دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
زیرزمین پانی میں کمی
No image پنجاب میں زیر زمین پانی کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ پنجاب ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکپتن میں زیر زمین پانی کی سطح میں سالانہ 1.8فٹ گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے‘ اوکاڑہ میں 1.7‘ ساہیوال میں 1.5‘ وہاڑی میں 1.3 جبکہ ملتان میں آبی سطح میں 1.1 فٹ سالانہ گراوٹ آئی ہے۔ یہ بحران صرف چند اضلاع کا مسئلہ نہیں؛ پورے پنجاب بلکہ ملک کے اکثر حصوں میں یہی صورتحال ہے۔
زیرزمین پانی کی بچت کیلئے حکومت کو صوبے میں بارشی اور سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کیلئے آبی ذخائر میں اضافے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے جدید طریقوں کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔ زراعت میں روایتی فلڈ اریگیشن میں سالانہ 30تا 40فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے جبکہ عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ ہائی ایفیشنسی ایریگیشن سسٹمز کے ذریعے 30سے 50فیصد تک پانی بچایا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں آبی ذخائر کی قدرتی ری چارچنگ کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں۔ فصلوں کی کاشت کیلئے پانی کی دستیابی کے مطابق زوننگ کی جائے اور دھان کی کاشت کو ان علاقوں تک محدود کیا جائے جہاں آبی وسائل نسبتاً مستحکم ہوں۔ کسانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پانی کو لامحدود وسیلہ سمجھنے کی سوچ ترک کریں اور آبپاشی کے جدید طریقوں پر منتقل ہوں۔ اگر زیرزمین پانی کی بچت کیلئے آج سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کل پانی کی قلت ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
واپس کریں