشے کے اعتبار سے ایپسٹین خود کو ’فنانسر‘ کہتا تھا، گو کہ اُس کی دولت کے اصل ذرائع پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے مگر اُس نے خود کو ایک بااثر سرمایہ کار کے طور پر ہی پیش کیا۔ اُس نے نیویارک، فلوریڈا اور امریکی ورجن آئی لینڈز میں جائیدادیں بنائیں، اُس کے پاس ایک نجی طیارہ بھی تھا جسے بعد میں میڈیا نے ”لو لیٹا ایکسپریس“ کا نام دیا۔
جیفری ایپسٹین کے خلاف سنگین الزامات پہلی مرتبہ 2000ءکی دہائی میں سامنے آئے جب فلوریڈا میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے شواہد ملے۔ ایک چودہ سال کی بچی کے باپ نے الزام لگایا کہ ایپسٹین نے بچی کا ریپ کیا ہے۔ 2008ءمیں اُس نے ایک متنازعہ ’پلی بارگین‘ (یعنی امریکہ کے این آر او) کے تحت کم سنگین نوعیت کے الزامات تسلیم کیے، جسکے بعد اسے جسم فروشی کے الزام میں سزا ہوئی اور وہ تقریباً تیرہ ماہ جیل میں رہا، مگر اسے ’ورک ریلیز‘ کی سہولت دی گئی جسکے تحت وہ دن کے اوقات میں جیل سے باہر جاسکتا تھا۔ اس معاہدے کو بعد میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وفاقی استغاثہ نے زیادہ سنگین الزامات پر مقدمہ چلانے سے گریز کیا تھا۔ 2008 کی سزا کے بعد بظاہر معاملہ دب گیا تھا مگر متاثرین کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمات اور صحافتی تحقیقات نے کیس کو زندہ رکھا۔
بالآخر جولائی 2019ءمیں نیویارک میں اسے وفاقی الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کیا گیا، اِس بار اس پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور منظم جنسی استحصال کا الزام تھا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس نے 2002ءسے 2005ءکے دوران درجنوں نابالغ لڑکیوں کو اپنے گھروں پر بلایا اور ان کا استحصال کیا۔ گرفتاری کے وقت اسکے نیویارک کے گھر سے بڑی تعداد میں تصاویر اور دستاویزات برآمد ہوئیں۔ ایپسٹین پر باقاعدہ فرد جرم عائد ہوئی مگر مقدمہ مکمل نہ ہو سکا اور وہ 10 اگست 2019 کو نیویارک جیل میں مردہ پایا گیا۔ اُس کی موت نے دنیا بھر میں شکوک و شبہات کو جنم دیا، مگر سرکاری طور پر اسے خودکشی ہی قرار دیا گیا۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جیفری ایپسٹین کی ای میلز اور ریکارڈنگز کی جوبھرمار ہے، یہ امریکی محکمہ انصاف نے جاری کی ہیں۔ یہ سارا مواد ہوش اڑا دینے والا ہے، دنیا کا کوئی سیاستدان یا بااثر شخص ایسا نہیں جو ایپسٹین کے جزیرے پر نہ گیا ہو یا اُس سے رابطے میں نہ رہا ہو، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ جس نے بھی اُس سے ہاتھ ملایا اُس نے بعد میں کسی کم عمر لڑکی کا ریپ ہی کیا۔ لیکن جو ریکارڈنگز اور ای میلز سوشل میڈیا پر موجود ہیں اُن میں امریکی صدور سے لے کر ناروے اور برطانیہ کے شاہی خاندان کے افراد تک، سب موجود ہیں اور کچھ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے یہ کم عمر بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکتیں کر رہے ہیں۔
شروع میں تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ اصل ویڈیوز ہیں کیونکہ جس دیدہ دلیری اور بے شرمی کے ساتھ ’مہذب دنیا کے لیڈران‘ کم سِن بچیوں کو چھُو رہے تھے اسے دیکھ کر شک ہو رہا تھا کہ کہیں یہ جعلی ویڈیوز نہ ہوں۔ اور یہ تمام وہ مرد تھے جو سوٹ اور ٹائی پہنتے ہیں اور وہ عورتیں جو اسکرٹ اور بلاؤز پہنتی ہیں، اِن میں سے کوئی مرد سر پر عمامہ نہیں باندھتا اور کوئی عورت برقع نہیں پہنتی۔جہاں اِن پیڈوفائلز نے یہ حرکتیں کیں وہ کوئی مدرسہ نہیں بلکہ امریکہ میں واقع ایک جزیرہ تھا۔ اِن باتوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بطور پاکستانی ہم اپنی حرکتوں پر مطمئن ہو سکتے ہیں، مدعا صرف اتنا ہے کہ جس مغربی تہذیب کے ہم ہر دم قصیدے پڑھتے ہیں وہ بھی غلاظت میں ہی لتھڑی ہوئی ہے، اُن کے مقابلے میں ہم تو ٹھہرے اَن پڑھ اور جاہل جبکہ وہ ہوئے کانٹ، ہیگل اور نطشے کے پیروکار! Taken فلم میں کم سِن لڑکیوں کا خریداربھی کسی عرب شیخ کو ہی دکھایا گیا ہے نہ کہ سوٹ بوٹ میں ملبوس کسی امریکی سیاستدان کو۔ ایپسٹین کی فہرست میں اگر کسی مولوی، مدرسے کے مہتمم یا کسی داڑھی والے کا نام ہوتا تو اقوام متحدہ سے لے کر ایف اے ٹی ایف تک سب حرکت میں آ چکے ہوتے۔
ہمیں بتایا جاتا کہ یہ وہ انتہا پسند سوچ ہے جو مدرسوں میں پنپتی ہے اور جس کا نتیجہ جنسی درندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ چونکہ سوٹ بوٹ والے ”سر“، ”پرنس“ اور ”مسٹر پریذیڈنٹ“ کا ہے لہٰذا اب معاملہ عدالت کے باہر طے ہونے پر اطمینان کا اظہار کر دیا جائے گا۔ ایپسٹین کو پہلی بار میں صرف اس لیے چھوڑ دیا گیا تھا کیونکہ اُس کے طاقتور لوگوں سے تعلقات تھے، اسی نظامِ انصاف کے تحت جسکی مثالیں ہمیں صبح شام دی جاتی ہیں! مغرب نے برسوں تک ہالی وڈ اور میڈیا کے ذریعے یہ بیانیہ تشکیل دیا کہ مسلمان مرد، خاص طور پر عرب شیوخ یا داڑھی والے افراد، خواتین کیلئے خطرہ ہیں اور جنسی استحصال کے ماہر ہیں۔
فلم Taken جیسی درجنوں فلمیں اِس پروپیگنڈے کا ثبوت ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب پردہ اٹھا تو نہ کوئی شیخ نکلا اور نہ کوئی مولوی، وہاں تو پرنس اینڈریو نکلے ۔ مکرر عرض ہے کہ اِس مقدمے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مدرسے میں بچوں کا استحصال کرنیوالے مولویوں کا دفاع کیا جائے اور کہا جائے کہ دیکھو گورے تو ہم سے بھی بڑھ کر جنسی مریض ہیں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ اگلی بار جب کوئی آپ کو مغربی اقدار کے قصیدے سنائے تو اُس سے سرگوشی کے انداز میں فقط یہ پوچھ لیجیے گا کہ ”یار! وہ ایپسٹین فائلز میں کوئی مولوی کیوں نہیں ملا؟“
بشکریہ جنگ
واپس کریں