
پنجاب میں اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پانے والے کالج اساتذہ کے پوسٹنگ آرڈرز تا حال جاری نہیں کیے جا سکے جس کے باعث ترقی پانے والے اساتذہ میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کالج اساتذہ کی ترقی کے لیے صوبائی سیلیکشن بورڈ مارچ 2025ء میں منعقد ہونا تھا، تاہم وہ کئی ماہ کی تاخیر سے 27 نومبر 2025ء کو ہوا۔ عام طور پر سیلیکشن بورڈ کی سفارشات کی منظوری میں بہت وقت لگ جاتا ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دو ہفتے سے بھی کم وقت میں 8 دسمبر کو سفارشات کی منظوری دیدی۔ اساتذہ توقع کر رہے تھے کہ وزیراعلیٰ سے منظوری کے بعد جلد ہی ان کے پوسٹنگ آرڈرز جاری کر دیے جائیں گے لیکن دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پوسٹنگ آرڈرز جاری نہ ہونے پر اساتذہ شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ غیر معمولی تاخیر کے باعث اساتذہ کی سنیارٹی اور مالی فوائد پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے ان کا ذہنی دباؤ کا شکار ہونا ایک فطری بات ہے۔ یہ کیسی افسوس ناک بات ہے کہ بیوروکریسی ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے دوسرے تمام سرکاری ملازمین اور بالخصوص اساتذہ کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔
اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پانے والے اساتذہ میں کئی اساتذہ اپنے ملازمت کے آخری برسوں میں ہیں اور یہ ان کے لیے ترقی کا آخری موقع ہے لیکن اس پر بھی انھیں تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ نہایت قابلِ افسوس بات ہے کہ اساتذہ کو اپنے ہر مطالبے کے لیے کئی کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے اور متعدد مرتبہ ایسا بھی ہو چکا ہے کہ انھیں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سڑکوں پر آنا پڑا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ اساتذہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں تاکہ پوسٹنگ آرڈرز بلا تاخیر جاری کیے جا سکیں اور اساتذہ کی تشویش کا ازالہ ہو سکے۔ علاوہ ازیں، اساتذہ کے مقام و مرتبے کا خیال کرتے ہوئے انھیں درپیش مسائل کے حل کے لیے مریم نواز شریف وزیر تعلیم اور سکول و ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کو خصوصی ہدایات جاری کریں۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں